آپ آف لائن ہیں
بدھ5؍ صفر المظفّر 1442ھ23؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسلح افواج اور اس کے کسی رکن کا تمسخر اڑانا جرم ہوگا، تعزیرات پاکستان، ضابطہ فوجداری میں ترامیم کا بل قومی اسمبلی میں پیش

اسلام آباد(نمائندہ جنگ)مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کاتمسخر ڑانا جرم ہوگا،حکومتی رکن امجد علی خان نے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860اور مجموعہ فوجداری 1898میں مزید ترمیم کا بل منگل کے روز قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔

بل کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860 ( ایکٹ نمبر45بابت 1860اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898( ایکٹ نمبر5بابت1898) میں مزید ترمیم کی جائے گی اور یہ ایکٹ ہذا فوجداری قانون (ترمیمی ) ایکٹ2020 کے نام سے موسوم ہوگا ۔ 

بل کے تحت مسلح افواج یا اس کے کسی رکن کا جان بوجھ کر تمسخر اڑانا ،وقار کو گزند پہنچانا یا بدنام کرنا جرم قرار پائے گاایسا کرنے والے کو 2سال تک قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔اس ترمیم کا مقصد مسلح افواج کے خلاف نفرت انگیز اور گستاخ رویے کا سدباب کرنا ہے۔ 

بعد ازاں انسداد دہشت گردی ایکٹ1997میں مزید ترمیم کرنے کا بل اپوزیشن کی مخالفت کےباوجود کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا بل فہیم خان نے پیش کیا ، ایکٹ ہذا انسداد دہشتگردی (تیسری ترمیم)ایکٹ 2020 کے نام سے موسوم ہوگا، ترمیم کے تحت تفتیشی طریقہ کار میں نئی تکنیکس استعمال کرنے کی شق شامل کی گئی ہے تفتیشی افسر عدالت کی اجازت سے 60 دن میں بعض تکنیکس استعمال کر کے دہشت گردی میں رقوم کی فراہمی کا سراغ لگائے گا ۔

ان تکنیکس میں خفیہ آپریشنز ، مواصلات کا سراغ لگانا ، کمپیوٹر سسٹم کا جائزہ لینا شامل ہے، عدالت کو تحریری درخواست دے کر مزید 60 دن کی توسیع حاصل کی جا سکتی ہے۔ 

عدالت تحریری درخواست میں دی گئی وجوہات یا صورتحال کی بنیاد پر مطمئن ہونے کی صورت میں توسیع دے سکتی ہے ،بل کے اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ دہشت گردی کے لیے رقوم کی فراہمی ایک بڑی رکاوٹ ہے جو کہ نہ صرف ملک کی ترقی کےلیے رسوائی کا باعث بن رہی ہے بلکہ مالی حوالے سے ایسے عناصرکو فائدہ پہنچا رہی ہے جو بالاخر ملک کے اندرونی و بیرونی امن اور کسی حد تک اتحادیوں کے لیے ایک بڑہ خطرہ ہیں، 

اس بل کومتعارف کرانے کا اصل مقصد مذکورہ دفعہ کی شمولیت کے ذریعے قانون نافذکرنےوالے اداروں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ قانون کی عدالتوں کی بااختیار معاونت سے بعص انسدادی تکنیکوں کو اپنا کر ان لعنتوں کا قلع قمع کرسکیں ۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج اور شورشرابا کیا گیا،مگر بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔    

اہم خبریں سے مزید