تحریر: قاری محمد عباس،بریڈ فورڈ برصغیر میں دینی مدارس اور علماء کرام نے جہالت و ناخواندگی کے قلع قمع، علوم و فنون کی تعلیم و اشاعت اور ملت اسلامیہ کی دینی وملی قیات و رہنمائی کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا بلکہ ملک و ملت کے وسیع تر مفاد میں بھی ان مدارس اور علماء کرام کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں، بالخصوص برطانوی سامراج کے ظلم و استبداد اور غلامی و محکومی سے نجات دلانے اور آبنائے وطن کو عروسِ حریت سے ہم کنار کرانے میں مدارس دینیہ اور ان کے قائدین علماء کرام کی بے پناہ قربانیاں ہیں جو کہ سنہری حروف سے لکھی جانے کے قابل ہیں، مدارس دینیہ کے جا نباز اور سرفروش علماء کرام ہی تھے جنہوں نے ملک میں آزادی کا صور اس وقت پھونکا جس وقت عام طور پر علماء کے علاوہ لوگ خواب غفلت میں مست، آزادی کی ضرورت و اہمیت سے نابلد اور احساسِ غلامی سے بھی عاری تھے۔ یہ بھی ایک بڑا قومی المیہ ہے کہ 14/ اگست کے تاریخ ساز اور یادگار قومی دن کے مبارک و مسعود موقع پر جب مجاہدین آزادی کی قربانیوں کو یاد کیا جاتا ہے، ان کو خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے، تو ان علماء کرام اور مجاہدین حریت کو یکسر نظر انداز کردیا جاتا ہے جنھوں نے ملک کی آزادی کی خاطر قید و بند کی صعوبتیں اور اذیتیں برداشت کیں، کبھی مالٹا اور کبھی کالا پانی کی جیلوں میں اذیتیں جھیلیں اور جا ں نثاری و سرفروشی کی ایسی مثالیں قائم کیں جن کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی اور ملک کا چپہ چپہ ان مبارک ہستیوں کی قربانیوں کا چشم دید گواہ ہے۔ ملک کا ایک خاص طبقہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ دینی و اسلامی مدارس، قومی دھارے سے بالکل الگ تھلگ، ملکی و قومی مفادات سے بے پروا ہوکرصرف دینی تعلیم کی اشاعت میں لگے رہتے ہیں، مدراس دینیہ کے فضلاء گرد و پیش کے حالات سے بے خبر اور ملکی و قومی خدمت کے شعور واحساس سے بھی بے نیاز ہوتے ہیں لیکن ماضی قریب میں علماء کرام اور مدارس دینیہ کی قُربانیوں کا خوبصورت ، شاندار اور تابناک ماضی ان جدت پسند تاریخ سے نابلد لوگوں کے اس مفروضہ کو قطعاً غلط اور بے بنیاد قرار دیتا ہے اور تاریخ ہند کی پیشانی پر ثبت، مدارس دینیہ کی ملکی و قومی خدمات اور کارناموں کے نقوش پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مدارس اسلامیہ کے علماء کرام و فضلاء عظام نے ہمیشہ ملکی مفادات کی پاسبانی اور اپنے خون پسینہ سے چمنستان بر صغیر کی آبیاری کی ہے اور ملک کی آزادی کی تاریخ ان قربانیوں سے لالہ زار ہے، چنانچہ ان ہزاروں علماء کرام اور مجاہدین آزادی کی ایک لمبی فہرست ہے جنھوں نے آزادی کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں اور قائدانہ کردار ادا کیا ، اُن میں خصوصاً حضرت مولانا شاہ ولی اللہ دہلوی ، مولانا شاہ عبدالعزیز دہلوی ، مولانا شاہ رفیع الدین دہلوی ، مولانا شاہ عبدالقادر دہلوی ، مولانا سید احمد شہید رائے بریلوی، مولانا سید اسماعیل شہید دہلوی ، مولانا شاہ اسحاق دہلوی ، مولانا عبدالحئی بڈھانوی ، مولانا ولایت علی عظیم آبادی ، مولانا جعفر تھانیسری ، مولانا عبداللہ صادق پوری ، مولانا نذیر حسین دہلوی ، مفتی صدرالدین آزردہ ، مفتی عنایت احمد کاکوری ،مولانا فرید الدین شہید دہلوی ، سید الطائفہ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ، امام حریت مولانا محمد قاسم نانوتوی ، مولانا رشید احمد گنگوہی ، قاضی عنایت احمد تھانوی ، قاضی عبدالرحیم تھانوی ، حافظ ضامن شہید ، مولانا رحمت اللہ کیرانوی ، مولانا فیض احمد بدایونی ، مولانا احمد اللہ مدراسی ، مولانا فضل حق خیرآبادی ، مولانا رضی اللہ بدایونی ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد ، امام انقلاب شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ، مولانا شاہ عبدالرحیم رائے پوری ،مولانا محمد علی جوہر ، مولانا حسرت موہانی ، مولانا شوکت علی رام پوری ، مولانا عبید اللہ سندھی ، مولانا ڈاکٹر برکت اللہ بھوپالی ، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی ، مولانا کفایت اللہ دہلوی ، مولانا سیف الرحمن کابلی ، مولانا وحید احمد فیض آبادی ، مولانا محمد میاں انصاری ، مولانا عزیر گل پشاوری ، مولانا حکیم نصرت حسین فتح پوری ، مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، مولانا ابوالمحاسن سجاد پٹنوی ، مولانا احمد سعید دہلوی ، مجاہد ملت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ، مولانا محمد میاں دہلوی ، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ، مولانا احمد علی لاہوری ، مولانا عبدالحلیم صدیقی ، مولانا نورالدین بہاری وغیرہ آسمان حریت کے وہ تابندہ ستارے ہیں جنھوں نے محکومی و غلامی کی شب دیجور کو تار تار کیا اور ملک کے چپے چپے کو انوار حریت کی ضوفشانی سے معمور کردیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں علماء کرام نے باقاعدہ جنگ میں حصہ لیا، یہ علماء کرام حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور حضرت سید احمد شہید رحمہم اللہ کی سلسلة الذہب (طلائی زنجیر) کی سنہری کڑی تھے۔ اس جنگ کے لیے علماء کرام نے عوام کو جہاد کی ترغیب دلانے کے لئے ملک کے طول و عرض میں وعظ و تقریر کا بازار گرم کردیا اور جہاد پر ابھارنے کا فریضہ انجام دیا نیز ایک متفقہ فتویٰ جاری کرکے انگریزوں سے جہاد کو فرض عین قرار دیا۔ اس فتویٰ نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پورے ملک میں آزادی کی آگ بھڑک اٹھی، 1857ء کی جنگ آزادی مختلف وجوہ و اسباب کی بنا پر ناکام رہی اور آزادی کے متوالوں پر ہولناک مظالم کے پہاڑ توڑڈالے گئے۔ ان میں مسلمان اور بطور خاص علماء، انگریزوں کی ظلم و ستم کا نشانہ بنے، اس لئے کہ انھوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اور علماء کرام نے ان کے خلاف فتویٰ دے کر جہاد کا اعلان عام کردیا تھا، چنانچہ 1857ء سے 14برس پہلے ہی گورنر جنرل ہند نے یہ کہہ دیا تھا کہ مسلمان بنیادی طور پر ہمارے مخالف ہیں اس جنگ میں دو لاکھ مسلمانوں کو شہید کیاگیا جن میں ساڑھے اکیاون ہزار علماء کرام تھے، انگریز علماء کرام کے اتنےسخت دشمن تھے کہ ڈاڑھی اور لمبے کرتے والوں کو دیکھتے ہی پھانسیاں دے دیتے تھے، ایڈورڈ ٹامسن نے گواہی دی ہے کہ صرف دہلی میں پانچ سو علماء کو پھانسی دی گئی ۔علماء کرام کو زندہ خنزیر کی کھالوں میں سی دیا جاتا پھر نذر آتش کردیا جاتا تھا کبھی ان کے بدن پر خنزیر کی چربی مل دی جاتی پھر زندہ جلادیا جاتا تھا۔ اس جنگ میں ناکامی کی بنیادی وجہ افراد ووسائل کی قلت اور تنظیم کی کمی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ علمائے کرام نے جہاد آزادی کے چمن کو اپنے خون جگر سے سینچا اور پروان چڑھایا ہے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے ملک اور قوم کے ہیرو، ان مجاہدین کرام کو خراج عقیدت پیش کریں اور ان کی تاریخ اور کارناموں سے واقفیت حاصل کریں اور ان کے نقوش زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائیں۔