آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

کیا اپوزیشن کا اتحاد آخر تک قائم و دائم رہے گا؟

رواں ہفتہ سیاسی و قومی لحاظ سے نہایت اہم ہے بہت سے بڑے فیصلے ہونگے اسی ہفتے حکومت کی پی ایم ڈی کے احتجاجی جلسوں کے حوالے سے حکمت عملی اور لائحہ عمل واضح ہو جائے گا۔ کیا 16اکتوبر کو ہونے والے گوجرانوالہ کے جلسے کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالی جانی ہیں یا فری ہینڈ دیاجانا ہے ؟ حکومت تاحال کنفیوژن کا شکار ہے ایک طرف وہ کہہ رہی ہے کہ عوام اپوزیشن کے ساتھ ہیں اور کوئی ان کی کرپشن بچانے باہر نہیں نکلے گا۔

دوسری جانب حکومتی وزراء کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جلسے روکنے کے لئے کیا حکمت عملی یا منصوبہ بندی کی سوچ رکھتے ہیں جلسے کو روکنے کیلئے تین چار آپشنز ہیں جیسا کہ ان کے بیانات سے واضح ہے پہلے نمبر پر کریک ڈائون یعنی گرفتاریاں بڑے پیمانے پر ،اب یہ طے ہونا ہے کہ گرفتاریاں کارکنوں کی کی جائینگی کہ بڑے لیڈروں کی، ہوسکتا ہے کہ دونوں کی کی جائیں۔ 

دوسرے نمبر پر کورونا کا بہانہ یا آڑ لی جائے حکومتی وزراء کچھ عرصے سے کورونا کے پھیلائو کے بارے میں بڑھا چڑھا کر بات کر رہے ہیں یعنی پہلے وہ یہ کریڈٹ لیتے تھے کہ حکومت کی اعلیٰ پالیسیوں کے باعث کورونا کو پھیلنے سے روکا گیا اب مصلحت یہ سمجھی جا رہی ہے کہ کورونا پھیل رہا ہے لیکن یہ دلیل زیادہ پر اثر نہ ہو گی کیونکہ تعلیمی ادارے ،مارکیٹیں اور شادی گھر کھلے ہیں ۔راولپنڈی ،لیاقت باغ میں تحریک انصاف نے ایک تقریب بھی کی ہے پھر دہشت گردی کی بات بھی کی جا رہی ہے۔ 

سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کو روکنا کس کا کام ہے اس خوف سے سیاسی اور جمہوری عمل کو روکا تو نہیں جا سکتا سیاسی تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ بس گوجرانوالہ کا ایک جلسہ ہی مستقبل کی سیاست کا تعین کر دے گا اگر حکومت نے زور زبردستی سے جلسے کو ناکام بنانے یا روکنے کی کوشش کی تو یہ معاملہ ختم نہیں ہو گا بلکہ اور پیچیدہ ہو جائے گا اور قسط باقی رہ جائیگی۔ 

ایک بات فرقہ واریت کی بھی کی جا رہی ہے اس کو روکنا بھی حکومت کا کام ہے یہ بات صاف ہے کہ اگر گوجرانوالہ کا جلسہ بہت بڑا ہو جاتا ہےتو پھر تحریک کو روکنا ناممکن ہو جائے گا یاد رہے کہ 2011ء میں لاہور میں عمران خان نے مینار پاکستان میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کیا تھا اس کے بعد سے سارا منظر ہی تبدیل ہو گیا تھا یعنی بڑے جلسوں کی اپنی اہمیت ہوتی ہے۔ اس کے معجزات بھی دیر پا ہوتے ہیں پہلے شاہدرہ تھانے میں مسلم لیگی رہنمائوں پر بغاوت اور غداری کے مقدمے قائم کئے گئے جس سے حکومت کی حکمت عملی کو سمجھنے میں آسانی لگی کہ وہ گرفتاریاں چاہتے ہیں لیکن شاید اس معاملے میں انہیں شٹ اپ کال ملی اور انہوں نے حسب معمول یو ٹرن لیا اب وزیراعظم اور وزرائے کرام کہہ رہے ہیں کہ اگر کسی نے قانون ہاتھ میں لیا تو اس کو گرفتار کر لیا جائے گا ایک جلسے کے انعقاد میں قانون کیسے ہاتھ میں لیا جائے گا؟بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ 

