آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ٹیکنالوجی اور کھیل کے ماحول میں تعلیم کا فروغ

معیشت اور معاشرے کی بدلتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دنیا بھر کے تعلیمی نظاموں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ بدقسمتی سے آج بھی دنیا کے کئی تعلیم نظام اپنی بوسیدہ حالت میں نافذ ہیں، جو پُرانے صنعتی ماڈلز اور ماضی کے معاشروں کے لیے ڈیزائن کیے گئے تھے۔ مزیدبرآں، تعلیمی نظام میں اصلاحات لاکر معیشت کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنے کے بجائے، اکثر ملکوں میں قومی معاشی اصلاحات کے تحت موجودہ افرادی قوت کو پُرانی روایتی صنعتوں سے اُبھرتی ہوئی معیشتوں کے قابل بنانے کے لیے اُن کے ہنروں کو بہتر بنانے (اَپ-اِسکلنگ) پر کام کیا جاتا ہے۔

ہرچندکہ خواندگی اور حساب دانی کے روایتی تعلیمی پیمانے اہم ہیں، معاشرے کو ایسے متعدد کُلی ہنروں کی ضرورت ہے، جن کی بنیاد پر جدید دُنیا میں ترقی کی منازل طے کی جاسکیں۔ ان ہنروں میں تخلیقی، ٹیکنالوجی، اختراعی (اِنوویشن) اور افراد کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کی صلاحیتیں شامل ہیں۔ زیادہ بہتر رسائی، ذاتی اور سرگرم انداز میں یہ ہنر اور علم حاصل کرنے کی پہلے کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

ایجوکیشن ٹیکنالوجی کی اہمیت

اندازہ ہے کہ 2025ء تک، ایجوکیشن ٹیکنالوجی پر خرچ کی جانے والی رقم کی مالیت 342ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی کیونکہ بدلتی صورتِ حال کے پیشِ نظر تعلیم حاصل کرنے کی بڑھتی ضروریات پوری کرنے کا یہ ایک قابلِ عمل طریقہ ہے۔ دورِ جدید میں طلبا کے لیے حصولِ تعلیم کو سہل اور بہتر بنانے کے لیے کلاس روم، اسکول اور نظام ہائے تعلیم کو ٹیکنالوجی کی مدد سے بڑھاوا دیا جاسکتا ہے۔

البتہ، کیا صرف ٹیکنالوجی ہی کا استعمال نوجوانوں کے لیے حصولِ تعلیم کو آسان بنا سکتا ہے؟ ماہرین کی اس بارے میں متضاد رائے ہے، جن میں برطانیہ کی ایجوکیشن انڈؤمنٹ فاؤنڈیشن بھی شامل ہے۔ ایجوکیشن ٹیکنالوجی کے کئی پروگرام، محض تعلیمی نظام کے پُرانے طور طریقوں کو ڈیجیٹائز کرتے ہوئے رَٹا لگانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جو مستقبل کی ضروریات پوری کرنے سے زیادہ ماضی کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔ 

اس طرح کے طور طریقے ہنر اور علم کے مؤثر اور سرگرم فروغ کو شاذونادر ہی سپورٹ کرتے ہیں۔ اس چیلنج کو کبھی کبھار ’ٹیکنالوجی اور تعلیم کے درمیان دوڑ‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے، جہاں یا تو تعلیم، ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی ترقی کو اپنے لیے استعمال کرتی ہے یا پھرپُرانے طور طریقوں کو ڈیجیٹائز کرکے ٹیکنالوجی، تعلیم کو اپنا غلام بنالیتی ہے۔

کھیل کھیل میں تعلیم

کھیل کے ذریعے تعلیم، ایجوکیشن ٹیکنالوجی کا ایک اور اہم جزو ہے۔ جہاں کھیل، بچوں کو تعلیم کے حصول اور مستقبل کے چیلنجز اور مواقع کے لیے تیار کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے سائنسی شواہد اس بات کی نشاندہی کررہے ہیں کہ بچوں کی مثبت سوچ اور رویوں کو پروان چڑھانے اور انھیں جدید دنیا میں ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے تیار کرنے میں کھیل کے ذریعے تعلیم کے حصول کا نظام مؤثر ثابت ہورہا ہے۔ اس بارے میں غور و فکر کرنا کہ ٹیکنالوجی (جس میں ایڈٹیک بھی شامل ہے) کا کھیل کود میں معیاری استعمال کس طرح اعلیٰ معیار اور مصنوعی ذہانت کے علم کے حصول میں ایک طاقتور پیمانے کے طور پر ہوسکتا ہے، انتہائی اہم ہے۔

کھیل کود کے ذریعے بامقصد تعلیم کا حصول بچوں کی زندگیوں میں ایسے تجربات کا باعث بنتا ہے، جنھیں بچے ہمیشہ یاد رکھتے ہیں اور اس طرح وہ خوشگوار تجربات ان کی زندگیوں کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حصہ بن جاتے ہیں۔ شواہد بتاتے ہیں کہ بچے کھیل کے ذریعے اس وقت زیادہ سیکھتے ہیں، جب ان کا یہ تجربہ خوشگوار ثابت ہو۔ بچوں کے کھیل کے وقت کو اس وقت خوشگوار سمجھا جاتا ہے، جب وہ جو کررہے ہوں یا سیکھ رہے ہوں، انھیں اس میں کوئی مقصد نظر آئے، وہ جسمانی اور ذہنی طور پر اس میں سرگرم طور پر شریک ہوں، ایک عمل کو دُہرا کر اس میں بہتری کے مواقع دستیاب ہوں اور ساتھ ہی سماجی رابطے کے مواقع بھی موجود ہوں۔ اس طرح بچوں کو ادراکی، تخلیقی، طبعی، سماجی اور جذباتی ہنر سیکھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق، بچے ٹیکنالوجی اور کھیل کے ’ہائبرڈ‘ ماحول میں اس وقت سب سے زیادہ سیکھتے ہیں، جب کوئی ان کی رہنمائی کرنے والا موجود ہو اور بالغ و ہمعصر بچے ان کے معاون کا کردار ادا کریں۔ یہ رہنمائی و تجربہ اکثر فعال درسگاہوں (جیسے پروجیکٹ پر مبنی نقطہ نظر) کے ذریعے ہوتا ہے، جو بچوں کو خود سیکھنے میں آزاد انتخاب کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں اور ان کے جسمانی اور / یا ڈیجیٹل نمونے ان کے لیے خاص معنی رکھتے ہیں۔

آج کے دور کی اعلیٰ معیار کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے خاص طور پر ایسے ٹیکنالوجی پلیٹ فارم ڈیزائن کیے گئے ہیں، جو بچوں کو کسی کی رہنمائی میں کھیل کھیل میں تخلیق کے مواقع فراہم کرسکتے ہیں۔ ایسے ٹیکنالوجیکل پلیٹ فارمز میں، کوڈنگ پلیٹ فارم Scratchبھی شامل ہے، جہاں بچے آن لائن کمیونٹی کی مدد سے اپنی کہانیاں، گیم اور اینیمیشن تخلیق کرسکتے ہیں۔ Minecraftایک ’اوپن اینڈ سینڈ باکس‘ پلیٹ فارم ہے، جہاں بچے اپنے ہم عصروں کے ساتھ ورچوئل دنیا تخلیق اور تلاش کرسکتے ہیں۔ Lego Mindstorms پر بچے پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے روبوٹ بناتے ہیں۔ اسی طرح بچوں کے لیے آن لائن پبلشنگ کے مواقع بھی موجود ہیں۔

ٹیکنالوجی اور کھیل کے ماحول سے جُڑا تعلیمی نظام بچوں کو روانی سے پڑھنے، لکھنے اور ریاضی سیکھنے جیسی بنیادی صلاحیتیں حاصل کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا بلکہ یہ بچوں میں تیز تر سیکھنے کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا، جو آج کے جدید معاشرے کی ضرورت ہے۔ نظامِ تعلیم میں انقلاب برپا کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے، جو آج کے بچوں کو مستقبل کے معاشروں کے لیے تیار کرسکتا ہے۔