• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ن لیگ آل پارٹیز کانفرنس بلائے ہم تیار ہیں، چوہدری منظور


کراچی (ٹی وی رپورٹ)ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ اے پی سی کا ایجنڈا، بیانیہ اور اعلامیہ کی تیاری پر کام ہورہا ہے، ن لیگ میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں،ن لیگ کی قیادت نواز شریف ہی کریں گے، شہباز شریف بطور صدر پارٹی کو لیڈ کریں گے،نواز شریف کا بیانیہ ہی آل پارٹیز کانفرنس میں پارٹی کا بیانیہ ہوگا،حکومت نواز شریف کو واپس لانے کیلئے جو کرنا چاہتی ہے کرلے۔ وہ جیوکے پروگرام ”نیا پاکستان شہزاد اقبال کے ساتھ“ میں میزبان ذوہیب حسن سے گفتگو کررہے تھے۔ پروگرام میں پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور اور سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی بھی شریک تھے۔چوہدری منظور نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کوئی اتحاد نہیں وقتی ارینجمنٹ ہوتا ہے، ن لیگ آل پارٹیز کانفرنس بلائے یا ہمیں بلانے کیلئے کہہ دے ہم تیار ہیں، مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ ان کا اپنا فیصلہ تھا، جے یو آئی ف کی قانون سازی پر اعتماد میں نہ لینے کی شکایت درست تھی، پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو اپوزیشن تحریک کی قیادت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ارشاد بھٹی نے کہا کہ حکومت کارکردگی رپورٹ میں نیب کی کارکردگی کو اچھا کہتی ہے مگر وزیراعظم عثمان بزدار کیخلاف تحقیقات کو مذاق کہہ دیتے ہیں، شراب پرمٹ کیس میں بات ابھی تک عثمان بزدار تک نہیں پہنچی ہے، نیب کے پاس شراب پرمٹ کے علاوہ عثمان بزدار سے متعلق مزید آٹھ شکایات آئیں،نیب حکومت پر ہاتھ ڈالے تو مذاق ہوجائے جب اپوزیشن کی طرف جائے تو ٹارزن بن جائے ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ن لیگ پنجاب کے صدر رانا ثناء اللہ نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے میں کوئی رکاوٹ یا کنفیوژن نہیں ہے، اے پی سی کی میٹنگ جس دن بھی ہو صبح دس گیارہ بجے ہوگی اور شام چار بجے پریس کانفرنس ہوگی، آل پارٹیز کانفرنس میں ایک دن میں فیصلے نہیں ہوسکتے، اے پی سی کا ایجنڈا، بیانیہ اور اعلامیہ کی تیاری وقت طلب کام ہے اس کیلئے بھرپور کام ہورہا ہے، اپوزیشن جماعتوں کا ایجنڈے پر متفق ہوئے بغیر اے پی سی کی تاریخ کا اعلان کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ شبلی فراز کبھی شہباز گل تو کبھی فردوس عاشق اعوان بننے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، ن لیگ میں اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں، نواز شریف پارٹی قائد اور مقبول لیڈر ہیں، پارٹی میں نواز شریف کی رائے کے خلاف نہ کوئی کبھی گیا ہے نہ کسی میں خلاف جانے کی ہمت ہے، نواز شریف کی رائے سے مشاورت کی حد تک اختلاف کیا جاتا ہے، پارٹی قیادت ایک فیصلہ کردے تو پھر اس پر عمل ہوتا ہے، شہباز شریف یا پارٹی کی سینئر قیادت کا کوئی فیصلہ نواز شریف کی پالیسی سے مختلف نہیں ہوتا ہے، نواز شریف کا بیانیہ ہی آل پارٹیز کانفرنس میں پارٹی کا بیانیہ ہوگا۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اپوزیشن کی مشترکہ قیادت تحریک کو لیڈ کرے گی، اپوزیشن اس نااہل اور سلیکٹڈ حکومت سے عوام کو نجات دلانے پر متفق ہے، پی ٹی آئی کو دھاندلی زدہ اور مینج شدہ الیکشن کے ذریعہ ملک پر مسلط کیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ حکومت نواز شریف کو واپس لانے کیلئے جو کرنا چاہتی ہے کرلے، نواز شریف کی سیر کرتے تصویر آجائے تو حکومت بوکھلاجاتی ہے، ڈاکٹروں کے حکومتی بورڈ نے نواز شریف کا علاج بحال کروانے کی سفارش کی تھی، نواز شریف اب جس ڈاکٹر کے پاس زیرعلاج ہیں وہ ایکسرے اور میڈیسن کا فیصلہ کرے گا، ن لیگ کی قیادت نواز شریف ہی کریں گے، شہباز شریف بطور صدر پارٹی کو لیڈ کریں گے۔پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کوئی اتحاد نہیں وقتی ارینجمنٹ ہوتا ہے، پیپلز پارٹی اپنا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہے لیکن بڑی اپوزیشن پارٹی ہونے کے ناطے ن لیگ کو پہلا قدم اٹھاناہوگا، پیپلز پارٹی نے اے پی سی بلانے کی کئی دفعہ کوشش کی مگر نہیں ہوسکی، ن لیگ آل پارٹیز کانفرنس بلائے یا ہمیں بلانے کیلئے کہہ دے ہم تیار ہیں، پیپلز پارٹی عاشورہ کے بعد اپنے پلان پرکام شروع کردیا ہے۔ چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ تمام جماعتیں اپنی تیاری پوری رکھیں اور کسی وقت بھی اکٹھے ہو کر حکومت کیخلاف نکل آئے، ہر اپوزیشن جماعت اپنے طور پر سڑکوں پر نکلے، مولانا فضل الرحمٰن کا آزادی مارچ ان کا اپنا فیصلہ تھا، مولانا فضل الرحمٰن نے ہم سے پلان اور طریقہ کار شیئر کرنے سے انکار کردیا تھا، ہم نے مولانا صاحب سے جو وعدہ کیا اس سے زیادہ نبھایا تھا۔ چوہدری منظور نے کہا کہ جے یو آئی ف کی قانون سازی پر اعتماد میں نہ لینے کی شکایت درست تھی، انہیں حکومت اور ریاست کی قانون سازی میں فرق کرنا پڑے گا، کوئی نہیں چاہتا پاکستان ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں چلا جائے، اپوزیشن کو حکومت سے مذاکرات کے بجائے پارلیمانی کمیٹیوں میں بلوں پر رائے دینی چاہئے، جے یو آئی ف اور پیپلز پارٹی کا اپنا اپنا نکتہ نظر ہے جو پارلیمانی کمیٹیوں میں بیان کیا جاسکتا ہے۔ چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو اپوزیشن تحریک کی قیادت کرنے کیلئے تیار ہیں، پیپلز پارٹی نے مارچ میں احتجاج شروع کردیا تھا جو کورونا کی وجہ سے معطل کرنا پڑا۔سینئر تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے کہا کہ وزیراعظم نے حکومت کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ میں نیب کی اچھی کارکردگی کو تسلیم کیا دوسری طرف عثمان بزدار کیخلاف نیب تحقیقات کو مذاق کہہ رہے ہیں، نیب حکومت پر ہاتھ ڈالے تو مذاق ہوجائے جب اپوزیشن کی طرف جائے تو ٹارزن بن جائے ایسا نہیں ہونا چاہئے، نیب مراد علی شاہ کو بلائے تو انہیں ضرور آنا چاہئے لیکن عثمان بزدار کو بلائے تو مذاق ہے۔ ارشاد بھٹی کا کہنا تھا کہ شراب پرمٹ کیس میں بات ابھی تک عثمان بزدار تک نہیں پہنچی ہے، ڈی جی ایکسائز نے وعدہ معاف گواہ والے بیان کے ساتھ دو صفحہ کا مجھے معاف کردیا جائے کا بیان بھی جمع کروایا ہوا ہے، جمعرات کو میری عثمان بزدار سے ڈیڑھ د و گھنٹے ملاقات ہوئی۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ نیب کے پاس جس دن شراب پرمٹ کا کیس آیا اسی دن عثمان بزدار سے متعلق مزید آٹھ شکایات آئیں، اس میں ایک لاہور ٹھیکوں کا کیس ہے جس میں مبینہ طور پر تنویر نامی ٹھیکیدار کو سارے ٹھیکے دیئے گئے، اسی طرح تونسہ شریف میں دو ٹھیکیداروں کو سارے ٹھیکے دینے کا الزام ہے، نیب ذرائع کے مطابق عثمان بزدار کے بھائیوں، رشتہ داروں اور فرنٹ مینوں نے زمینیں خریدی ہیں۔

اہم خبریں سے مزید