آپ آف لائن ہیں
جمعرات4؍ ربیع الاوّل 1442ھ 22اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

(گزشتہ سے پیوستہ)

19ستمبر کو شائع ہونے والے ’’آئین نو‘‘ کی پہلی قسط میں واضح کیا گیا کہ ’’راوی ریور ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا جو افتتاح وزیراعظم عمران خان نے کیا ہے وہ اپنے آغاز پر اتنا مبہم ہے کہ یہ ہی واضح نہیں ہوا کہ یہ راوی بینک کی ڈویلپمنٹ کا پروجیکٹ ہے یا پہلے سے بےہنگم پھیلتے، بڑھتے شہر لاہور کی مزید توسیع کا منصوبہ یا راوی کے اُس پار یہ لاہور کا کوئی ٹوئن سٹی ہوگا جسے اُجڑے راوی پر دو تین نئے پل تعمیر کرکے آج کے گنجان آباد لاہور سے ملایا جائے گا۔ 60برس سے اوپر کے لاہور کے جم پل شہری تو سب جانتے ہیں کہ شہر کی جانب راوی کے کنارے (بند روڈ پر) قصور پورہ سے لے کر شاہ پور کانجراں اور اس سے بھی آگے تک تربوز، خربوزے، ٹماٹر اور دوسری سبزیوں کے کھیتوں پر مشتمل جو سرسبز و شاداب زرعی قطعے تھے، وہ تو مدتوں پہلے اُجڑ گئے۔ بند روڈ کے ساتھ شہر لاہور میں شاہدرہ کے زیرو پوائنٹ (بتی والا چوک) سے بابو صابو (دھوپ سڑی) تک جو گیندے، گلاب اور موتیے کے کھیت اور لیموں کے باغات بیلٹ کی شکل میں تھے، وہ اور ان کے ساتھ ساتھ شہر کی جانب کوئی ایک کلومیٹر زرعی رقبے یکسر ختم ہوکر یہاں بغیر کسی پلاننگ کے پکے گھروں کی بھونڈی گنجان آبادیاں بن گئیں۔ یہ جتنا حسین اور مسحور کن دریا کا کنارہ تھا، اب بند کے اِدھر اور اُس پار اتنا ہی اذیت ناک اینٹوں، پتھروں اور ٹیڑھی، میڑھی گلیوں اور تنگ بازاروں پر مشتمل سبزے سے خالی اذیت ناک آباد علاقہ بن گیا ہے، دریا کے اِس کنارے اور شہر کے دوسرے کنارے (اُس پار) راوی بینک کا وہ حصہ (جو لاہور شہر کے ساتھ ساتھ ہے) کو ڈویلپ کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔ اگر اس پار کی آبادیوں کے آگے باقیماندہ زرعی قطعات سے نئے شہر یا توسیع شہر کا آغاز کرنا ہے تو تاریخی لاہور شہر کے ساتھ بڑا ظلم اور زیادتی ہوگی۔ شہر کی مزید وسعت اور راوی کے اس پار جدید شہر کے نام پر بھی کوئی دوسرا شہر بنانا لاہور کے مستقبل کو مسخ کرنے والی منصوبہ بندی ہوگی۔

پاکستان کو ’’مدینے کی ریاست‘‘ بنانے کےجذبے سے سرشار وزیراعظم کی خدمت میں گزارش ہے کہ وہ اس حدیث نبویؐ کا مطالعہ کریں اور اسے آج خصوصاً کراچی پر ڈھائے گئے ستم کے تناظر میں دیکھیں اور سوچیں جس کے مطابق نبی پاکؐ نے شہروں کو زیادہ وسعت دینے سے گریز کا صراط مستقیم دکھایا اور فرمایا کہ اس سے اخلاقی قدریں کمزور پڑھتی، جرائم اور دوسری برائیاں بھی بڑھتی ہیں۔ حدیث کے مفہوم کے مطابق آپؐ نے یہ بھی تجویز کیا کہ جب شہر بڑھنے لگیں تو انہیں وسعت مت دو بلکہ فاصلے پر نئے شہر آباد کرو۔ حدیث شریف کے ہی حوالے سے اقبال نے اٹلی کے ڈکٹیٹر مسولینی کی دعوت پر اس سے جو ملاقات 27نومبر 1931کو کی، اُس میں اُس نے شاعر مشرق سے مشورہ مانگا کہ ہم اطالویوں کو قوم کی تعمیر کیلئے کیا کرنا چاہئے؟ اقبالؒ نے مسولینی کو یہ حدیث سنائی اور اس کی تفسیر کی تو وہ بےحد متاثر ہوا اور اقبالؒ کا شکریہ ادا کیا کہ ہم اس پر عمل پیرا ہوں گے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد جب امریکہ کے مارشل ایڈ پروگرام سے تباہ شدہ مغربی یورپ کے تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیرنو اور معمول کی سماجی زندگی کی بحالی ہوئی تو جنگ سے متاثرہ سب ہی ملکوں نے نئے قومی انفراسٹرکچر میں یہ حکمت عملی اختیار کی کہ بڑے شہروں کی وسعت کی حدود تعین کرکے فاصلوں پر چھوٹے لیکن مکمل سہولتوں سے آراستہ نئے شہروں کی تعمیر سے تباہ شدہ یورپ کو معیارِ زندگی میں دو اڑھائی عشرے میں ہی امریکہ سے بھی آگے کردیا۔

آج پاکستان کے تمام پرابلم تیزی سے بنتے، بڑے شہر اپنی مطلوب میٹرو اینڈ سٹی مینجمنٹ کے لئے چیلنج بنتے جا رہے ہیں اور انحطاط کی کیفیت ہر شہر میں ہے لیکن ہمارا یہ حال ہے کہ ہماری منتخب حکومتیں مقامی حکومتوں (یا بلدیاتی اداروں) جو اسے ناصرف کنٹرول کرنے بلکہ شہریوں کو انتہائی بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کا آئینی بندوبست ہیں، کی راہ میں 1973سے حائل ہو رہی ہیں۔ کراچی اور لاہور اپنی اعلیٰ، مہذب، علمی فروغ پاتی اقتصادی زندگی میں پہلے تین چار عشروں تک پوری قوم کی امیدوں کا مرکز بنے رہے بلکہ دوسرے بڑے شہروں کو بھی مطلوب انداز میں متاثر کرتے رہے لیکن آج ان کا، خصوصاً کراچی کا جو حال بگڑی سیاست نے کیا، اس میں دم توڑتی اخلاقیات تشویشناک امنِ عامہ، بنیادی سہولتوں کی بڑھتی ننگی سرخ لائن عبور کر چکی ہے۔ ماحولیات کی صورتحال بھی تیزی سے بگڑی ہے، ایسے میں لاہور میں متذکرہ راوی ریور ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تناظر میں لازم ہے کہ وفاقی اور پنجاب حکومت اس حوالے سے کوئی جلدبازی نہ کرے۔ بلکہ لازم ہے کہ: وفاقی و صوبائی حکومتوں اور انتخابات ہونے پر کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ کی مقامی حکومتوں، ٹیکنو کریٹس اور ان کے پوٹیشنل شہریوں کے باہمی مشورے اشتراک اور شیئرڈ ویژن سے اربنائزیشن پر نیشنل پالیسی ڈاکیومنٹ لاکر قوم کو اس کارِ عظیم میں شامل کرنے کے لئے مشتہر کیا جائے، موضوع پر کانفرنسز اور سیمینارز ہوں۔ میڈیا ٹاک شوز کے ایجنڈے میں اسے شامل کیا جائے، ایک سال کے اس ماحول اور آرا آنے کے بعد پالیسی، جو سفارشات کی روشنی میں بنے، پہلا کام قانون سازی کا کیا جائے، جو قومی، صوبائی اور مقامی منتخب ایوانوں میں کی جائے۔ ہر حال میں بڑے شہروں کی مزید وسعت روکنے، حدود کا تعین کرنے اور ان کے گردونواح کے ماحول کو کمفرٹ ایبل اور جدید بنانے کا مرحلہ وار کام شروع کیا جائے۔ فاصلوں پر نئے شہر آباد کرنے کے لئے INNOVATIVE ماڈلز طلب کئے جائیں۔ پالیسی میں مجوزہ شہروں کے امتیاز پیدا کرنے اور مشترکہ لازم ضرورتوں کی نشاندہی اور ان کے بندوبست میں شہریوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنانے کے لئے حکمت ہائے عملی اختیار کی جائیں۔ بڑے بڑے شہروں کے گردونواح میں کم از کم ایک ایک سو کلومیٹر کے فاصلے قانون کے مطابق طے شدہ حدود کے شہر بن گئے تو بڑے شہر ان کے بڑے موثر معاون بنیں گے، ان کو جدید نیٹ ورک سے ملایا جائے، اس طرح ماڈل ویلیجز کے نئے جدید ماڈل بھی تیار ہونے چاہئیں اور ان کے تحصیلی اور ضلعی صدر مقام سے رابطوں کو آسان تر بنایا جائے۔ وزیراعظم صاحب! آپ اس کار خیر سے ریاست مدینہ کے قیام کا آغاز کرنے کا سوچیں، اس کی بڑی برکات ہوں گی، آپ کی بھاری بھر سرمایہ کاری لانے، تعمیرات کو اقتصادی سرگرمیوں میں اولین ترجیح دینے سے ناممکن نظر آتی ملازمتیں اور سستے مکانات جیسے خواب بھی پورے ہونے کی راہ نکل آئے گی۔

کریں گے اہل نظر تازہ بستیاں آباد

میری نگاہ نہیں سوئے کوفہ و بغداد