آپ آف لائن ہیں
بدھ10؍ربیع الاوّل 1442ھ28؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مولانا کی ’’ملاقات‘‘ سے لے کر نواز شریف کی ’’پریشانی‘‘ تک

اسلام آباد (انصار عباسی) وفاقی وزیر شیخ رشید نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بالمشافہ ملاقات کی لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے دھرنے کے حوالے سے جو ملاقات کی تھی وہ آرمی چیف سے نہیں کسی اور اہم ترین شخصیت سے کی تھی۔

نومبر 2019ء میں مولانا فضل الرحمٰن نے شرائط کا انکشاف کیا تھا جن کی بنیاد پر اپوزیشن کے آزادی مارچ کو ختم کر دیا گیا تھا۔ میڈیا میں ان کے حوالے سے جو بیان سامنے آیا تھا اس کے مطابق انہوں نے کہا، ’’ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ دسمبر کے مہینے میں تبدیلی آئے گی۔ مجھے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئندہ تین ماہ میں نئے عام انتخابات کرائے جائیں گے۔‘‘

بعد میں، رواں سال کے اوائل میں، مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اپنی جماعت کا اسلام آباد میں حکومت مخالف دھرنا اس یقین دہانی کے بعد ختم کیا تھا کہ نئے انتخابات ہونگے اور اس سے قبل وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں گے۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما نے میڈیا کو بتایا تھا کہ میں (پنجاب اسمبلی کے اسپیکر اور پی ایم ایل ق کے رہنما) چوہدری پرویز الٰہی سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ راز افشاء کریں ۔۔۔ یہ راز کہ مجھے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ وزیراعظم مستعفی ہوں گے اور ان کے استعفے کے تین ماہ بعد آزاد اور شفاف الیکشن کرائے جائیں گے۔

مولانا نے اس ’’مصالحتی کردار‘‘ کا ذکر کیا جو پرویز الٰہی نے ادا کیا تھا جس کے نتیجے میں دو ہفتوں سے جاری حکومت مخالف دھرنا ختم ہوا تھا۔ دھرنا ختم کرنے کو مولانا نے پلان اے کا نام دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے پلان بی پر عمل کا وعدہ کرتے ہوئے ملک بھر کی مختلف اہم شاہراہوں کو بلاک کرنے کا اعلان کیا لیکن دھرنے اور مظاہرے اپنا تسلسل برقرار نہ رکھ پائے اور ان سے ہوا نکل گئی۔ نون لیگ کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطوں کے حوالے سے دی نیوز میں 12؍ اگست کو ’’مریم نواز محتاط ہیں‘‘ کے عنوان سے خبر شائع کی تھی جس میں چند اہم معاملات کا ذکر کیا گیا تھا۔

مہینوں کے طویل وقفے کے بعد، مریم نواز 12؍ اگست کو ملک کے سیاسی منظرنامے پر دوبارہ نظر آئیں اور اس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان اور نیب پر حملہ کیا۔ تاہم، وہ محتاط تھیں کہ اصل قوتوں کیخلاف بیان نہ دیں۔ اسی خبر میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ باوجود اس کے نون لیگ کے رہنما جو کچھ ظاہر کر رہے ہیں اور تاثر دے رہے ہیں، کئی سینئر پارٹی رہنما نہ صرف اہم شخصیات کے ساتھ رابطوں میں ہیں بلکہ اس میں خوشی بھی محسوس کرتے ہیں۔

خبر میں مزید بتایا گیا تھا کہ نون لیگ کے رہنمائوں نے بہت زیادہ اچھے سے یہ سمجھ لیا ہے کہ ان کی حدود کیا ہیں اور وہ کس طرح دوبارہ اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔ ماضی میں چوہدری نثار علی خان نون لیگ اور طاقتور حلقے کے درمیان رابطے کا مرکزی ذریعہ تھے۔

لیکن اب یہ طاقتور حلقوں کی مرضی ہے وہ نون لیگ میں سے جس سے چاہیں اس سے رابطہ کریں۔ شہباز شریف کے اپنے تعلقات ہیں، خواجہ آصف بھی اپنے رابطوں کی وجہ سے پارٹی میں اہم بن گئے ہیں۔ سردار ایاز صادق بھی پارٹی میں اسی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی سے بھی کئی مرتبہ رابطے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ان کی ’’مذاکرات‘‘ میں فریق بننے سے ہچکچاہٹ نے انہیں اس کمزور سمت میں دھکیل دیا جہاں کسی ممکنہ ڈیل کا امکان نہیں۔

خبر میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ نون لیگ کی سینئر قیادت میں ہر شخص طاقتور حلقوں سے کسی نہ کسی سطح پر رابطے میں ہے۔ نون لیگ کے ایک ذریعے نے اس نمائندے کو بتایا کہ نون لیگ کے قائد اس لیے پریشان ہیں کہ جو وعدے پارٹی سے متعدد مرتبہ کیے گئے ان پر عمل نہیں ہو رہا۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اپنی پارٹی کے کچھ سینئر رہنمائوں سے بھی ناراض ہیں جنہوں نے ’’پارٹی لائن‘‘ عبور کرکے کچھ اقدامات کیے ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید