آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ن لیگ کے 9 ارکان پارلیمنٹ کی اہم اجلاس میں عدم شرکت

اسلام آباد (طارق بٹ) پاکستان مسلم لیگ نواز سے وابستہ 9 سینیٹرز اور قومی اسمبلی (ایم این اے) کے ارکان حقیقی یا انہونی وجوہات کی بناء پر پارلیمنٹ کے اہم مشترکا اجلاس میں شامل نہیں ہوئے، جس سے پارٹی کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

مسلم لیگ نون کے سینئر رہنماء نے دی نیوز کو بتایا کہ ان میں تین ایم این ایز اور چھ سینیٹرز شامل ہیں۔ ان میں سے لاہور سے منتخب افضل کھوکھر دماغ کی رسولی کے باعث تشویشناک حالت کے باعث نہیں پہنچ سکے تھے۔

احسان الحق باجوہ کا تعلق بہاولنگر سے ہے ، وہ مختلف الزامات کے سلسلے میں مختلف ایجنسیوں کی جانب سے تفتیش کے لئے بیرون ملک ہیں۔ بہاولپور سے منتخب ہونے والے ریاض حسین پیرزادہ کو تیز بخار تھا۔ انہوں نے اپنی پارٹی کو بتایا تھا کہ جب انہیں ووٹنگ کے لئے بلایا جائے گا تو وہ پارلیمنٹ پہنچ جائیں گے۔ سینیٹر سلیم ضیا کی نازک سرجری ہوئی تھی اور اس وجہ سے وہ پہنچ نہیں سکے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے پانچ دیگر سینیٹرز یعنی مرزا آفریدی ، شمیم ​​آفریدی، دلاور خان ، راحیل مگسی اور کلثوم پروین کو اہم رائے دہندگی میں ’مستقل غیرحاضر‘ قرار دیا ، جس کے نتیجے میں پارٹی کی عددی طاقت کم ہوئی۔

دوسری جانب مسلم لیگ نون کی ایم این اے رومانیہ، جو آئی سی یو میں تھیں، نے ووٹ ڈالا۔ سابق اسپیکر اور مسلم لیگ نون کے سینئر رہنماء سردار ایاز صادق نے دی نیوز سے گفتگو میں دعویٰ کیا کہ پارلیمان میں ووٹوں کی گنتی میں ہیرا پھیری کی گئی اور انہوں نے اسد قیصر کو اس کیلئے ذمہ دار قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو حکمران جماعت کے بڑے رہنماؤں نے جلدی سے بلوں کی منظوری حاصل کرنے پر مجبور کیا جو اپنے ہاتھوں سے انہیں اشارے کرتے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زبردستی کی قانون سازی ہمیشہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔

ایاز صادق کا کہنا تھا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ قائد حزب اختلاف کو اہم ترین قانون سازی پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حزب اختلاف کے بعض ارکان کو فون کالز کرکے کارروائیوں میں شرکت نہ کرنے کا بھی مشورہ دیا گیا تاکہ حکمران جماعت کا سفر آسان ہوجائے۔ دیگر جماعتوں کے ایم پیز سمیت مجموعی طور پر تین درجن ایم پیز اس دوران موجود نہ تھے۔

اہم خبریں سے مزید