آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن کے وکٹوریہ ریلوے اسٹیشن کے ایک ریستوران کے کاوٴنٹر پر ایک صندوقچی رکھی تھی‘ جس پر لکھا تھا۔
Your change can change
لوگ جب اپنے کھانے کے پیسے دینے لگتے تو ان کو جو changeملتی اس کو کچھ لوگ اس صندوقچی میں ڈال دیتے۔ میرے دوست اور میں نے اس ریستوران میں چائے پی اور جب کاوٴنٹر پر رکھی صندوقچی پر یہ عبارت پڑھی تو دل خوش ہوگیا۔ میرے دوست کہنے لگے” یہ زبان کی خوبی ہوتی ہے کہ ایک ہی لفظ کے کئی معنی سامنے آجاتے ہیں“۔ میں اس فقرے کے بارے میں سوچتا رہا اور پھر میں نے کہا ”اُردو میں اسے ہم یوں کہہ سکتے ہیں۔آپ کا دیا ‘ کسی گھر کا دیا روشن کرسکتا ہے“۔ بہت دن تک یہ لفظ ذہن پر چھایا رہا۔ لندن اور امریکہ کے شہریوں میں اکثر انڈرگراوٴنڈ یا فٹ پاتھ پر ایسے گداگر مل جاتے ہیں جو بھیک اس طرح طلب کرتے ہیں”آپ کے پاس کچھ changeہوگی“۔ ہمارے دوست اطہر شاہ خان کے ایک ڈرامے میں ایک کردار تھا جو اکثر دوستوں سے کہا کرتاتھا ”آپ کے پاس کھلے ہوئے22روپے ہوں گے؟ آپ کے پاس کھلے ہوئے13روپے ہوں گے؟ وغیرہ وغیرہ“۔
Changeکو ہمارے ہاں عام طور پر ”کُھّلا“ کہا جاتا ہے۔ پنجابی میں اسے ”بھان“ کہتے ہیں۔ میرے دفتر کے نیچے ایک ہوٹل ہے وہاں اکثر بھکاری changeلے کر آتے ہیں۔ چھوٹے نوٹ دے کر بڑے نوٹ لے جاتے ہیں۔ ہوٹل والے کے پاس جو بہت سے چھوٹے نوٹ آتے ہیں اس سے

پوچھئے کہ یہ کیا ہے تو وہ کہے گا”change“ ہے“ اور بھکاری کے ہاتھ میں بڑے نوٹ کے بارے میں پوچھئے کہ یہ کیا ہے تو وہ بھی کہے گا ”یہ changeکرایا ہے{{“۔
امریکہ میں اوباما نے جب اپنے پہلے الیکشن میں changeکا نعرہ دیا تو لوگ چونکے کہ اوباما نے گداگروں کا طرز کلام کیوں اپنا لیا؟ پھر جب اس نے کہا کہ ہم امریکہ میں changeلائیں گے تو لوگوں نےchangeکو انہی معنوں میں لیا اور کہا کہ اب تک تو ہم ساری دنیا کو changeدیتے تھے، اب کیا امریکہ اپنے میں changeلائے گا؟
یہ ملین ڈالر سوال تھا لیکن اوباما نے اس کا جواب ٹریلین ڈالر کے changeسے یوں دیا کہ اس نے چین سے change مانگنا شروع کردیا۔ اوباما امریکہ میں کئی طرح کا changeلایا۔12 سال پہلے جب امریکہ افغانستان میں آیا تھا تو لوگ اس سے پناہ مانگتے تھے۔ اب وہ خود افغانستان کے سابق حکمرانوں سے اَمن کی changeمانگ رہا ہے۔
ہمارے ملک میں بھی changeکا نعرہ لگ رہا ہے۔ انتخابات کا سماں ہے اور الیکشن کمیشن نےchangeکے کئی کارنامے انجام دیئے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے وزیراعظم کی گدی پر بظاہر جواں راجہ کی جگہ اپنے ہم عمر کو لا بٹھایا۔ اس changeکے ساتھ اور بھی کئی changeہوئے۔ جب پارٹیوں کو انتخابی نشان الاٹ کئے گئے تو عمران خان جن کی ساری دنیا میں شناخت ایک فاسٹ بالر کی تھی، جو دنیائے کرکٹ میں بال کے ذریعے کارنامے انجام دے چکے تھے اور جو اپنی تقریروں میں ”بال“ ہی کے حوالے دیتے تھے کہ ایک بال سے دو وکٹیں گراوٴں گا۔ ایک بال سے تین وکٹیں گراوٴں گا۔ ایک بال سے دس کی دس وکٹیں گراوٴں گا…“۔
جب انتخابی نشان الاٹ ہوا تو ان کے ہاتھ میں ”بلا“ تھما دیا گیا۔ اب ان کی شناخت ”بلا“ بن گیا ہے جس کے ساتھ حنیف محمد، جاوید میاں داد، ووین رچرڈ اور لارا کا تصور ذہن میں آتا ہے۔ یوں الیکشن کمیشن کے اس changeنے عمران خان کو لارا بنا دیا۔ ( لارا انگریزی نام ہے اسے پنجابی والا لارا نہ سمجھا جائے)۔
ملک کی کئی پارٹیاں کہہ رہی ہیں کہ ہم changeلائیں گے۔ ادھر ہماری حکومت بھی جہاں جہاں اس کا بس چل رہا ہےchange لارہی ہے مثلاً چک شہزاد کے محل کو جیل میں changeکردیا گیا۔ اس پر کئی حلقوں سے اعتراضات بھی ہوئے اور یہ اعتراضات بے مقصد تھے کیوں کہ قیدی اگر اڈیالہ جیل میں بھی جاتا تو اس کو محل میں changeکردیا جاتا۔
changeکو تبدیلی کے معنوں میں استعمال کرنے والے مختلف پروگرام بنارہے ہیں۔ آج کا دور کاروں اور بلٹ پروف کاروں کا دور ہے ۔ ایسے میں اقتدار کی کرسی کو سائیکل پر بٹھانے کی دعوت دینا بذات خود ایک بڑی تبدیلی ہے۔ وہ اقتدار کی کرسی سے کہہ رہے ہیں” آجا تے بہہ جا سیکل تے“۔
آج کل میڈیا پر مختلف حلقوں کے ووٹروں کے تاثرات دکھائے جارہے ہیں۔ الیکشن کی گہما گہمی پر لوگوں کا تبصرہ اس طرح ہوتا ہے۔
”آج کل تو جی سب ہمارے گھروں پر چل کر آرہے ہیں‘ ہم سے درخواستیں کررہے ہیں ووٹ کی۔ یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے…“۔
”اور جی اس کے بعد پھر ایک تبدیلی الیکشن کے بعد آئے گی جب ہم مسائل حل کرنے کی درخواستیں لیکر جائیں گے تو یہ لوگ آنکھیں بدل لیں گے اور ہم یہ گایا کریں گے، بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں…“۔
پاکستان میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ لوگ الیکشن کے زمانے میں جذباتی ہوجاتے ہیں۔ سمجھتے ہیں کہ ہمارے مسائل حل ہونے کا زمانہ آگیا لیکن جب الیکشن ختم ہوجاتا ہے، حکومت بن جاتی ہے، اقتدار شروع ہوجاتا ہے اور جن سے محبت کی تھی ان لوگوں کی آنکھیں بدل جاتی ہیں۔ لوگ کچھ دن آس لگاتے ‘ چکر لگاتے ہیں پھر مایوس ہو کر دل کو تسلی دینے لگتے ہیں‘ اس طرح کے گانے گا گا کر
ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا
زندہ ہیں کتنے لوگ محبت کئے بغیر

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں