• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’قاتل مچھر‘ دشمن پر چھوڑنے کی تیاری؟ امریکی فوجی دستاویزات نے تہلکہ مچا دیا

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

پینٹاگون کی حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکا نے ماضی میں مچھروں کو حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے امکانات پر تجربات کیے تھے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 1977ء کی 69 صفحات پر مشتمل ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز، جو اب امریکی دفاعی ادارے کے ریکارڈ میں دستیاب ہے، امریکی فوج کے خفیہ منصوبے پروجیکٹ بیل ویدر کی تفصیلات سامنے لائی ہے۔

دستاویزات میں آپریشن ڈراپ کِک اور آپریشن بِگ بز سمیت کئی دیگر خفیہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنگی مقاصد کے لیے حشرات کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ستمبر اور اکتوبر 1959ء کے دوران امریکی فوج نے عملی تجربات کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مختلف موسمی اور جغرافیائی حالات میں مچھر انسانوں کو کس حد تک کاٹتے ہیں اور کتنی مؤثر طریقے سے پھیل سکتے ہیں۔

ان تجربات میں ایدیس اگیپتی نسل کے مچھروں کا استعمال کیا گیا، جو ڈینگی، زرد بخار، زیکا وائرس اور چکن گونیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے مشہور ہیں۔

دستاویز کے مطابق ان تجربات کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ اگر مچھروں کے جھنڈ دشمن فوجیوں یا آبادی والے علاقوں میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ کتنی دور تک سفر کر سکتے ہیں، کتنی دیر زندہ رہتے ہیں اور کیا وہ انسانوں کو تلاش کر کے کاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

تاہم دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ تجربات میں استعمال ہونے والے مچھر کسی بیماری سے متاثر نہیں تھے، محققین صرف ان کی نقل و حرکت، بقا اور انسانوں کو کاٹنے کے رویّے کا مطالعہ کر رہے تھے۔

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ دشمن کے خلاف متاثرہ حشرات کو دانستہ طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت غیر معمولی تزویراتی اہمیت کی حامل ہو سکتی ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حیاتیاتی ہتھیاروں اور فوجی تحقیق سے متعلق خفیہ پروگراموں پر عالمی سطح پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید