آپ آف لائن ہیں
منگل 2ربیع الاول 1442ھ20؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا ’انٹرپرینیورشپ‘ نئے دور کا MBA ہے؟

1980ء اور 1990ء کے عشرے میں امریکا میں کامیابی اور دولت کے متمنی ہر شخص کے لیے وال اسٹریٹ ’امریکن ڈریم‘ کی حیثیت رکھتی تھی اور وہاں اعلیٰ سطح کی ایگزیکٹو جاب اور پُرکشش تنخواہ کے لیے ’ایم بی اے‘ کو ’الٹی میٹ پاتھ‘ کا درجہ حاصل تھا۔ آج تین دہائیوں کے بعد صورتِ حال بدل چکی ہے۔2008-2007کے مالیاتی بحران کے بعد ’ایگزیکٹوجاب‘ اور ’ہینڈسم سیلری‘ کا خواب دیکھنے والے بلندنظر نوجوان پیشہ ورانہ زندگی میں کامیابی اور پیسے کے لیے وال اسٹریٹ اور مالیاتی شعبے کی دنیا کے باہر دیکھ رہے ہیں۔ ٹیکنالوجی کی صنعت جو کہ اس وقت نسبتاً ترقی اور عروج کے ابتدائی مراحل میں ہے، اب نئے ’امریکن ڈریم‘ کی حیثیت حاصل کرچکی ہے۔

انڈسٹری ڈیٹا پر نظر رکھنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ فنانس اور کنسلٹنگ کی جگہ اب ٹیکنالوجی انڈسٹری، صفِ اوّل کے کالجوں سے گریجویٹ ہونے والے طلبا کی اولین پسند بن چکی ہے۔ امریکی ڈیٹا کمپنی ’کامینو ڈیٹا‘ کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈیوڈ مینک اس صورتِ حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں، ’’2003ء میں جب میں نے پرنسٹن کو جوائن کیا، اس وقت تک بھی MBAیا JD/MBAکرنے کو بڑی بات سمجھا جاتا تھا اور یہ ڈگری حاصل کرنا ہر طالب علم کی اولین خواہش ہوتی تھی۔ 

صرف 4سال بعد جب میں MBAمکمل کرکے پرنسٹن سے نکلنے والا تھا، اس وقت مجھے اچانک محسوس ہوا کہ ہم سب بزنس کی تعلیم مکمل کرنے پر خوشی کے شادیانے بجانے کے بجائے انٹرپرینیورشپ میں زیادہ دلچسپی رکھتے تھے۔ ہمارے سامنے ایسے لوگ تھے جنھوں نے ٹیکنالوجی کے شعبے میں کامیاب کاروبار کی بنیاد ڈال دی تھی۔ ہم دیکھ رہے تھے کہ اس شعبے میں اِنٹری کے لیے بہت کم رکاوٹیں تھیں اور اگر وہاں آپ ناکام بھی ہوجائیں تو اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا‘‘۔

’وال اسٹریٹ‘ کی جگہ اب ’سیلیکون ویلی‘ کو ’امریکن ڈریم‘ سمجھا جاتا ہے۔ امریکا کی مشہور ’سیلیکون ویلی‘، جہاں مارک زکربرگ کے موٹو Move fast and break thingsکو کامیابی کے لیے رہنما اصول سمجھا جاتا ہے، یہاں ایم بی اے کو کم کارآمد کموڈیٹی تصور کیا جاتا ہے۔ ’’جب میں نے صفِ اوّل کے بزنس اسکول سے ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والے نوجوانوں یا بڑی بیوریج کمپنیوں میں کام کا تجربہ رکھنے والے پروفیشنلز کے انٹرویو کیے تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کی شخصیت ہمارے جیسی نئی اور تیز ترقی کی خواہش رکھنے والی کمپنی کے لیے موزوں نہیں ہوگی‘‘، ڈیوڈ مینک مزید کہتے ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ کسی باقاعدہ ماسٹرز ڈگری کے مقابلے میں ’ٹیک اسٹارٹ اَپ‘ میں کامیاب ہونے کے لیے محنت کا جذبہ، دُرست ہنر پر دسترس ہونا اور نئی ثقافت میں خود کو تیزی سے ڈھالنے جیسی خصوصیات زیادہ اہمیت کی حامل ہیں۔ یہ رجحان امریکا کے بزنس اسکولز میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے آنے والے طلبا کی تعداد میں کمی سے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ’کرونیکل آف ہائر ایجوکیشن‘ رپورٹ کے مطابق، امریکا میں مسلسل چوتھے سال ایم بی اے پروگرام کے لیے درخواست دینے والے طلباکی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے جبکہ کئی بزنس اسکولوں نے سرے سے اپنا روایتی، کُل وقتی ’آن کیمپس‘ ایم بی اے پروگرام ختم کردیا ہے۔ یونیورسٹی آف ایلی نوائے جیئز کالج آف بزنس ان میں سے ایک ہے۔ اس کے بجائے یہ اسکولز iMBAپر زیادہ توجہ اور محنت کررہے ہیں، جس میں امریکی طلبا کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

