آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

منہگائی پہلے بھی کم نہ تھی، لیکن گزشتہ دو برسوں کے دَوران تو ہر شئے کی قیمتوں کو گویا پَر لگ گئے ہیں۔ اگر اشیائے خورو نوش کی بات کی جائے، تو سبزیاں، دالیں، گوشت، خوردنی تیل، دودھ، دہی غرض کوئی چیز ایسی نہیں، جو مسلسل منہگی نہ ہوتی جا رہی ہو۔کم آمدنی والوں کا تو کیا ذکر، متوسّط طبقہ بھی اِس ہوش رُبا منہگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہے اور یہ صُورتِ حال کسی ایک صوبے تک محدود نہیں، پورا مُلک ہی اِس’’ وَبا‘‘ کی لپیٹ میں ہے۔ اگر قدرتی معدنیات سے مالا مال صوبے، بلوچستان کی بات کی جائے، تو یہاں کی اکثریتی آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہی ہے۔

پھر یہ کہ صوبائی دارالحکومت، کوئٹہ کا شمار مُلک کے منہگے ترین شہروں میں ہونے لگا ہے، جہاں دیگر شہروں کی نسبت اشیائے خورونوش بہت منہگی ہیں۔یوں تو تیزی سے بڑھتی منہگائی کی کئی وجوہ ہیں، لیکن کم زور حکومتی رٹ اور انتظامیہ کی لاپروائی کے باعث گراں فروش دھڑلّے سے مَن مانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کہنے کو ڈپٹی کمشنر کے زیرِ صدارت پرائس کنٹرول کمیٹی قائم ہے، لیکن اس کا کام سال میں صرف ایک یا دو مرتبہ نرخ نامے کے اجرا تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ آج تک ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامے پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، تو سوال یہ ہے کہ جب سرکاری نرخ نامہ تسلیم ہی نہیں کیا جاتا، تو پھر اسے جاری کرنے کا تکلّف بھی کیوں کیا جاتا ہے؟

دودھ ہی کو دیکھ لیجیے۔ کوئٹہ میں دودھ کے فی لیٹر سرکاری نرخ 100روپے مقرّر ہیں، لیکن شہر بھر میں 125روپے لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے، جب کہ دہی 130سے 140روپے کلو فروخت ہو رہی ہے۔کہا جاتا ہے کہ ڈیری مالکان چندہ کر کے لاکھوں روپے جمع کرتے ہیں، جو ضلعی انتظامیہ کے کرپٹ افسران کی خدمت میں پیش کردئیے جاتے ہیں، جس پر انتظامیہ اُن کی طرف سے گونگی، بہری ہو جاتی ہے اور یوں اُنھیں مَن مانی کی کُھلی چُھوٹ دے دی جاتی ہے۔ جب کہ ضلعی انتظامیہ اور ڈیری مالکان کے اس گٹھ جوڑ کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑتا ہے۔

بلوچستان میں مہنگائی کا طوفان
جام کمال خان، وزیراعلیٰ، بلوچستان

اس ضمن میں صوبے کے ممتاز قانون دان، جمیل آغا ایڈووکیٹ کے توسّط سے دائر کردہ آئینی درخواست پر بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ’’ پورا سسٹم ڈھے رہا ہے،جان بچانے والے انجکشنز تک غائب کر دئیے گئے، حکومتی ادارے درست سمت میں کام نہیں کر رہے۔ 

دودھ، دہی کی قیمتوں کا تعیّن کرنا عدالت کا نہیں، انتظامیہ کا کام ہے۔ میڈیا اور سِول سوسائٹی منہگے دودھ کے بائیکاٹ کی مہم چلائے۔اگر تین روز تک دودھ استعمال نہ کیا جائے، تو نرخ خودبخود کم ہو جائیں گے۔‘‘اُنھوں نے سیکرٹری انڈسٹریز کو دودھ، دہی کی نئی قیمتوں سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ’’ کچھ عرصہ قبل عدالتی احکامات پر چینی کے نرخ مقرّر کیے گئے، لیکن چینی مزید منہگی ہو گئی۔ ایسا نہ ہو، ہم دودھ سے متعلق فیصلہ دیں، تو نرخ مزید بڑھا دئیے جائیں۔‘‘عدالت نے سماعت کے دَوران ڈپٹی کمشنر کوئٹہ اور ایڈمنسٹریٹر میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو بھی طلب کیا۔ 

ڈی سی کوئٹہ، اورنگزیب بادینی نے عدالت کو بتایا’’ دودھ کے نرخ مقرّر کرنا ہماری ذمّے داری نہیں، یہ متعلقہ محکموں کا کام ہے۔ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ دودھ کے جو نرخ مقرّر کرے گا، ہم اس پر عمل درآمد کروانے کے پابند ہیں۔‘‘ اُنہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ’’ پرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے دودھ کے نرخ پہلے ہی مناسب ہیں، جس پر ڈیری مالکان عمل نہیں کر رہے ۔ سیکرٹری انڈسٹریز نے دودھ کی قیمتوں کے تعیّن سے متعلق کمیٹی قائم کی ہے، عدالتِ عالیہ محکمہ انڈسٹریز کو فوری طور پر دودھ کے نرخ مقرّر کرنے کی ہدایت جاری کرے، جس پر عمل درآمد کے ہم پابند ہوں گے۔‘‘ ڈی سی کوئٹہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ’’ نرخوں میں اضافے سے ڈیری مالکان کو فائدہ ہوتا ہے، جب کہ خمیازہ مِلک شاپس مالکان بھگتے ہیں کہ اُنہیں گرفتاریوں اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘‘اُنہوں نے تجویز دی کہ’’چارہ باہر سے آ رہا ہے، لہٰذا ہر ضلعے کے لیے دودھ کے الگ الگ نرخ ہونے چاہئیں، کیوں کہ گرین بیلٹ، نصیر آباد میں چارے کی قیمت کچھ اور ہے، تو تربت میں کچھ اور۔‘‘ سِول سوسائٹی کے نمائندوں اسلم رند اور نذر بڑیچ نے عدالت کو بتایا کہ’’ گزشتہ دنوں سرکاری سطح پر دودھ کی قیمتوں کا تعیّن کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دی گئی، جس نے اپنی رپورٹ تیار کرلی ہے،لہٰذا اُسی کی بنیاد پر سرکاری نرخ نامہ جاری کرنا چاہیے۔‘‘ اسلم رند نے عدالت کو بتایا کہ’’ پورے شہر میں گائے اور بھینس کا ملاوٹ شدہ دودھ فروخت کیا جا رہا ہے۔ 

سرکاری ڈیری فارم میں دودھ کی فی لیٹر قیمت80روپے ہے۔‘‘ جس پر عدالت نے لائیو اسٹاک کے نمائندے سے استفسار کیا کہ’’ وہ دودھ فی لیٹر کس قیمت پر فروخت کر رہے ہیں؟‘‘ تو اُس نے جواب دیا’’ تمام اخراجات نکالنے کے بعد دودھ فی لیٹر 80 روپے فروخت کیا جا رہا ہے۔‘‘ جسٹس جمال خان مندوخیل نے حکم جاری کیا کہ انڈسٹریز ڈیپارٹمنٹ کوئٹہ شہر میں دودھ کی قیمت سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کروائے اور اس دَوران پرائس کنٹرول کمیٹی کی جانب سے 27مارچ، 2020ء کو جاری کردہ نرخ نامے کے مطابق دودھ فی لیٹر 100روپے فروخت کیا جائے۔‘‘ تاہم، عدالتی احکامات کے باوجود دودھ کی قیمتوں میں کوئی فرق نہیں پڑا اور وہ بدستور منہگے داموں فروخت ہو رہا ہے۔

بلوچستان ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کے صدر، الطاف حسین گجر کا اِس حوالے سے کہنا ہے کہ ’’ ہماری انتظامیہ کے ساتھ متعدّد میٹنگز ہوئیں، جن میں صرف کمیٹی بنائی گئی، قیمت میں اضافہ نہیں کیا گیا۔گزشتہ سال اپریل میں حکومت کی جانب سے 95 روپے فی لیٹر نرخ دیا گیا تھا، جب کہ لائیو اسٹاک کی رپورٹ میں 106 روپے قیمت تجویز کی گئی تھی۔ ہمیں 100 روپے کلو تک دودھ فروخت کرنے کی اجازت دی گئی۔ 

اب تو منہگائی کئی گُنا بڑھ چُکی ہے۔ چارے وغیرہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ انتظامیہ نے گزشتہ سال نومبر میں کمیٹی تشکیل دی تھی، جس نے 15 یوم میں اپنی رپورٹ دینی تھی، لیکن لائیو اسٹاک کے ماہرین کی رپورٹ کے بعد اُسے نظر انداز کرکے نان ٹیکنیکل لوگوں کی بنائی گئی رپورٹ پر، جو منہگائی کے تناسب اور مُلک بھر کے سروے کے خلاف تھی، عمل کیا گیا۔ہمیں آخری میٹنگ میں انتظامیہ نے ایسا ریٹ دینے کی کوشش کی، جو بڑھتی ہوئی منہگائی کے تناسب سے ہمیں قبول نہیں تھا۔ 

اِس صُورتِ حال کو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے ایسوسی ایشن اور فارمرز نے مشترکہ طور پر نرخ15 روپے فی کلو بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اگر انتظامیہ اس نرخ کا بڑھتی منہگائی سے موازنہ کرنا چاہتی ہے، تو وہ ماہرین کی کمیٹی تشکیل دے اور ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرلے۔‘‘ایک مِلک شاپ کے مالک نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ’’ ہم مختلف ڈیری فارمز سے سالانہ بنیادوں پر دودھ کا سودا کرتے ہیں، جس کے عوض دس سے بیس لاکھ روپے ڈیری مالک کے پاس زرِ ضمانت کے طور پر رکھوائے جاتے ہیں۔شہر میں بدامنی، ہڑتالوں یا کسی بھی وجہ سے مِلک شاپ بند ہو، تب بھی ڈیری فارمز مالک دودھ کی قیمت مِلک شاپس سے وصول کرتے ہیں اور کسی قسم کی رعایت نہیں کرتے۔ 

ڈیری فارمز ہمیں102روپے فی لیٹر کے حساب سے دودھ فراہم کرتے ہیں اور ہم 110روپے میں فروخت کرتے ہیں، لیکن اب ڈیری فارمز کی جانب سے یک دَم فی لیٹر115روپے اضافہ کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ہم 125روپے میں بیچنے پر مجبور ہیں،کیوں کہ منہگا دودھ خرید کر سستا فروخت نہیں کر سکتے۔ ڈیری فارمز مالکان کی جانب سے گائے اور بھینس کا دودھ مکس کر کے شاپ مالک کو فراہم کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ جب گراں فروشی یا ملاوٹ پر کارروائی کرتی ہے، تو نزلہ ڈیری فارمز کی بجائے مِلک شاپس مالکان پر گرتا ہے اور ہمیں قید و بند اور جرمانوں کی سزائیں بھگتنا پڑتی ہیں،جب کہ ڈیری فارم مالکان ،جو مافیا بن چُکے ہیں، سارے فوائد سمیٹتے ہیں۔ 

کورونا وبا کے دَوران دودھ فی لیٹر70روپے بھی فروخت ہوا ، لیکن ڈیری فارمز مالکان نے مِلک شاپس سے پوری رقم وصول کی، جس کی وجہ سے اکثر مِلک شاپس مالکان نے کاروبار ہی بند کر دیا۔‘‘ اُنہوں نے تجویز دی کہ’’ حکومت کی جانب سے ڈیری فارمز کے لیے نرخ مقرّر کر کے اس پر عمل درآمد کروایا جائے۔ نیز، مِلک شاپس مالکان کو کم از کم 20روپے کا مارجن دیا جائے تاکہ وہ اپنے اخراجات پورے کر سکیں۔‘‘ایک شہری عبدالحنان کاکڑ نے دودھ کی قیمتوں میں ہوش رُبا اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ پیٹرول، ڈیزل اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کی بنیاد پر ہر چیز ہی منہگی ہوگئی ہے۔ 

لوگ منہگائی کے سبب پیٹ کاٹ کر اپنے بچّوں کو پالنے پر مجبور ہیں۔ اب تو بیش تر گھرانوں میں مہینے کا اکٹھا راشن لانے کا رواج ختم ہوتا جا رہا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے مُلک میں منہگائی کا طوفان آیا ہوا ہے، جس میں عوام اِدھر اُدھر غوطے کھا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خورو ونوش کی قیمتوں میں ہوا ہے۔سچّی بات تو یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے عوام کو ریلیف دینے کے سب وعدے ہوا ہو گئے۔ دودھ ہر گھر کی ضرورت ہے، لیکن کوئٹہ میں حکومت اور انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ڈیری مالکان مافیا بن چُکے ہیں۔‘‘

انتظامیہ محض کاغذی کارروائیاں کرتی ہے، نذر بڑیچ

پامیر کنزیومر ،سوسائٹی ادارہ برائے تحفّظ صارفین کے چیف کوآرڈی نیٹر، نذر بڑیچ کا کہنا ہے کہ’’ عدالتی احکامات کے باوجود ضلعی انتظامیہ ڈیری فارمز مالکان کو گراں فروشی سے نہیں روک سکی۔ شہر میں خود ساختہ نرخوں پر دودھ کی فروحت جاری ہے۔ ہر سال دودھ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کردیا جاتا ہے، جب کہ ضلعی انتظامیہ کاغذی کارروائی کے لیے کچھ روز کارروائیاں کرتی ہے، پھر دودھ منہگے داموں فروخت ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ 

ڈیری فارمز ایسوسی ایشن کے بعض عُہدے دار مختلف ڈیری فارمز سے چندہ کر رہے ہیں کہ خود ساختہ نرخوں میں اضافے پر چُپ رہنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو خطیر رقم دینی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں اکثر ڈیری فارمز مالکان کی جانب سے بھینس اور گائے کا دودھ مِکس کر کے فروخت کیا جاتا ہے، جب کہ مِلک شاپس کی اکثریت دہی کی تیاری میں خشک دودھ کا استعمال کرتی ہے، جس کا ثبوت بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی کارروائیاں ہیں، جن میں سیکڑوں دکان داروں کو ملاوٹ اور پائوڈر ملے دودھ کی فروخت پر جرمانہ بھی کیا گیا۔ 

دکانوں پر بکنے والا خشک دودھ سرحد پار سے اسمگل ہو کر آتا ہے۔ شہر میں دودھ کی یومیہ طلب 5 سے 6 لاکھ لیٹر، جب کہ پیداوار صرف 2 سے ڈھائی لاکھ لیٹر ہے۔ غیر مُلکی خشک دودھ کسی بھی طرح صحت کے لیے اچھا نہیں۔‘‘ اُنہوں نے اپیل کی کہ’’ ڈیری فارمز ایسوسی ایشن اور ضلعی انتظامیہ کے گٹھ جوڑ کا نوٹس لیتے ہوئے دودھ کے سرکاری نرخ پر عمل درآمد کروایا جائے۔‘‘

دودھ کے نرخ مقرّر کرنے میں حقائق نظرانداز کیے گئے،محمّد اسلم رند

سِول سوسائٹی کے نمایندے اور فعال سماجی کارکن، محمّد اسلم رند نے دودھ کی قیمتوں کے حوالے سے بتایا’’محکمہ انڈسٹریز نے قیمتوں کے تعیّن کے حوالے سے قائم کمیٹی سے مشاورت کے بغیر دودھ کے نرخ بڑھا دیئے۔ ایک مہینہ پہلے ڈپٹی کمشنر کوئٹہ نے سیکرٹری فوڈ، سیکرٹری انڈسٹریز اور لائیو اسٹاک کو خط لکھا کہ’’ آپ اپنے ایکسپرٹس اور ہمارے کمیٹی ارکان کی مشاورت کے بعد دودھ کے مناسب ریٹ مقرّر کریں تاکہ عوام پر بوجھ نہ پڑے اور ڈیری فارمز مالکان بھی متاثر نہ ہوں۔‘‘ اِس حوالے سے ڈی سی نے باقاعدہ ایک کمیٹی قائم کی ، جس میں اے ڈی سی، دو مجسٹریٹس، لائیو اسٹاک، فوڈ اتھارٹی کے افسران، انجمن تاجران اور سِول سوسائٹی کے نمائندے شامل ہیں۔ 

کمیٹی ارکان سب سے پہلے سرکاری ڈیری فارم پر گئے، جہاں گائے کا خالص دودھ 80 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا ہے، اس میں انکم ٹیکس اور دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔ بعدازاں، مغربی بائی پاس پر قائم نجی ڈیری فارمز کا سروے کیا گیا۔ دودھ کی پیداوار اور اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا اور مشاورت سے رپورٹ بنائی گئی، جس میں طے پایا کہ گائے اور بھینس کا دودھ فی لیٹر63 روپے میں پڑتا ہے، اگر ان کو 30 فی صد فائدہ دیا جائے، تو 81 روپے میں بیچنا پڑے گا اور دکان دار اسے 90 روپے میں فروخت کریں گے۔لیکن ان حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے محکمہ انڈسٹریز نے ڈیری فارم والوں کو 105 روپے کا ریٹ دے دیا اور دکان داروں کو 110 سے120روپے فی لیٹر فروخت کرنے کا کہا گیا، جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔حکومت اور عدلیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح مافیا نے پیسے کی چمک سے مَن پسند نرخ حاصل کر لیے۔‘‘