آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کچھ عرصہ پہلے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ 15ستمبر سے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔ البتہ 3مرحلوں میں ادارے کھولنے کا فیصلہ اب کیا گیا ہے اور بظاہر اس کا مقصد یہ ہے کہ پہلے مرحلے کے بعد یہ اندازہ ہو سکے گا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے خدشات کس حد تک ہیں اور ایس او پیز پر کتنا عمل ہوتا ہے۔ اگرچہ اِس وقت کورونا کے نئے کیسز کم ہو رہے ہیں، اموات کی تعداد بھی کم ہوئی ہے تاہم اب بھی روزانہ ملک بھر میںچار، پانچ سو نئے کیس سامنے آ رہے ہیں۔ بعض ماہرین نئی لہر کے خدشات بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے تعلیمی ادارے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان کیا ہے، پہلے مرحلے میں ہائی اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں 15ستمبر سے کھل جائیں گی، 23ستمبر سے چھٹی سے آٹھویں جماعتوں کے لئے بھی اسکول کھول دیے جائیں گے، آخری اور تیسرے مرحلے میں پرائمری اسکول 30ستمبر کو کھلیں گے، اسکول آنے والے بچوں کو وین اور اسکول کے اندر بھی ماسک پہننا ضروری ہوگا، آدھے بچے ایک دن اور باقی آدھے دوسرے دن بلائے جائیں گے، اسکول میں داخلے کے وقت اسکریننگ ہوگی، والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ کھانسی اور بخار میں مبتلا بچوں کو اسکول نہ بھیجیں۔ یہ فیصلے وفاقی اور صوبائی وزرائے تعلیم کی کانفرنس میں کئے گئے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہر 2ہفتے بعد کورونا کے ٹیسٹ کئے جائیں گے۔ ان فیصلوں کا اعلان وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا لیکن اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا ایس او پیز پر پوری طرح عمل ہوگا اور اسکولوں کی انتظامیہ، اساتذہ، بچوں اور دوسرے عملے سے ان پر عملدرآمد کرا پائے گی؟ اگر ایسا ہو سکے تو بہت ہی اچھا ہے تاہم دوسرے شعبوں میں چونکہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں ہو سکا تھا اور اب بھی پوری طرح نہیں ہو رہا، اِس لئے ایسے خدشات ضرور موجود ہیں کہ تعلیمی اداروں میں ایس او پیز پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد ہو سکے گا؟ سندھ کے وزیر تعلیم سعید غنی کا کہنا ہے کہ اگر کسی اسکول یا علاقے میں کووِڈ 19کے کیسز میں اضافہ ہوا تو وہ اسکول یا متعلقہ علاقے کے اسکول بند کئے جا سکیں گے۔خیال اور توقع تو یہی ہے کہ ایس او پیز بناتے وقت یہ بات دھیان میں رکھی گئی ہو گی کہ یہ کس حد تک قابلِ عمل ہیں لیکن بعض فیصلوں سے لگتا ہے کہ ان کے نتائج پر اچھی طرح غور نہیں کیا گیا۔ مثال کے طور پر ادارے کھلنے سے پہلے اور پھر ہر 15دِن بعد طلباء اور اساتذہ کے کورونا ٹیسٹ بظاہر ممکن نہیں لگتے۔ دوسرے صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے اعداد و شمار تو سامنے نہیں، البتہ صرف سندھ کے تعلیمی اداروں میں تقریباً 45لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ ہمارے پاس روزانہ 25ہزار ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے اِس حساب سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تمام طلباء و طالبات کا ٹیسٹ کرنے کے لئے کتنا وقت درکار ہوگا اور کیا پھر ہر 15دن بعد یہ عمل دہرانے کی صلاحیت بھی صوبے میں موجود ہے یا پھر 15دن بعد صرف محدود تعداد میں ٹیسٹ ہوں گے۔ لگتا ہے یہ فیصلہ کرتے وقت طلباء و طالبات کی تعداد اور صوبوں کی ٹیسٹنگ صلاحیت کو سامنے نہیں رکھا گیا اور بس اچھے ایس او پیز بنانے کی دُھن میں معروضی حقائق نظر انداز کر دیے گئے۔ ایک اطلاع کے مطابق پنجاب کے محکمہ صحت نے تو حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی کر دی ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ صحت کو بھی چاہئے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرے۔ یہ بات پیشِ نظر رکھنا ہو گی کہ اتنے زیادہ ٹیسٹ کرنے کے لئے جتنا بجٹ چاہئے کیا محکمہ صحت یا حکومت اتنی رقم کا بندوبست بھی کر سکتی ہے یا نہیں، اِس لئے ہماری تجویز ہے کہ ایس او پیز پر ایک بار پھر غور کر کے صرف وہی ضوابط تیار کئے جائیں جن پر عمل درآمد کیا اور کرایا جا سکے، جو ضابطے سرے سے ناقابلِ عمل ہیں انہیں ایس او پیز کی فہرست سے نکال دینا چاہئے۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان نے مرحلہ وار ادارے کھولنے کی تجویز کو پسند نہیں کیا، ان کا موقف یہ ہے کہ ایک ہی بار تمام اسکول اور کالج کھول دیے جائیں اور ایک دن اسکول آمد اور دوسرے دن چھٹی کی تجویز بھی ختم کی جائے، کیونکہ پہلے ہی طلباء کا بہت زیادہ تعلیمی نقصان ہو چکا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کا یہ موقف سامنے آنے کے بعد ضروری ہے کہ متعلقہ حکام اِس پر بھی غور کر لیں، کیونکہ نجی تعلیمی ادارے بھی بڑے اسٹیک ہولڈر ہیں اور لاکھوں طالب علم ان اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں،اِس لئے ان کی تجاویز کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ جب باقی شعبے کھولتے وقت اتنے سخت ایس او پیز نہیں بنائے گئے اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سے کاروبار ایسے ہیں جہاں کسی ایس او پیز کا کوئی تکلف سرے سے کیا ہی نہیں گیا اور اگر کیا گیا ہے تو ان پر عملدرآمد نہیں ہو رہا، اس لحاظ سے ساری سختی تعلیمی اداروں پر ہی کیوں کی جا رہی ہے؟ ہمارے خیال میں چونکہ تعلیمی ادارے ایسی جگہیں ہیں جہاں بڑی تعداد میں لوگوں کا میل ملاپ ہوتا ہے اور ایک ایک اسکول میں بسا اوقات ہزاروں طلباء موجود ہوتے ہیں، اِس لئے احتیاطی تدابیر تو ضروری ہیں،لیکن یہ جائزہ ضرور لے لینا چاہئے کون سی تدبیر قابلِ عمل ہے اور کون سی نہیں؟

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)