آپ آف لائن ہیں
پیر 8؍ ربیع الاوّل1442ھ 26؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

2025ء تک گردشی قرضہ 400ارب تک جاسکتا ہے،شرکاء مذاکرہ

اسلام آباد (ناصر چشتی، خصوصی نمائندہ) گردشی قرضے، طلب میں کمی، درآمدی اخراجات اور ٹھوس منصوبہ بندی نہ ہونے سے توانائی کا شعبہ مسائل کا شکار ہے، بجلی کی تقسیم کار میں بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور مقامی وسائل کو استعمال نہ کیاگیا تو 2025 تک گردشی قرضہ 400؍ ارب تک جا سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار کارپوریٹ پاکستان گروپ (سی پی جی) کے زیر اہتمام ʼʼپاکستان کے پاور سیکٹرمیں بہتریʼʼ کے موضوع پر ہونیوالے ایک مذاکرے سے شرکا ءنے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شرکاء میں اینگرو انرجی لمٹیڈ کے سی ای او احسن ظفر سید، ڈائریکٹرلمز انرجی انسٹی ٹیوٹ ورنر وان سیمنس چیئر،پروفیسر آف پریکٹس ڈاکٹر فیاض چودھری اورکوٹ ادوپاور کمپنی(کیپکو) کے منیجنگ ڈائریکٹرآفتاب محمود بٹ شامل تھے، چیف ایگزیکٹو آفیسر، اینگرو انرجی لمٹیڈ احسن ظفر سید نے ملک کو درپیش توانائی کے مسائل پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتا ہوا گردشی قرضہ،گنجائش کا زیادہ ہونا، بجلی کی طلب میں کمی،بجلی کی زیادہ قیمتیں اور زرمبادلہ کی نکاسی جیسے چیلنجز کے باعث پاکستان کے شعبہ توانائی کی کارکردگی متاثر ہو رہی ہے تاہم ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری،مناسب اور آزادانہ پاور پلاننگ جس میں بجلی کی فراہمی ا ور طلب دونوں اطراف کے پیرا میٹرز پر توجہ دی گئی ہے ،صنعتی کیپٹو پاور

جنریشن کی گرڈ پر منتقلی بھی ان مسائل کو حل کرنے میں مدد دے سکتی ہے، توانائی کے شعبہ میں صنعتکاری بڑھانے سے بھی ان مسائل میں بہتری لائی جا سکتی ہے،بجلی کی طلب میں اضافہ اور آئی پی پی کے قرضہ جات کو 10 سے 20 سال کیلئے ری سٹرکچر کرنے کیساتھ ساتھ مستقبل کے تمام منصوبہ جات کی یکساں تکمیل کو بھی یقینی بناسکتے ہیں، 30 جون 2018ء کوگردشی قرضہ 12 ارب روپے تھا جو 10جون 2020ء تک بڑھ کر22 ارب روپے ہو گیا ہے،ان حالات میں اگر تمام ڈسکوز کی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا جاتا تو گردشی قرضوں میں مزید 1.5کھرب کا اضافہ ہو سکتا ہے،جس سے سال 2025ء تک، مجموعی گردشی قرضہ تقریباً 4 کھرب روپے تک پہنچ جائے گا،اگر ملکی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے تو آئندہ برسوں میں ملکی معیشت بھی نسبتاً دباؤکا شکار رہے گی جس کے نتیجے میں مجموعی قومی پیداوار(جی ڈی پی)کے مقابلے میں بجلی کی طلب بھی کم رہے گی ،اس طرح گنجائش زیادہ اور طلب کم ہو جائے گی،اس وقت پاکستان میں بجلی کی طلب مجموعی قومی پیداوارسے کم ہے حالانکہ توقع اسکے برخلاف تھی، بجلی کی طلب میں اضافہ بنیادی طور پرگھریلو صارفین اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کی بجائے سروس(tertiary) سیکٹر کی سرگرمیوں میں اضافیسے کیا جا سکتا ہے، پاکستان کیلئے یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ انرجی سیکٹر میں مقامی اور قابل تجدید وسائل استعمال کرے اور زرمبادلہ کی نکاس کو کم کرے،حکومت مقامی وسائل میں اضافہ کرتے ہوئے درآمدی کوئلے کے ساتھ، تھر سے حاصل ہونے والے کوئلے کے استعمال کے امکانات پر بھی غورکرے، پروفیسر آف پریکٹس، ڈائریکٹر لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ ویرنر وان سیمنس چیئرڈاکٹر فیاض چودھری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبہ میں خرابیوں کی اصل وجہ مضبوط پالیسیوں کا فقدان ہے، ہمیں بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے بجلی کی بھروسہ مند فراہمی پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، پیک ڈیمانڈ میں کمی اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی مدد سے بجلی کی ٹرانسمیشن،تقسیم کار اور پیداواری صلاحیتوں میں بہتری لانی چاہیے۔

اہم خبریں سے مزید