• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

جنوبی پنجاب کے عوام بھی ترقیاتی پیکج کے منتظر

سیاست کی گرم بازاری میں حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی کورونا کو بھول چکے ہیں ، اس سلسلہ میں پوری دنیا ابھی تک عدم تحفظ میں مبتلا ہے کہ کورونا پلٹ کر پھر کوئی بڑا وار کر سکتا ہے ،ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں کورونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال ان اعدادوشمارکی طرف بڑھ رہی ہے جو امریکہ سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں، اگر چہ وفاقی وزیر اسد عمر نے یہ بیان جاری کیا ہے کہ کورونا کے بارے میں احتیاطی تدابیر کو نہ چھوڑا جائے، مگر سوال یہ ہے کہ حکومت اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جو ایس اوپیز جاری کررکھے ہیں ان پر کہیں بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا، بازاروں پبلک ٹرانسپورٹ، ریسٹورنٹس اور شاپنگ مالز میں ماسک پہننے کی پابندی کہیں بھی نظر نہیں آتی۔

کسی وقت اچانک اگر خدانخواستہ کورونا کی وبا پھرسے پھر حملہ آور ہوئی، تو کیا نئے سرے سے لاک ڈاؤن ہوں گے ؟پابندیاں لگیں گی کیا یہ ضروری نہیں کہ حکومت اس اہم مسئلہ کی طرف پہلے کی طرح بھرپور توجہ دے اور ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے حکومتی اداروں کو استعمال کیا جائے۔ ادھر وفاقی حکومت نے جب سے کراچی کے لیے 11 سو ارب روپے کا پیکج دیا ہے، جنوبی پنجاب کی عوام میں یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ چھ کروڑ کی اس آبادی کو آج تک کوئی چھوٹا پیکج بھی نہیں دیا گیا جبکہ یہاں بھی وہی مسائل موجود ہیں جو کراچی کی دو کروڑ آبادی کو درپیش ہے، جنوبی پنجاب میں صاف پانی کی فراہمی، سیوریج کے نظام، بےروزگاری اور صحت کی ناکافی سہولتیں ایسے مسائل ہیں کہ جن کی طرف کبھی توجہ نہیں دی گئی نہ ہی اس حوالے سے کوئی بڑا پیکج منظور کیا گیا ہے، اب جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کر اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مصداق چند ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ یہاں اس قدر بدحالی اور پسماندگی ہے کہ ایک ایک شہر کے لیے لیے اربوں روپے کے فنڈز درکار ہیں ، لوگ انتہائی نامساعد حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، وفاقی حکومت کو پنجاب حکومت کب اس طرف متوجہ کرے گی کہ جنوبی پنجاب کے لیے بھی کسی خصوصی پیکیج کا اعلان کیا جائے،یہ خواب اس لئے شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا کہ یہاں کے ارکان اسمبلی اس حوالے سے آواز اٹھانا تو درکنار اس پر بات کرنے سے بھی قاصر ہیں، جس کی ایک مثال خود جنوبی پنجاب کا سیکرٹریٹ ہے جسےاختلافات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے اور آج بھی یہ اس لئے فعال نہیں ہوسکا کہ ملتان اور بہاول پور میں اس سیکریٹریٹ کی تقسیم نے اختلافات کی گہری خلیج حائل کر دی ہے ،حالت یہ ہےکہ وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر ویڈیو لنک کے ذریعے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے معاملات اور ضابطہ کار کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اعلی سطحی اجلاس کیا ،جس میں وزیر اعلی عثمان بزدار، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی یہاں کے ارکان اسمبلی اور دیگر سٹیک ہولڈرز شامل ہوئے ، اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے وہ تو ابھی منظر عام پر نہیں آئے لیکن کسی نے بھی تقسیم شدہ سیکرٹریٹ کے نقصانات ، عوامی تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کرنے کی زحمت نہیں کی ،یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو چلانے کا معاملہ اتنا ہی پیچیدہ ہے کہ اجلاس پر اجلاس ہونے کے باوجود اس کے فعال ہونے کا لمحہ نہیں آرہا اگرچہ وفاقی وزیر شاہ محمود قریشی نے یہ اعلان کردیا ہے کہ 15 اکتوبر سے یہ سیکرٹریٹ فعال ہو جائے گا، مگر اس سوال کا جواب وہ نہیں دے پارہے کہ یہ سیکرٹریٹ دو شہروں میں کیسے کام کرے گا اور اس حوالے سے دونوں شہروں میں اختیارات کی تقسیم کا جھگڑا کھڑا ہو گیا ہے وہ کیسے حل ہوگا یا سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عوام کو کیسے مطمئن کیا جا سکے گا کہ انہیں دشوار نظام سے نکال کر سہل نظام بخش دیا گیا ہے ،یہ معاملہ تو ’’آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ‘‘جیسا نظر آتا ہے کیونکہ محکموں کی چھینا جھپٹی میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ علیحدہ سیکرٹریٹ سے عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے، بلکہ الٹا اس ریلیف میں ایسی مشکلات چھپی ہوئی ہیں جو آنے والے دنوں میں عوام کے لئے ایک بڑا دردسر بن سکتی ہیں۔ درد سر تو ملتان کے مسائل بھی عوام کے لئے بنے ہوئے ہیں، یہاں پر نئےتعینات ہونے والے کمشنر جاوید اختر محمود نے بھی ان کا احساس کیا ہے اور انہوں نےان مسائل کے حل اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے عملی اقدامات بھی شروع کردیئے ہیں ،اور انہوں نے مختلف مسائل میں گھرے ملتان ڈویژن کے لئے پچاس کروڑ روپے کے ترقیاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا ہے۔

