• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی ایوانِ نمائندگان کا بڑا فیصلہ، کیا ٹرمپ واقعی ایران پر حملے روک دیں گے؟

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

امریکی ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کو محدود کرنے کے حق میں قرارداد منظور کر لی ہے، جسے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑی سیاسی تنبیہ قرار دیا جا رہا ہے۔

بدھ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں 215 ارکان نے قرارداد کے حق میں جبکہ 208 نے مخالفت میں ووٹ دیا، قرارداد کا مقصد امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھنے سے روکنا ہے۔

یہ اقدام امریکی وار پاورز ایکٹ کے تحت کیا گیا، جس کے مطابق کسی بھی بیرونی جنگ میں صدر کو کانگریس سے منظوری لینا ضروری ہوتی ہے، سوائے اس صورت کے جب امریکا کو فوری اور براہِ راست خطرہ لاحق ہو۔

ڈیموکریٹک ارکان کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کانگریس کی منظوری کے بغیر کیا گیا، اس لیے صدر ٹرمپ نے اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا۔

دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ایران میں فوجی کارروائیوں کے لیے کانگریس کی منظوری درکار نہیں تھی۔

اس قرارداد کی منظوری اس لیے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ 4 ریپبلکن ارکان نے اپنی جماعتی پالیسی سے ہٹ کر ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا، جسے ٹرمپ کی ایران پالیسی پر عدم اطمینان کا اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔

تاہم سیاسی ماہرین کے مطابق اس قرارداد کا فوری طور پر کوئی عملی اثر نہیں پڑے گا، سب سے پہلے اسے امریکی سینیٹ سے منظور ہونا ہو گا، جہاں ریپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے، اگر سینیٹ بھی قرارداد منظور کر لے تو صدر ٹرمپ اسے ویٹو کر سکتے ہیں۔

ویٹو کی صورت میں کانگریس کو صدر کے فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہو گی، جو موجودہ سیاسی صورتِ حال میں مشکل دکھائی دیتی ہے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے سینیٹ میں پیشی کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو چکی ہے، کیونکہ 8 اپریل سے جنگ بندی نافذ ہے، تاہم کئی ڈیموکریٹک سینیٹرز نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اب بھی ایران کے خلاف مختلف عسکری اور اقتصادی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔

دفاعی وزیر پیٹ ہیگسیٹ نے بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ چاہیں تو ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کی جا سکتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایوانِ نمائندگان کی حالیہ ووٹنگ سیاسی طور پر اہم ضرور ہے، لیکن فی الحال یہ علامتی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے صدر ٹرمپ کے اختیارات پر فوری کوئی پابندی عائد نہیں ہوتی۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید