آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کووڈ 19 کے بعد ’سائنسی تعلیم‘ کی اہمیت مزید بڑھ گئی

کووڈ19-کے باعث دنیا کے کئی ممالک میں لگائے جانے والے لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے نتیجے میں تقریباً ایک ارب طلبا اسکول نہ جانے پر مجبور ہیں۔ اس غیرمتوقع اور اَن دیکھی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے تعلیمی اداروں اور ماہرینِ تعلیم نے راتوں رات انسانی تاریخ کے سب سے بڑے ایجوکیشن ٹیکنالوجی (edtech)انقلاب پر عمل درآمد کا آغاز کیا ہے۔ 

ماہرین اس بات پر کام کررہے ہیں کہ اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کے اساتذہ اور طلبا، کس طرح گھر سے تعلیم دے اور حاصل کرسکتے ہیں۔ ہرچندکہ اس نئی صورتِ حال نے طلبا، اساتذہ اور والدین (خصوصاً خواتین) کے لیے کئی عملی مسائل کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کے مسائل بھی پیدا کیے ہیں۔ تاہم یہ صورتِ حال 21ویں صدی میں تعلیم کے نئے مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔

اس بحران میں افراد، اداروں اور معاشروں کو جس دباؤ کا سامنا ہے، وہ چوتھے صنعتی انقلاب میں تیزی کا باعث بن رہا ہے اورطبعی، ڈیجیٹل اور حیاتیاتی دنیاؤں کے مابین سرحدوں کو دھندلا کررہا ہے۔ کیا دنیا بھر کے مختلف تعلیمی نظام طلبا کو مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، حیاتی ٹیکنالوجی، صاف توانائی یا کوانٹم کمپیوٹنگ کے میدان میں سائنسی اور ٹیکنالوجیکل تغیرات کے لیے تیار کررہے ہیں؟ کیا ہم طلبا کو یہ سوچنا سکھا رہے ہیں کہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کس طرح معاشی، ارضی سیاست، ماحولیات یا سماجی چیلنجز کا مقابلہ یا ان میں اضافہ کرسکتی ہے؟

کئی صنعتوں اور ملکوں میں 10سال اور یہاں تک کہ پانچ سال قبل تک بھی وہ شعبے یا ماہرین موجود نہیں تھے، جو آج سب سے زیادہ مانگ میں ہیں اور آنے والے برسوں میں اس رجحان میں مزید تیزی آئے گی۔ جو بچے آج اسکول میں داخلہ لے رہے ہیں، جس وقت وہ ’جابز مارکیٹ‘ میں قدم رکھیں گے، اس وقت ان کے سامنے کام کے 65فیصد مواقع ایسے ہوں گے، جو آج وجود بھی نہیں رکھتے۔ دنیا بھر کے اکثر تعلیمی نظام کووڈ19-سے پہلے بھی اس تیزی سے بدلتے رجحان کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے اور آئندہ بھی ناکامی سے دوچار ہوتے رہیں گے، جب تک کہ وہ ’سائنس‘ کو سکھانے اور سیکھنے کے انداز نہیں بدلتے۔

تعلیم کا مطلب اب یہ نہیں رہا کہ محض تمام نسل کے افراد کو ظاہری علم منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے۔ اوای سی ڈی ملکوں کی تعلیم سے متعلق رپورٹ 2030ء کے مطابق، ’’ہمیں پُرانے تعلیمی معیارات کی جگہ ایک ایسے نئے تعلیمی فریم ورک کی ضرورت ہے جو تخلیقی صلاحیت، کسی بھی مسئلے پر معروضی سوچ بچار کے بعد دُرست فیصلہ کرنے، ابلاغ اور اشتراک جیسے 21ویں صدی کے ہُنروں پر مبنی ہو‘‘۔ یہ تبدیلی صرف کلاس روم کو ’چاک بورڈ‘ سے ’زوم کال‘ پر منتقل کرنے سے نہیں آسکتی بلکہ یہ تبدیلی اس وقت ممکن ہے جب ہم سائنس اور ٹیکنالوجی سیکھنے اور سکھانے کے لیے نصاب کے یکطرفہ بہاؤ اور اسے حفظ کرنے کے بجائے ہر فرد کی انفرادی استعداد اور صلاحیت کے مطابق سیکھنے کے سیلف ڈائریکٹڈ (Self-directed)نظام کی طرف جائیں گے۔ 

