آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

زندہ قومیں یوم آزادی جوش و خروش سے مناتی ہیں۔ اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے سماجی سرگرمیاں کافی حد تک محدود رہیں۔ مزار قائد پر جشن آزادی کی دلوں کو گرمانے والی پروقار تقریب جس میں وزیراعلیٰ، گورنر سندھ، صوبائی وزراء، کمشنر اور میئر کراچی، مسلح افواج کے اعلیٰ افسران، کراچی کی معزز شخصیات، غیر ملکی قونصل جنرلز، بزنس کمیونٹی کے لیڈرز کے ساتھ میں اور میرے بھائی اشتیاق بیگ ہر سال شرکت کرتے تھے، اس سال کورونا وائرس کے باعث جشن آزادی کی تقریب محدود پیمانے پر منعقد کی گئی لیکن پورے ملک کو قومی پرچموں اور برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ 73 ویں جشن آزادی کے موقع پرقومی ٹیلیویژن نے مزار قائد پر خصوصی پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا تھا جس میں میرے ساتھ کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی، سابق وفاقی وزیر قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل، اسٹیل مل کے سابق چیئرمین ایم اے جبار اور نوجوان ڈاکٹر یاسر شریک تھے۔ اس موقع پر میں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ زیرو سے سفر شروع کرنے والے ملک پاکستان نے آج دنیا میں جو مقام حاصل کیا ہے، اس پر ہمیں فخر ہے۔ پاکستان کا شمار ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور 22 کروڑ آبادی کے لحاظ سے پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جبکہ آبادی کا 60فیصد سے زائدحصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں 29 فیصد 15 سے 29 سال کے نوجوان ہیں جو ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں۔ پاکستان مسلم امہ کا پہلا اور دنیا کا ساتواں ایٹمی ملک ہے اور ہماری فوج دنیا کی پانچویں بڑی فوج ہے۔ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع دنیا میں سب سے اہم ہے جس کی سرحدیں مشرق میں بھارت، شمال مغرب میں افغانستان، مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چین سے ملتی ہیں۔ 1947ء میں جب ہمیں آزادی ملی تو ہمارے پاس کوئی صنعت نہ تھی۔ اکتوبر 1947ء میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے سائٹ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈ اسٹیٹ (SITE) میں پاکستان کی پہلی صنعت ’’ولیکا ٹیکسٹائل‘‘ کی بنیاد رکھی اور آج ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر دنیا کے تمام بڑے برانڈز پاکستان سے ایکسپورٹ کررہا ہے۔ پاکستان دنیا میں دوسرا بڑا یارن ایکسپورٹر اور چوتھا بڑا کاٹن پیدا کرنے والا ملک ہے اور ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ 13ارب ڈالر ہے جو ملکی ایکسپورٹ کا تقریباً 55فیصد ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ مینوفیکچرنگ سیکٹر میں پاکستان نے اسٹیل، سیمنٹ، آٹو موبائل، چینی، کھاد، گھی، کیمیکلز، پیٹرولیم مصنوعات، آٹو پارٹس، سرجیکل، اسپورٹس گڈز اور پنکھا سازی کی صنعت میں حیرت انگیز ترقی کی ہے جبکہ سروس سیکٹر میں ملک میں دنیا کا جدید بینکنگ اور انشورنس نظام پایا جاتا ہے۔ ایگریکلچرل سیکٹر میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام، چاروں موسم، زرخیز زمین اور محنت کش کسان عطا کئے ہیں جن کی وجہ سے آج ہم زرعی، ڈیری اور لائیو اسٹاک پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہیں بلکہ گیہوں، چاول اور چینی بیرون ملک ایکسپورٹ کررہے ہیں۔ اگر ہم اپنی ایگریکلچرل اور لائیو اسٹاک مصنوعات کی ملکی پیداوار کی رینکنگ کا موازنہ کریں تو پاکستان دنیا میں پہلے نمبر پر کینو، دوسرے نمبر پر چنا، تیسرے نمبر پر کھجور اور خوبانی، چوتھے نمبر پر کاٹن، پانچویں نمبر پر مچھلی، دودھ، ڈیری مصنوعات اور گنا، چھٹے نمبر پر گندم، ساتویں نمبر پر پیاز، آم اور خشک میوہ جات، آٹھویں نمبر پر قیمتی پتھر اور سنگ مرمر، نویں نمبر پر چینی اور حلال گوشت، دسویں نمبر پر چاول اور سیمنٹ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ کھیلوں کی صنعت میں پاکستان فٹبال بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اسکواش، کرکٹ اور ہاکی میں پاکستان کو دنیا میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ گوگل نے حال ہی میں پاکستان کو ڈیجیٹل دنیا میں تیزی سے ابھرتا ہوا ملک قرار دیا ہے اور پاکستان کو بھارت، انڈونیشیا اور برازیل کے ساتھ شامل کیا ہے جو دنیا کو مزید ایک ارب اسمارٹ فون صارفین فراہم کریں گے۔ پاکستان میں 62 ملین سے زائد اسمارٹ فون صارفین ہیں جبکہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 46 ملین سے زائد ہے جو پاکستان کی آبادی کا تقریباً 22 فیصد ہے۔ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنیوالے 76فیصد صارفین کے موبائل فون پر اوبر یا کریم ایپس موجود ہیں۔ پاکستانی پروفیشنل ڈاکٹرز، انجینئرز، بینکرز اور بالخصوص محنت کشوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور آج وہ ملکی ایکسپورٹ کے برابر 23 ارب ڈالر سالانہ ترسیلات وطن عزیز بھیج رہے ہیں۔ اہم محل وقوع کی وجہ سے چین، پاکستان میں سی پیک منصوبوں میں 64 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہا ہے جس میں سی پیک کا جھومر گوادر پورٹ بھی شامل ہے جسے گیم چینجر کہا جارہا ہے۔

ترقی کے سفرکے ساتھ آخر میں، میں چند اُن اقدامات کا ذکر بھی کرنا چاہوں گا جن سے ہماری معاشی ترقی کو نقصان پہنچا۔ ان میں قیام پاکستان کے بعد جاگیردارانہ نظام، صنعتوں اور اداروں کی نیشنلائزیشن، غیر ملکی کرنسی اکائونٹس کا منجمد کرنا، گورننس، کرپشن اور مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا وغیرہ شامل ہیں آیئے تجدید عہد وفا کریں کہ ہم بابائے قوم کے خواب کو پورا کریں گے جس کیلئے ہمیں قائد کے سنہری اصولوں اتحاد، تنظیم اور یقین محکم کو اپنانا ہوگا۔ پاکستان زندہ باد۔