آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کورونا وائرس کے نئے پہلوؤں نے سائنسدانوں کو دنگ کردیا

بڈاپسٹ(این این آئی)یورپی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ کرونا وائرس ان حالات میں بھی اپنا تحفظ کرسکتا ہے جس میں دیگر جراثیم ہار مان لیتے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہنگری میں ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے کورونا وائرس کو ایک سوئی کے سرے سے دبا کر جاننے کی کوشش کہ کتنی طاقت سے یہ کسی غبارے کی طرح پھٹ سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران سارس کوو 2 کے ایک ذرے کو لیا گیا جو کہ محض 80 نانو میٹرز چوڑا تھا اور نانو سوئی کو استعمال کیا گیا جس کا سرا اس سے بھی چھوٹا تھا۔

اس سرے سے وائرس کو دبایا گیا اور دریافت ہوا کہ وہ کسی الاسٹک کی طرح کام کرتا ہے یعنی دبانے کے بعد جب چھوڑا جاتا ہے تو وہ ایک بار پھول جاتا۔محققین نے سو بار ایسا کیا اور ہر بار یہ ذرہ اپنی شکل برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔

اس تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ وائرس حیران کن حد تک مزاحمت کرتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ آن لائن جاری کیے گئے۔ درحقیقت یہ نیا وائرس مسلسل سائنسدانوں کو اپنی منفرد ساخت سے حیران کررہا ہے۔

اس تحقیق سے عندیہ ملتا ہے کہ نوول کورونا وائرس انسانوں کو واقف وارئسز میں سب سے زیادہ لچکدار ہے اور اس کی شکل کو بگارنے سے اس کی ساخت اور اندر موجود مواد پر کوئی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس کی مکینیکل اور خود کو ٹھیک کرنے کی خصوصیات ممکنہ طور پر مختلف ماحولیاتی عناصر میں ڈھلنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔

یورپ سے سے مزید