آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سوشل سائنسز میں معاشیات (Economics) سب سے زیادہ اہم مضمون ہے، یہاں تک کہ اسے سوشل سائنسز کا دماغ بھی کہا جاتا ہے۔ ہماری زندگی میں پیدائش سے لے کر جہان ِ فانی سے کوچ کرجانے تک کسی نہ کسی پہلو سے یہ عِلم جڑا رہتاہے۔ گھریلو معاشیات سے لے کر عالمی اقتصادیات کے تمام شعبوں میں ماہرینِ معاشیات کے بہترین فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کسان کھیتوں میں، مزدور کا ر خانوں میں، تاجر دکانوں میں اور کلر ک دفتروں میں سرگرم عمل ہیں جبکہ ڈاکٹر، انجینئر ، پروفیسر، وکیل، ڈرائیور، دھوبی، نائی غرض کہ ہر شخص اپنا اپنا کام کر رہا ہے تاکہ آمدنی حاصل کر کے ضروریات زندگی کی چیزیں خرید سکے۔ انسان کی اسی جدو جہد کا تعلق معاشیات ہے ۔ 

اس کا نفاذ مالیاتی معاملات، صنعت ، مارکیٹنگ اسٹریٹجی اینڈ مینجمنٹ ، ماحولیاتی معاملات، صارفین کے رویّے، مسابقتی حکمت عملیوں، زرعی اختراعات، ہیومن ریسورسز فیسی لیٹیشن اینڈ اکنامک رولز، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، پالیسی میکنگ، منصوبہ بندی، قومی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں، سیاسی و عالمی معاملات ، اسلامک ویلیو آف اکانومی جیسے اہم شعبوں میں اہمیت رکھتا ہے۔ 

علم معاشیات سے صرف حقائق سامنے نہیں آتے بلکہ اس سے دنیا کو سوچنے اور جانچنے کا ایک جامع طریقہ ملتا ہے۔ انسان کی ہر سرگرمی کا معاشیات پر انحصار ہے، اس لئے دنیا اسی کے گرد گھوم رہی ہے۔ محدود وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے میں علم معاشیات ہی سب سے زیادہ مدد کرتی ہے۔ علم معاشیات سے طلبا انتظام ِ دولت کا فن سیکھتے ہیں اور انسانی فلاح و ترقی کے لیے بہترین فیصلے کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ماہرین معاشیات کی ذمہ داریاں

معاشیات یا اکنامکس کی آسان تعریف کی جائے تو یہ اشیا و خدمات سے حاصل ہو نے والی دولت کی تقسیم اور تصرف کا علم ہے۔ ماہرین معاشیات اس بات پر تحقیق کرتے ہیں کہ لوگ کوئی بھی کاروبار کیوں کرتے ہیں اورا س سے حاصل ہونے والی دولت اور ذرائع کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اس علم کی بدولت کمپنیاں اور حکومتیں اپنی رپورٹس تیار کرتی ہیں اور مسقبل کی پیش گوئی کرتی ہیں۔ 

یہ رپورٹس اور معلومات کئی طریقوں جیسے کہ ٹیکس کی پالیسی اور تنخواہوں کے تعین وغیرہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ معلومات کے یہ حصے حریفوں سے مقابلہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ ماہر ین ِمعاشیات نجی یا سرکاری اداروں کے مالیاتی شعبوں میں کام کرتے ہیں یا پھر تعلیمی اداروں میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ کچھ ماہرین انفرادی طور پر مشیر کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے ہیں، جس کے لیے وہ کمپیوٹر ڈیٹا اور ریاضی کی تکنیک کے ساتھ معاشیات سے متعلق تحقیق بھی کرتے ہیں۔

