بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر غازی آباد میں گزشتہ ہفتے بظاہر والدین کی جانب سے آن لائن گیم کھیلنے پر پابندی لگانے پر 3 کم عمر بہنوں نے عمارت کی 9 ویں منزل سے کود کر خودکشی کر لی تھی لیکن اب تفتیش کے دوران تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق تفتیش کے دوران خودکشی کرنے والی لڑکیوں کے والد چیتن کمار نے اپنا بیان بار بار بدلا۔
چیتن کمار نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا کہ اس نے دوسری شادی اس لیے کی کیونکہ اس کی پہلی بیوی ماں نہیں بن سکتی تھی لیکن اس کے اس بیان اور اس کے بچوں کی عمروں میں تضاد تھا۔
پولیس کے مطابق چیتن کمار نے اپنے بیانات کو کئی بار اس لیے بدلا کیونکہ وہ اپنی تیسری شادی کو چھپانا چاہتا تھا۔
پولیس نے بتایا کہ چیتن کمار اپنی 3 بیویوں اور 5 بچوں کے ساتھ غازی آباد کے 3 کمروں کے فلیٹ میں رہتا ہے، پہلی بیوی سے اس کی ایک بیٹی اور ایک ذہنی طور پر معذور بیٹا ہے۔
پولیس کے مطابق چیتن کمار نے پہلی شادی 2010ء میں کی اور پھر مزید بچوں کی خواہش پوری کرنے کے لیے پہلی بیوی کی بہن سے 2013ء میں دوسری شادی کر لی جس سے اس کی 2 بیٹیاں پیدا ہوئیں اور تیسری شادی اس نے 2023ء میں کی۔
پولیس نے بتایا ہے کہ چیتن کمار نے دوسری شادی کی جو وجہ بتائی وہ اس کی بڑی بیٹی کی عمر سے تضاد رکھتی ہے۔
پولیس کے مطابق چیتن کمار کی تینوں بیٹیوں نے عمارت کی 9 ویں منزل سے کود کر خودکشی کر لی ہے اور تفتیش کے دوران ایک اور عجیب انکشاف یہ ہوا ہے کہ فلیٹ میں 3 کمرے ہونے کے باوجود بھی سب ایک ہی کمرے میں سوتے تھے۔
پولیس نے بتایا ہے کہ چیتن کمار بیٹیوں کی خودکشی کے بارے میں اپنے مؤقف پر قائم رہا کہ بیٹیاں کورین گیمز کھیلنے کی عادی ہو گئی تھیں جس کی وجہ سے اس نے اپنی بیٹیوں سے موبائل چھین لیے تھے۔
پولیس کے مطابق چیتن کمار جو کہ ایک اسٹاک بروکر ہے، اس وقت 2 کروڑ روپے کے قرضے میں ڈوبا ہوا ہے، مالی مسائل کی وجہ سے ناصرف اس نے بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے اپنی بیٹیوں کے موبائل فون فروخت کر دیے بلکہ کورونا کی وباء کے بعد سے اپنی بیٹیوں کو اسکول بھی نہیں بھیجا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق چیتن کمار کے بار بار بیانات تبدیل کرنے کی وجہ سے پولیس اس کی بیٹیوں کی موت کی اصل وجہ جاننے کے لیے مزید تفتیش کر رہی ہے۔