آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بچوں کو انزائٹی کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار کریں

گھبراہٹ یا ’انزائٹی‘ صرف بالغ افراد میں ہی نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات بچے بھی کسی نہ کسی وجہ سے فکرمندہوجاتے ہیں۔ بچوں کے مزاج اور طویل مدت میں مجموعی شخصیت پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انزائٹی کے شکار بچوں کا دل اُن باتوں میں نہیں لگتا، جن میں عام بچے عموماً خوشی محسوس کرتے ہیں۔ تاہم بچوں کو انزائٹی سے کس طرح محفوظ رکھا جائے؟ 

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے برطانیہ کی ریڈنگ یونیورسٹی کی پروفیسر کیتھی کریسویل کی تحقیق میں کچھ ایسی ترکیبیں بتائی گئی ہیں، جن کو استعمال کرنے سے والدین بچوں میں ’انزائٹی‘ کی کیفیت کو کم کر سکتے ہیں۔

بچے کو فکرمندی میں نہ ڈالیں

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ کے بچے کی عمر کیا ہے، آپ اس کے خوف یا فکر مندی کو رَد نہ کریں۔ بچے سے یہ کہنا کہ’ اُس کا خوف بلاجوازہے‘ اور ’ویسا ہونے والا نہیں‘دُرست حکمتِ عملی نہیں، اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے یہ تسلیم کریں کہ بچہ جس خوف کو محسوس کر رہا ہے وہ دُرست ہے، اُس سے بچے کو مدد ملے گی۔ فرض کریں کہ آپ کا بچہ کتوں سے ڈرتا ہے اور آپ گلی میں کسی کتے کو دیکھ کر بچے کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنا رستہ تبدیل کر لیتے ہیں تو آپ ایک لحاظ سے بچے کو یہ پیغام دیں گے کہ اُس کا خوف دُرست ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ آپ بچے کو مجبور کریں کہ وہ اُس بات کا سامنا کرے جس سے وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہوجاتا ہے۔ اس صورتِ حال میں درست حکمت عملی یہ ہوگی کہ اس کی مدد کریں کہ وہ آہستہ آہستہ اس خوف سے نبردآزما ہونا سیکھے۔

بچے کی کیفیت پر نظر رکھیں

اگر بچے کی انزائٹی زیادہ بڑا مسئلہ بنتی جا رہی ہے تو پھر غور سے دیکھیں کہ وہ کونسی صورت ہوتی ہے جب وہ زیادہ پریشان ہوتا ہے۔ اس ترکیب کے پیچھے اصل میں آئیڈیا یہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کے خوف کی کیفیت کو سمجھیں، نہ کہ ان سے پوچھیں کہ وہ خوف زدہ تو محسوس نہیں کر رہے۔

غیرمحسوس طریقے سے خوف سے نکالیں

آپ بچے سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ اس کے ساتھ ماضی میں ایسے کیا واقعات پیش آئے ہیں جن کی وجہ سے وہ یہ سوچتا ہے کہ اس کا خوف حقیقت میں بدل سکتا ہے۔ کیا یہ محض خوف ہے یا اس کا حقیقت سے بھی کوئی تعلق ہے۔ آپ کو مختلف قسم کے سوالات آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ کرنے ہوں گے۔ پھر اس طرح کے سوالات کریں کہ اگر ایسا ہوا تو وہ اس سے کس طرح نمٹے گا۔

بدترین صورتحال کیلئے تیار کریں

اگر کسی ڈرامے یا فلم کو دیکھتے ہوئے کوئی خوف زدہ کرنے والا منظر آئے تو آپ بچے سے پوچھیں کہ اس خطرے سے کس قسم کی بد ترین بات یا حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ پھر آپ بچے سے یہ بھی پوچھیں کہ اس منظر میں بہترین بات کیا ہو سکتی ہے (جیسا کہ اداکاری اتنی اچھی تھی کہ اس وجہ سے اداکار کو ہالی وڈ کی کسی فلم میں اداکاری کا موقع مل سکتا ہے)۔ امکان اس بات کا ہے کہ بچہ اپنے آپ کو ان دو انتہائی باتوں کے درمیان کہیں پائے گا۔

وجہ جاننے کی کوشش کریں

بچوں کو کسی بھی مسئلے کا حل بتانے کے بجائے والدین کو چاہیے کہ وہ ان کی بات کو سنیں اور سمجھنے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے خوف یا فکرمندی، جس کی وجہ سے اُس میں انزائٹی پیدا ہوتی ہے، کو اچھی طرح بلا جھجک بیان کریں۔ ممکن ہے کہ اس کا خوف غلط فہمی کی وجہ سے ہو۔ جب تک آپ یہ نہیں سمجھیں گے کہ بچے کے خوف کی وجہ کیا ہے آپ اُس وقت تک اُس کی مدد نہیں کرسکیں گے۔

بتدریج تبدیلی کی کوشش

ریڈنگ یونیورسٹی سے وابستہ والدین کے ایک جوڑے کو یہ سکھایا گیا کہ وہ اپنے بچے کو 10اقدامات ایسے سکھائیں کہ وہ جس بات سے خوف زدہ ہوتا ہے اگر اس بات کا اُسے سامنا کرنا پڑ جائے تو اُس سے کس طرح نمٹے گا۔ اس طرح بات کرنے سے بچے میں اعتماد پیدا ہوگا۔

نتائج نہیں کوششوں پر نظر

والدین کو اپنی نظر نتائج پر نہیں بلکہ بچے کی کوششوں پر رکھنی چاہیے۔ ہر کوشش پر بچے کی تعریف کریں اور اکثر انعام بھی دیں، اس طرح والدین جب بچے کی کوششوں کو سراہیں گےتو ان میں پیچیدہ حالات سے نمٹنے کا حوصلہ پیدا ہوگا۔

حرفِ آخر

بعض اوقات بچوں کا فکرمند ہونا یا گھبرانا معمول کی بات ہوتی ہے لیکن اگر ان کی گھبراہٹ ان کو کافی پریشان کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ روز مرّہ کا کام بھی نہیں کرسکتے تو پھر مشاورت کرنا بہتر ہو گا۔ ایسی صورت میں کتابیں پڑھیں، جن میں ان مسائل کے بارے میں بہتر حکمت عملی بیان کی گئی ہو یا اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ اگر ضروری محسوس کریں تو ڈاکٹر سے ’کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی‘ کے بارے میں دریافت کریں۔ 

ایک بات یاد رکھیں کہ آپ بچے کی زندگی سے ہر قسم کا خوف یا ہر قسم کی گھبراہٹ ختم نہیں کرسکتے، آپ کا اصل ہدف یہ ہونا چاہیے کہ آپ بچے میں زندگی کی بے یقینیوں سے نمٹنے کی صلاحیت پیدا کریں، بجائے یہ کہ آپ بچے کی خوف محسوس کرنے کی صلاحیت کوہی سرے سے ختم کردیں۔