آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

صوبائی محکمہ صحت کی حالیہ رپورٹ میں پنجاب میں پولیو کے 63فیصد ماحولیاتی نمونے مثبت آنے کا انکشاف ملک بھر میں جاری انسدادِ پولیو مہم کیلئے نہ صرف ایک دھچکا ہے بلکہ پاکستان میں کئی عشروں سے جاری پولیو مہم کے باوجود تاحال اِس وائرس کا کنٹرول نہ ہونا، متعلقہ حکام اور پروگرام منیجرز کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ واضح رہے کہ انسدادِ پولیو مہم کی کامیابی کو صحیح طور پر جانچنے کیلئے سیوریج کے پانی کے نمونوں کا لیبارٹری ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔لہٰذا پانی میں وائرس کی موجودگی سے عیاں ہے کہ پروگرام کامیاب نہیں ہورہا۔ گزشتہ سال مثبت نمونوں کی شرح 38فیصد تھی جو رواں سال کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران بڑھ کر 63فیصد ہو گئی ہے۔ ان اعداد و شمار پر صحت کے عالمی ماہرین نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ پاکستان اس وقت دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ابھی تک پولیو کے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سیوریج کے 40نمونے اکٹھے کیے گئے اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پولیو وائرس کے تمام نمونے مثبت آئے۔ ڈیرہ غازی خان، لاہور کے بعد دوسرا ضلع ہے جس میں مثبت نمونوں کی شرح 88فیصد ہے، اس کے بعد شیخوپورہ میں 63فیصد، فیصل آباد 47فیصد، گوجرانوالہ اور بہاولپور 43فیصد، ملتان 42فیصد، راجن پور 33فیصد اور سیالکوٹ اور سرگودھا

میں 25فیصد ہے۔ یہ اعدادو شمار تو صرف ایک صوبے کے ہیں دیگر صوبوں میں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ماہرین صحت کے اس انتباہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اس خطرناک تناسب میں صوبے کے 12ہائی رسک اضلاع میں پولیو وائرس کی موجودگی کا مطلب ہے کہ یہ وائرس باقی شہروں میں بھی تیزی سے پھیل سکتا ہے۔ اب ضروری ہو گیا ہے کہ اس پہلو پر بھرپور توجہ دی جائے اور یہ بھی پتہ لگایاجائے کہ انسدادِ پولیو کی مد میں ملنے والی مسلسل امداد کے باوجود اب تک وائرس کا خاتمہ کیونکر ممکن نہ ہو ا؟۔