جلسے جلوسوں کی بات ہو رہی ہے تو 2014ء اگست میں عمران خان کا لانگ مارچ یاد آ جاتا ہے کس آسانی سے وہ لاہور سے قافلہ لیکر اسلام آباد پہنچے تھے ۔طاہر القادری ان کے ہمراہ تھے اس وقت کی حکومت نے تحریک سول نافرمانی اور ہنڈی کے ذریعے رقم بھیجنے کی اپیل کو نظراندا کیا تھا ۔بہرحال جاننے والے جانتے ہیں کہ اس وقت کی حکومت کتنی بے بس تھی۔ پی ایم ڈی کی تحریک کے بہت سے مراحل ہیں دیکھے کیا گزرتی ہے قطرے سے گوہر ہونے تک کیا پی ایم ڈی آخر تک قائم و دائم رہے گی دیکھنا یہ ہے کہ اس میں کونسی جماعت ترغیب ،تحریص، لالچ اور دبائو میں آتی ہے سب سے پہلے مرحلے میں بلاول بھٹو کو گوجرانوالہ میں خطاب اہمیت کا باعث ہو گا اگر وہ اس جلسے میں نہیں آتے تو پیپلز پارٹی کے حوالے سے خدشات اور اندیشے بڑھ جائیں گے۔

اس ساری فضا میں تحریک انصاف کی دو سالہ کارکردگی اور خاص طور پر مہنگائی تازیانے کا کام کر رہی ہے، مہنگائی اور بری کارکردگی ابتر معیشت بیروزگاری تحریک جلتی پر تیل کا کام کر رہی ہے ۔شیخ رشید کا یہ کہنا سوفیصد درست ہے کہ حکومت کی سب سے بڑی دشمن مہنگائی ہے لیکن نواز شریف کا بیانیہ کہ ووٹ کو عزت دو یا اداروں کی مداخلت ،جمہوری نظام میں نہیں ہونی چاہئے دونوں ہی زوردار اور جاذب نظر ہیں۔ مولانا فصل الرحمان پچھلے دنوں لاہور آئے تھے انہوں نے جاتی عمرا کا دورہ کیا۔ مریم نواز سے وفود کی صورت میں ملاقات کی اس میں گوجرانوالہ سے لیکر دسمبر کے آخر تک کی حکمت عملی اور لائحہ عملی وضع کرلیا گیا ۔نواز شریف کی ایک ہی تقریر نے ملکی سیاست کا نقشہ بدل کر رکھ دیا ۔ 

مریم نواز اپنی مقبولیت کیش کرائیگی البتہ یہ بھی سچ ہے کہ حکومت پوری کوشش کریگی کہ مریم نواز کو روکا جائے وہ جلوس بنا کر لاہور سے گوجرانوالہ نہ جائیں، دونوں طرف سے حکمت عملی وضع کر لی گئی ہے دیکھئے کون کامیاب ہوتا ہے ۔ رواں اسمبلی سیشن میں مسلم لیگ (ن) کے کچھ باغی ارکان کے حوالے سے خبریں اخبارات کی زینت ہیں۔ جلیل شرقپوری ، مولانا غیاث الدین اور اشرف انصاری ، نواز شریف کے بیانیے کے خلاف جا رہے ہیں ان کی پارٹی رکنیت ختم کر دی گئی ہے پارٹی کی جانب سے اس سخت کارروائی سے دیگر ارکان سنبھل گئے اور انہوں نے وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے ملاقاتیں ترک کر دی ہیں۔ 

حکومت کی جانب سے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کو ذمہ داری سونپنے پر اپوزیشن نے سخت ردعمل دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ کام حکومت اور انتظامیہ کا ہے ویسے بھی مہنگائی ناکام پالیسیوں کی علامت اور وجہ ہوتی ہے مہنگائی ایک ایسا داغ ہے جو موجودہ حکومت سابقہ حکومت پر نہیں تھوپ سکتی، عوام قیمتوں کا موازنہ خود کر سکتے ہیں بلکہ سب کچھ ان کی دلوں کی ڈائری میں درج ہوتا ہے ان پر جو بیت رہی ہے اس کے بارے میں ان پر کوئی دلیل یا جواز اثر نہیں کرتا۔ مسلم لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ہمارے پرامن جلسے یا جلوسوں کو روکنے کی کوشش کی تو یہ معاملہ پرتشدد ہو جائے گا یہ سلسلہ اب رکنے والا نہیں۔ 

بظاہر حکومت پی ڈی ایم کی تحریک کے بارے میں ایسا ظاہر کر رہی ہے کہ اسے اس کی زیادہ فکر نہیں لیکن وزیراعظم کے بیانات اور وزراء کی دھمکیاں کچھ اور ہی کہانی کا پتہ دے رہی ہیں اس اثنا میں خبر آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر چودھری فواد کے درمیان ایک ملاقات ہوئی اس میں طویل عرصے سے جاری ناراضگی کے خاتمے کا اعلان ہوا اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نئے حالات میں اپنی صفیں درست کر رہی ہے ۔ بہرحال چند دنوں ہفتوں میں ہی سب کچھ سامنے آ جائے گا اداروں کا موڑ اور ماحول کا بھی پتہ چل جائے گا۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید