آپ آف لائن ہیں
اتوار2؍صفر المظفّر 1442ھ 20؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹی یو سی نے جائے کار پر نسل پرستی سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کر دی

لندن (پی اے) یونینز نے جائے کار پر سیاہ فام اور نسلی اقلیتوں کو درپیش رکاوٹوں اور نسل پرستی سے نمٹنے کیلئے ٹاسک فورس قائم کر دی ہے۔ یہ موو ٹی یو سی کی ریسرچ کے بعد سامنے آئی ہے جس میں تجوبز کیا گیا تھا کہ حقوق کم ہونے کے ساتھ ان کے غیر محفوظ اور شدید خطرے والی نوکریوں میں ہونے کے امکانات زیادہ ہیں۔ یونین آرگنائزیشن نے کہا کہ بلیک اینڈ منارٹی ایتھنک کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد کے کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد سفید فام افراد سے زیادہ ہے کیونکہ ان کی اکثریت سیکورٹی گارڈز، کیئررز اور ڈرائیورز جیسی ملازمتوں سے وابستہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے اس تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ بی اے ایم ای سے تعلق رکھنے والے چھ میں سے ایک کارکن غیر محفوظ شرائط  اور قواعد والی جابس سے منسلک ہے جبکہ سفید فام ورکرز میں یہ تناسب 10 میں ایک ہے۔ سینئر یونین لیڈرز کا ایک گروپ یہ انویسٹی گیشن کرے گا کہ بلیک منارٹی ورکرز کو سسٹمیٹک ڈسکریمنیشن کا سامنا ہے۔ ٹی یو سی کے جنرل سیکریٹری فرانسس اوگریڈی نے کہا کہ کورونا وائرس نے بی اے ایم ای سے تعلق رکھنے والی خواتین اور مردوں کو کام میں درپیش بہت بڑی عدم مساوات کو بے نقاب کیا ہے اور اس بحران کے دوران بہت سے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ خطرات اٹھانے پر مجبور کیا گیا۔ کم تنخواہوں والی

جابس میں بی ایم ای ورکرز کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انکو مراعات بھی حاصل نہیں ہیں۔ انہیں کم حقوق حاصل ہیں اور سک پے بھی نہیں ہے۔ کورونا وائرس کوویڈ 19 بحران کے دوران ان خراب حالات کار کی وجہ سے بہت سے بی ایم ای ورکرز کو اپنی جان کی قیمت چکانا پڑی۔ کورونا وائرس بحران ایک ٹرننگ پوائنٹ کے طور پر سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو لازمی طور پر سسٹمیٹک نسل پرستی اور عدم مساوات کو چیلنج کرنا چاہیے، جس کی وجہ سے بی ایم ای ورکرز کام میں پیچھے رکھے ہوئے ہے۔ این اے ایس یو ڈبلیو ٹی ٹیچنگ یونین کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پیٹرک روچ اس اینٹی ریسزم ٹاسک فورس کی سربراہی کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ لیبر مارکیٹ اور وسیع تر معیشت کے تمام سیکٹرز میں ہم بلیک ورکرز کی زندگیوں میں ریسزم اور نسل پرستانہ عدم مساوات کے تباہ کن اور ضرر رساں اثرات کے شواہد کو دیکھ رہے ہیں۔ شیڈو ویمن اینڈ ایکویلیٹیز سیکریٹری مارشا ڈی کورڈووا نے کہا کہ یہ ایک سکینڈل ہے اور بلیک ایشین اور منارٹی ایتھنک کمیونٹیز روزانہ بنیادوں پر اس سسٹمیٹک ریسزم کے تجربے سے گزر رہی ہیں۔ حکومت نے بارہا سکولز سے لے کر کرمنل جسٹس سسٹم تک روک پلیس پر نسل پرستی اور نسل پرستانہ عدم مساوات کیلئے ریویو قائم کیے ہیں لیکن تاحال ان کے نتائج پر کوئی خاطر خواہ کام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت سسٹمیٹک نسل پرستی سے نمٹنے کیلئے کارروائی نہیں کرے گی اس وقت تک بلیک ایشین اور منارٹی ایتھنک کمیونٹیز سے تعلق رکھنے والے افراد اس پینڈامک کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاتے رہیں گے۔

یورپ سے سے مزید