اہلیت اور دائرہ کار

اپنے تجربے کو وسیع کرتے ہوئے آپ ماہر شماریات و مالیات ، سیاستدان، سرمایہ کار بینکار یا فنانس ڈائریکٹر بن سکتے ہیں۔ کسی بھی عہدے تک پہنچنے کے لئے آپ کو تجربے سے پہلے اکنامکس میں بیچلر یا ماسٹر ڈگری حاصل کرنی ہوگی۔ معاشیات کی تعلیم اور تجربہ رکھنے والے افرادبینکاری، تحقیق، مالیات اور صنعت کے شعبوں میں بہترین پیشہ ورانہ مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دوران تعلیم کسی بھی سرکاری شعبے، پبلک سروس کمیشن، نجی بینکوں یا اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں انٹرن شپ کرکے اپنے کیریئر کی راہیں ہموار کرسکتے ہیں۔

ماہر معاشیات دفتری اوقات میں کام کرتاہے لیکن اسے پروجیکٹ مکمل ہونے تک دن رات مصروف رہنا پڑ سکتا ہے۔ اسے بہت زیادہ جوش وخروش سے کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماہر معاشیات اپنی آزادانہ تحقیق کرسکتا ہے اور کیریئر کے دوران نئی مہارتیں بھی سیکھتا رہتا ہے۔ نئے کلائنٹس کی تلاش میں بعض اوقات اسے ملک سے باہر بھی سفر کرنا پڑتا ہے۔

معاشیات کی اہمیت و ضرورت

کوئی بھی شعبہ ہو جیسے صحت، تعلیم ، حکومت ، فنانس ، مارکیٹ ،تحقیق، ماحول وغیرہ، ان سب میں ماہرین معاشیات کی ضرورت پڑتی ہے۔ معاشیات کی ضرورت یا ماہر معاشیات کی خدمات نجی و سرکاری تحقیقی گروپس کے لیے بھی پڑتی ہے جو ایک نئی معاشی پالیسی کی تجویز دے سکتا sہے۔ ماہر معاشیات کسی بھی ادارے کی معاشی اور مالیاتی سرگرمیوں کی نگرانی کرتا ہے۔

وہ مالیاتی گوشوارے تیار کرتا ہے اور بزنس کے مقاصد اور اخراجات کا ذمہ دار ہوتاہے۔ ماہر معاشیات بننے کے لیے صرف معاشیات کا علم ہونا ہی کافی نہیں ہوتا، اس کے ساتھ ساتھ دوسرے علوم بھی حاصل کرنے ہوتے ہیں تاکہ معاشی پالیسیاں بنائی، سمجھائی اور نافذ کی جاسکیں۔ آپ کے معاشیات کا امتزاج میتھ میٹکس، بزنس اسٹڈی، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، فلسفہ یا سیاسیات کے ساتھ بن سکتا ہے۔

معاشی نظام کا مقصد

کوئی بھی معاشی پالیسی، معاشی مسئلہ کے مختلف پہلوئوں کو مد نظر رکھ کر بنانی چاہئے تاکہ تمام انسانوں کو ان کی ضروریاتِ زندگی بہم پہنچانے کا انتظام ہوسکے اور معاشرے کے تمام افراد اپنی اپنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق ترقی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنےطرز زندگی میں بہتری لانے اور اپنی لیاقت کو اوج ِکمال دینے کے مواقع حاصل کریں۔ 

معاشرے کے ہر فرد کو چاہے وہ بوڑھا ہو یا بچہ ، مرد ہو یا عورت، بلاصنفی امتیاز اسے اپنا سامان حیات میسر ہو، جس کے بغیر وہ اطمینان و سکون سے زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اپنے فرائض و واجبات درست طریقے سے اد اکرسکتا ہے۔ 

یعنی سماجی طبقے میں ہر ایک کے لیے روٹی ،کپڑ ا اور مکان کے ساتھ ساتھ تعلیم ، صحت اور روزگار کے مواقع میسر ہوں اور کوئی بھی فرد بنیادی ضرورتوں سے محروم نہ ہو، یہ ایک فلاحی ریاست کا تصور ہے۔