روایتی ایم بی اے پروگرام کے بجائے امریکی بزنس اسکول، ڈیٹا سائنس اور سپلائی چین مینجمنٹ جیسے ’ہائی ڈیمانڈ‘ شعبہ جات میں، نسبتاً مختصر مدت اور کم لاگت کے ماسٹرز پروگرامز پیش کررہے ہیں۔ مائکروسوفٹ اور آئی بی ایم جیسی کمپنیوں نے ان بدلتے ہوئے رجحانات کو بھانپتے ہوئے آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ڈیٹا اینالیٹکس جیسے شعبوں میں اِن ہاؤس ڈگری پروگرام متعارف کروائے ہیں تاکہ ان کے ملازمین انھیں چھوڑ کر کسی اور کمپنی میں شمولیت اختیار نہ کریں۔

یہ بات اس لیے بھی حیران کن نہیں کہ امریکا میں ایم بی اے ڈگری کے حصول پر ایک لاکھ ڈالر سے دو لاکھ ڈالر لاگت آتی ہے اور یہ بات ایسے کئی 20سال کے نوجوانوں کو ایم بی اے کی دوڑ سے پیشگی باہر کردیتی ہے، جو کالج تک پہنچتے پہنچتے پہلے ہی انڈرگریجویٹ قرضوں کے بوجھ تلے دَب جاتے ہیں۔ انٹرپرینیورشپ میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان اس پر صرف ہونے والے وقت اور پیسے کو اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کی بنیاد ڈالنے اور کامیابی کی شاہراہ پر گامزن کرنے پر خرچ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یونحا کِم ’سِمپل ہیبِٹ‘ اسٹارٹ اَپ کی بانی اور چیف آپریٹنگ آفیسر ہیں۔ انھیں مایہ ناز اسٹینفورڈ گریجویٹ اسکول آف بزنس میں داخلہ لینے کے تھوڑے ہی دنوں میں محسوس ہوا کہ ایک عالمی طور پر اچھی ساکھ کے حامل اسکول سے ایم بی اے کی ڈگری بھی انھیں زندگی میں وہ نہیں دے پائے گی، جس کی وہ خواہش رکھتی ہے۔ 20سالہ یونحا کِم نے پہلے ہی سیمسٹر کے بعد اسٹینفورڈ کو خیرباد کہتے ہوئے اپنی میڈی ٹیشن (مراقبہ) ایپ لانچ کردی۔ وہ کہتی ہیں، ’’میں نے اسٹینفورڈ جی ایس بی کو اپنا پروفیشنل نیٹ ورک بنانے کے لیے جوائن کیا تھا۔ وہاں میں نے ’سِمپل ہیبِٹ‘ کو ایک تجرباتی پروجیکٹ کے طور پر شروع کیا اور اپنی بچت سے ایک انجینئر کی خدمات حاصل کیں اور ایپ کو لانچ کردیا‘‘۔

حرفِ آخر

ہرچندکہ جنریشن Zسے تعلق رکھنے والے ساتویں سے بارھویں جماعت کے طلبا کارپوریٹ سیکٹر میں نوکری کرنے کے بجائے ’اپنا کاروبار‘ کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں لیکن اعدادوشمار کے مطابق ہر 10میں سے 9اسٹارٹ اَپ ناکام ہوجاتے ہیں اور اکثر اسٹارٹ اَپس مطلوبہ سرمایہ کاری حاصل نہیں کرپاتے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انھیں اپنے وسائل سے سرمایہ کا بندوبست کرنا پڑتا ہے۔

اس کے برعکس روایتی بزنس ڈگری کے حامیوں کا ماننا ہے کہ ایم بی اے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ طلبا کو پروفیشنل نیٹ ورکنگ فراہم کرتی ہے، جہاں مستقبل کے باصلاحیت لیڈرز کا ایک ایسا گروپ وجود پاتا ہے، جو پروفیشنل سفر میں ہر موقع پر آپ کے لیے مواقع اور ترقی کے دروازے کھولتا ہے۔