آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ ربیع الاوّل1442ھ 25؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یا اللہ، کیا خطا ہوئی کہ 9ستمبر 2020کی صبح میری دنیا اندھیر ہو گئی۔ اے وحدہ لاشریک، میں نے تو صرف ستاروں کی خواہش کی تھی لیکن اُن ظالموں نے میرے دامن میں گھور اندھیرے ڈال دیے، خدایا، تو گواہ ہے کہ میں تو ہمیشہ تیری راہ پہ چلی، تجھ پر یقین کیا اور خاندان کی عزت کو سنبھال سنبھال کر چلی، میں وہ گلاب تھی جس پر شبنم بھی پوری آبرو سے گرا کرتی تھی لیکن اُن ظالموں نے معصوم جگر گوشوں کے سامنے میری آبرو تار تار کرکے مجھے زندہ درگور کردیا۔ دو جہانوں کے مالک، میرے بچوں کے چہرے آج تک بےرنگ ہیں، انکی آنکھوں میں خوف کے سائے بدستور لہرا رہے ہیں، زبانیں گنگ ہیں، وہ میمنوں اور ہرنوں کی مانند قلانچیں بھرنا بھول چکے ہیں، کھانا پینا چھوٹ گیا ہے، ایسی سسکیاں بھرتے ہیں کہ دل ڈوب ڈوب جاتا ہے، کبھی دل میں آتا ہے کہ جان جانِآفرین کے سپرد کردوں پھر اِن ننھی جانوں کا خیال در آتا ہے، ذہن میں وہ علمی قندیل روشن ہوتی ہے کہ یہ تو عملِ حرام ہے اور پھر اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تاروں کو سینے سے اس قدر زور سے چمٹا لیتی ہوں کہ کوئی جدا نہ کر پائے۔ گھنٹوں روتی رہتی ہوں، آنکھوں کے راستے رنج و غم کا ایسا بےکراں سیلاب بہتا ہے جس کے آگے بند باندھنا ناممکن لگتا ہے، ستر مائوں سے بھی زیادہ رحم کرنے والے مالکِ کائنات، پتا نہیں میرا شکوہ کرنا بنتا بھی ہے یا نہیں۔ اے میرے پیارے پروردگار، میں نے ریاست کو بھی مدد کیلئے پکارا، جو بےسود رہا، جتنے کلمے یاد تھے با آوازبلند دہرائےلیکن کوئی معجزہ برپا نہ ہوا، ان دونوں ظالموں کے سامنے ہاتھ جوڑے، تیرے پاک نام کےواسطے بھی دیے لیکن اُن ظالموں پر تو شیطان سوار تھا، ابتک وہ خوفناک منظر میری یادداشت سے محو نہیں ہو رہا، کئی ہزار لٹر پانی خود پر بہا چکی ہوں لیکن نجاست سے نجات حاصل نہیں کر پائی۔ یااللہ میری مدد کر اور مجھے صبر عطا فرما۔ میرے اہلِ خانہ کو سکونِ کامل عطا فرما، آمین۔ ایک ہفتہ سے زیادہ دن گزر چکے لیکن ابھی تک وہ خوفناک واقعہ وائرس کی طرح ذہن کے سافٹ وئیر میں چپکا ہوا ہے، ڈیلیٹ کرنے کی بہت کوشش کی، سسٹم انکاری ہے۔ اب تو لطفِ شمس و قمر سے عاری ہو چکی ہوں، چمکتے تاروں کی اچھی بستی کی امید پر آئی تھی کہ دہکتے انگارے دامن میں بھر دیے گئے، ہمیں تو روشن بستیوں کے خواب دکھائے گئے لیکن یہاں اندھیری کھائیاں مقدر کردی گئیں، مردانہ وار زندگی کو جھیلنے کا فن سیکھ کر آئی تھی لیکن ان جانوروں نے لمحوں میں اجل سے شناسائی کروا دی، نئے پاکستان میں جینے اور آگے بڑھنے کا سوچ کر یہاں آئی، کیا پتا تھا کہ ہر روز کا مرنا جینا قسمت کردیا جائیگا، رفعتوں کی چاہتیں وطن کھینچ لائیں لیکن ظلمتوں کی چادر اوڑھا دی گئی، میرے ننھے جگر گوشے وطن کی پیشانی پر افشاں بن کر چمکنے کیلئے آئے تھے لیکن اب ان مظلوموں کی آہوں سے بھی شرارے نکل رہے ہیں۔ ریاستی اداروں سے سخت نالاں ہوں، جس تبدیلی کا میرا سارا خاندان حامی تھا اس نے عین وقت پر بڑا دھوکا دیدیا، تبدیلی اتنی کھوکھلی نکلے گی، وہم و گمان میں بھی نہیں تھا، مانا کہ مجھ سے شدید غلطی سرزد ہوئی لیکن اتنا بڑا جرم تو نہیں تھا کہ اتنی قبیح سزا مسلط کی جاتی لیکن مجال ہے اِس عہد کے سلطان کے کان پر جوں بھی رینگی ہو، مجال ہے کہ کسی نے میرے سر پر آکر احساسِ تحفظ بھری چادر ڈالی ہو، مجال ہے کہ کسی باپ نے میرے آنسو پونچھے ہوں، مجال ہے عورتوں کے حقوق کے تحفظ پر بڑے بڑے لیکچر دینے والی حکومتی خواتین نے آگے بڑھ کر میری ہچکیوں کی شدت کو سمجھا ہو اور کسی نے میرے زخموں پر مرہم رکھا ہو۔ ان سے اچھے تو میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف تھے جو کسی بھی سانحے کے بعد فوری طور پر موقع پر پہنچتے اور نہ صرف غم میں شریک ہوتے بلکہ مجرموں کو قرار واقعی سزا دلوانے میں کلیدی کردار ادا کرتے۔ جنہیں یہ شو باز کہہ کر اپنی جھوٹی انا کو تسلی دیا کرتے تھے۔ میرے ہی نہیں بلکہ ہم سب کے تمام زعم چکنا چور ہو گئے، اب تو میرا پیغام صرف ایک ہی ہے، ان کیلئے جو ریاست کو ماں سمجھا کرتے ہیں، اٹھو سراب خواب سے باہر نکلو، آنکھیں پرنم ہیں، دل سسک رہا ہے، کوئی جائے فرار نظر نہیں آتی ہے، کانپتے لبوں پر ایک ہی بات ہے، اے میرے وطن کے باسیو، خدائے بزرگ و برتر نے ہم عورتوں کو تاڑنے، نوچنے اور قتل کرنے کیلئے نہیں بنایا، بلکہ اس نے ہمیں تمہاری ناموس بنایا، اس کی قدر کرو۔ ہمیں ماں، بہن، بیٹی اور بیوی بنایا، میری درخواست ہے ہمیں جینے دو۔ صائمہ عارف ایڈووکیٹ نے اس سانحے پر کچھ یوں لب کشائی کی:

جب آئی پردہ چشم پہ ماں کی رسم قرباں

تو ٹپک پڑی ہرآنکھ سے وہی غمِ داستاں

موٹروے پر صرف ایک ماں، ایک بیٹی یا ایک بہن بےآبرو نہیں ہوئی بلکہ سب ذمہ داروں کی عزت کے پرزے اُڑے ہوئی لیکن افسوس اپنے غرور اور ہٹ دھرمی پر قائم ذمہ داران معمولی سے بھی نادم نہیں ہیں، یہ خوف بھی نہیں کہ روزِ حشر اپنے دامن پر لگے بےآبروئی کے داغوں کا کفارہ کیسے ادا کر پائیں گے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ذمہ داران کے غرور کی عصمت دری ہو چکی اور یہ نادم بھی نہیں۔