لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللّٰہ نے امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان جنگ بندی معاہدے کو مسترد کر دیا ہے۔
دی نیویارک ٹائمز کے مطابق تنظیم کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا ہے کہ یہ معاہدہ حزب اللّٰہ کے لیے ’ہتھیار ڈالنے، شکست تسلیم کرنے اور دشمن کے مقاصد پورے کرنے‘ کے مترادف ہے۔
نعیم قاسم کے مطابق معاہدے میں حزب اللّٰہ سے حملے روکنے اور جنوبی لبنان سے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے جبکہ اسرائیلی فوج کی واپسی کی کوئی واضح شرط شامل نہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ بندی کے لیے اسرائیلی کارروائیاں بند ہونا اور اسرائیلی افواج کا لبنان سے انخلاء ضروری ہے۔
ادھر معاہدے کے اعلان کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے اور کارروائیاں جاری ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق لبنانی حکومت کی جانب سے معاہدے کی حمایت کے باوجود حزب اللّٰہ نے اس پر عمل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
دوسری جانب غزہ میں بھی اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 افراد کے شہید اور 30 سے زائد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