• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم کی مانیٹرنگ، برٹش مسلم ٹرسٹ کا باضابطہ آغاز

--علامتی فوٹو
--علامتی فوٹو

میٹروپولیٹن پولیس کے سربراہ سر مارک رولی نے کہا ہے کہ پولیس کو نفرت پر مبنی واقعات کے بارے میں جاننا ضروری ہے، چاہے وہ جرائم کے زمرے میں نہ بھی آتے ہوں۔

انہوں نے یہ بات پارلیمنٹ کی عمارت میں برٹش مسلم ٹرسٹ کے باضابطہ آغاز کے موقع پر کہی۔

حکومتی معاونت سے چلنے والی اس تنظیم کو گزشتہ موسمِ گرما میں برطانیہ میں مسلم مخالف نفرت انگیز واقعات کی مانیٹرنگ کے لیے قائم کیا گیا تھا، تقریب میں تنظیم نے نفرت انگیز واقعات کی رپورٹنگ کے لیے اپنی ہیلپ لائن کا بھی باقاعدہ آغاز کیا۔

میٹ کمشنر سر مارک رولی نے ٹرسٹ کی چیف ایگزیکٹو عقیلہ احمد کے سوالات کے جواب دیے، ان سے اُن غیر مجرمانہ نفرت انگیز واقعات کے بارے میں پوچھا گیا جن کی تفتیش فورس نے گزشتہ سال روکنے کا اعلان کیا تھا، جس پر ان کہنا تھا کہ یہ ایسے واقعات ہوتے ہیں جو قانونی طور پر جرم نہیں سمجھے جاتے، مگر انہیں نسل، مذہب یا جنس جیسی خصوصیات کی بنیاد پر نفرت انگیز سمجھا جاتا ہے۔

جب عقیلہ احمد نے کہا کہ میٹ کے اس اعلان نے متاثرین اور کمیونٹیز میں الجھن پیدا کردی تھی تو سر مارک رولی نے جواب میں کہا کہ پولیس کو ایسے معاملات میں ’ریفری بننے‘ پر مجبور کیا گیا جو آزادی اظہار کی حد کو چھونے لگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایسے معاملات کی تفتیش شروع کردیں جنہیں پارلیمنٹ نے غیر قانونی قرار ہی نہیں دیا، تو یہ اختیارات سے تجاوز ہوگا اور میرے خیال میں یہ مناسب بھی نہیں ہوگا۔

کمشنر سے اُن پولیس افسران کے بارے میں بھی سوال کیا گیا جنہیں بی بی سی پینوراما کے ایک دستاویزی پروگرام میں دکھایا گیا جس میں خفیہ فلم بندی میں انہیں نسل پرستانہ اور جنسی امتیازی تبصرے کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

سر مارک نے کہا کہ یہ ’کوئی راز نہیں‘ کہ میٹ نے ’اپنے دیانت داری کے مسائل پر گرفت کھو دی تھی‘، اور وہ کمشنر بن کر آئے ہی اس مسئلے کو ’درست کرنے‘ کے لیے تھے۔

اس موقع پر مئیر لندن سر صادق خان نے 1970 کی دہائی میں لندن میں اپنے بچپن میں نفرت کا سامنا کرنے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسند ہماری حاصل کردہ ترقی کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تقریب میں ویمن اینڈ ایکوالٹیز کمیٹی کی چیئرپرسن سارہ اوون، مذہب و کمیونٹیز کی وزیر میاٹا فاہنبُلہ، اور پروفیشنل رگبی کھلاڑی زینب علیمہ بھی شریک تھیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید