آپ آف لائن ہیں
جمعرات11؍ ربیع الاوّل 1442ھ 29اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

محمد حمزہ

پیارے بچو، آج ہم آپ کو ماچس کی کی ایجاد کے بارے میں بتا رہے ہیں۔ یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آگ ،جہاں خطرناک ہے، وہاں ضرورت بھی ہے۔ انسان لاکھوں برس سے آگ کا استعمال کرتا آرہا ہے۔ قدیم زمانے میں پتھر کو رگڑ کر آگ جلائی جاتی تھی ۔کوئی بھی ایسی چیز ایجاد نہیں ہوئی تھی، جس کے ذریعے آسانی سے آگ جلائی جا سکے۔ آخر ایک برطانوی ادویات ساز سے اتفاقاََ ماچس ایجاد ہوگئی۔ یہ 1826ء کا واقعہ ہے۔ 

جان واکر چند کیمیائی مادوں کو ایک برتن میں ایک تیلی کے ذریعے آپس میں ملا رہاتھا۔ اس نے دیکھا کہ تیلی کے سرے پر ایک سوکھا ہوا گولا سا بن گیا ہے۔ اس نے غیر ارادی طور سے تیلی کے سرے کو رگڑ کر سوکھا ہوا مادہ اتارنے کی کوشش کی تو ایک دم آگ جل اٹھی۔ اس طرح بالکل اتفاقاً ماچس ایجاد ہو گئی۔ اس نے اس ماچس کا نام ’’فرکشن لائٹس‘‘ رکھا ۔ تِیلیاں تین اینچ لمبی تھیں۔ ڈبیا کےایک طرف ریگ مال لگا ہوا تھا، جس پر تیلیوں کو رگڑ کر جلایا جاتا تھا۔

اس کے بعدسیموئل جونز نے ماچس کی نقل بنائی۔ اس نے اپنی ماچس کا نام ’’لوسی فر‘‘ رکھا۔ اس کی تیلیاں چھوٹی تھیںاور ڈبیا بھی چھوٹی تھی، جسے ساتھ رکھنا آسان تھا۔ آگ جلانے کے لیے سلفر استعمال کیا جاتا تھا ۔ فرانسیسی کیمیا داں ژاں چینسل نے 1805ء میں پہلی ایسی ماچس ایجاد کی، جس کی تیلیوں کے سرے پر چینی اور پوٹاشیم کلوریٹ لگایا جانے لگا۔ اس سرے کو مرتکز سلفیورک تیزاب میں ڈبو کر جلایا جاتا تھا۔ ژاں چینسل کی بنائی ہوئی ماچس کی تیلیاں جلانا خطرناک تھا۔ 

کیمیائی مادوں کا آمیزہ کلورین ڈائی آکسائیڈ نامی پیلے رنگ کی بدبودار گیس پیدا کرتا تھا، جو کسی بھی چیز سے چھونے پر بھک کر کے پھٹ جاتی تھی۔ آج کل ماچس سرخ فاسفورس سے بنائی جاتی ہیں۔سرخ فاسفورس زہریلی نہیں ہوتی۔ اسے جوہان ایڈورڈ لنڈسٹروم نے دریافت کیا تھا۔