 جس سے شہر میں سڑکوں اور صاف پانی کے مسائل حل کیے جائیں گے، ادھر کمشنر ملتان ڈویژن نے یہ اعلان کیا، تو اگلے دن وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیو شاہ شمس ڈسپوزل سٹیشن کا افتتاح کردیا اس منصوبے پر 52 کروڑ روپے کی لاگت آئی ہے اور یہ ڈسپوزل سٹیشن 64 کنال رقبہ پر مشتمل ہے، شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ نکاسی آب کا مسئلہ کئی دہائیوں سے ملتان کے لیے درد سر بنا ہوا ہے اس پر کبھی توجہ نہیں دی گئی ،جاپانی تنظیم ’’جائیکا ‘‘ واسا کو 2 ارب 79 کروڑ روپے کی گرانٹ دے رہی ہے ،تاکہ سیوریج کے مسائل اور پانی کی ٹریٹمنٹ کے منصوبے شروع کیے جا سکیں، یہ سب کچھ اپنی جگہ ایک خوش آئند عمل ہے مگر سوال یہ ہے کہ ایسے منصوبے پہلے بھی اربوں روپے کی لاگت سے شروع کئے گئے مگر مناسب نگرانی نہ ہونے اور افسران کی کرپشن کے باعث سیوریج کا مسئلہ جوں کا توں رہا۔ 

آج شہر میں جگہ جگہ کراؤن فیلیئور کی وجہ سے بڑی سڑکوں پر گڑھے پڑ جاتے ہیں اور پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ سیوریج کے پائپ چند سال پہلے ہی ڈالے گئے ہیں ،کیا اس بار جو ترقیاتی کام کرائے جائیں گے ان میں شفافیت ہوگی اور کیا وہ واقع ہی شہر کے مسائل کا حل ثابت ہوں گے؟ یا پہلے کی طرح یہ سارا معاملہ ناقص منصوبہ بندی، ناقص مٹیریل اور کرپشن کی نذر ہو جائے گا دلچسپ بات یہ ہے کہ اس ساری فضا میں مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت بالکل لاتعلق نظر آتی ہے ان کی طرف سےملتان یا جنوبی پنجاب کے مسائل پر نہ کوئی رد عمل ظاہر کیا جاتا ہے اور نہ ہی جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کی ملتان اور بہاولپور میں تقسیم پر کوئی آواز اٹھائی جاتی ہے، صرف ایک جاوید ہاشمی ہیں ، جو گاہے بگاہے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

تازہ ترین
تازہ ترین