تیزی سے بدلتی دنیا میں جہاں ہم یہ پیشنگوئی نہیں کرسکتے کہ مستقبل میں کون سی نئی ٹیکنالوجیز سامنے آئیں گی، ہمیں اپنے بچوں کو یہ سِکھانا ہے کہ ، ’’وہ خود کو کس طرح سکھائیں‘‘۔ زیادہ خود مختار عالمگیر شہری بننے کے لیے طلبا کو صرف علم ہی نہیں ہُنر، دُرست اندازِ فکر اور اقدار کی بھی ضرورت ہے اور یہ بات حالیہ عالمی وَبا سے قبل کبھی بھی اس قدر عیاں نہیں تھی۔

سائنسی تعلیم کی اہمیت

سائنسی علوم کو سمجھنے کی ضرورت شاید اس سے قبل اتنی زیادہ کبھی نہ تھی، جتنی اس وَبا کے پھیلنے کے بعد محسوس کی گئی ہے۔ اس کی ایک سادہ سی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ وَبا سے قبل کئی لوگوں کو وائرس اور بیکٹیریا، اینٹی جین اور اینٹی باڈی، ڈی این اے اور آر این اے وغیرہ کے درمیان فرق معلوم نہیں تھا۔ یہ وہ ’کانسیپٹس‘ ہیں جو اکثر ممالک کے طلبا کو ہائی اسکول کے علمِ حیاتیات کے نصاب میں پڑھائے جاتے ہیں، مگر جب تک وہ سائنسی ڈگری حاصل کرنے کے لیے پڑھنے جاتے ہیں، یہ اصطلاحات سائنس جرنلوں کی زینت بننے تک محدود ہوچکی ہوتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق وَبا سے قبل 81فی صد امریکیوں کو ایک بھی موجودہ سائنسدان کا نام تک یاد نہ تھا، جبکہ آج یہی سائنسدان ہر روز پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر نظر آتے اور ہر گھر میں پہچانے جاتے ہیں۔

کووڈ19-سے قبل، مالیکیولر بائیولوجی اور ایپیڈیمیولاجی ( وبائی امراض کا علم) کو سمجھنا ہر شہری کے لیے مکمل طور پر اختیاری تھا، اب جبکہ اس وَبا سے نمٹنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری بن چکا ہے، ان موضوعات کا علم ہم سب کے لیے زندگی اور موت کا معاملہ ہوسکتا ہے۔ ہم سب اس دور سے گزر رہے ہیں، جب سب اس اجتماعی احساس کے ساتھ بیدار ہوتے ہیں کہ سائنس کو سمجھنے کے ہم سب کی زندگیوں پر کس طرح واضح، عملی اور فوری مضمرات ہوسکتے ہیں۔

ایسے میں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ایسی آنے والی نسل تیار کریں جو عالمی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہو، تو ہمیں ’خواندگی‘ کی تعریف میںSTEMکو شامل کرنا پڑے گا۔ او ای سی ڈی ممالک کی جانب سے خواندگی کی بیان کردہ تعریف کے عین مطابق دنیا کوخواندگی کی تعریف میںدُرست فیصلے کرنے کی صلاحیت، تجسس، تخلیقیت، شراکت میں کام کرنے یا بین الثقافتی سمجھ بوجھ جیسی قابلیتوں اور اندازِ فکر کے ساتھ ریاضی کی خواندگی، سائنس کی خواندگی، ڈیجیٹل خواندگی، مالیاتی خواندگی وغیرہ کو بھی شامل کرنا ہوگا، تاکہ آج کے بچوں کو مستقبل کے ان پیشوں کے لیے تیار کیا جاسکے، جو ابھی وجود ہی نہیں رکھتے۔