• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

منشیات فروشی کے الزامات، کراچی کے چائے خانوں پر پابندیاں

کراچی کے علاقے ڈیفنس اور کلفٹن سمیت پوش علاقوں میں چائے کے ڈھابوں سے منشیات کی سپلائی کی سوشل میڈیا پر مبینہ رپورٹس پر سخت ایکشن لیا گیا ہے۔

متعلقہ اداروں کے اہم اجلاس میں اس سلسلے میں 25 چائے خانوں کے مالکان کو طلب کرکے فوری طور پر قواعدوضوابط اور ایس او پیز کا پابند ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ دنوں سے سوشل میڈیا پر بیرون ملک مقیم ایک شہری کی جانب سے جاری کیا گیا خط وائرل ہو رہا ہے۔ جس میں شہری کی جانب سے الزام لگایا گیا ہے کہ ڈیفنس اور کلفٹن کے چائے خانوں سے مبینہ طور پر منشیات سپلائی کی جاتی ہے۔

اس پر غور و خوض کے لیے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کے تحت اہم اجلاس ہوا جس میں اینٹی نارکوٹکس فورس، ساؤتھ پولیس، دیگر سرکاری اداروں کے علاوہ لگ بھگ 25 چائے خانوں کے مالکان شریک ہوئے۔

چائے خانوں کے مالکان کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی تاہم اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے جن کے تحت چائے خانوں کے مالکان ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کریں گے۔ روزانہ رات ساڑھے گیارہ بجے مالکان اپنے ڈھابے بند کرنا شروع کریں گے اور رات 12 بجے مکمل شٹ ڈاؤن ہوگا۔

چائے خانوں کے مالکان اپنے تمام ملازمین کو متعلقہ اداروں کے پاس رجسٹرڈ کرائیں گے۔ اگر کوئی ملازم منشیات فروشی یا کسی بھی طرح کی مشکوک سرگرمی میں ملوث ہوا تو اسے پولیس کے حوالے کریں گے۔ ڈھابوں پر آنے والے مشکوک افراد کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کرنے کا ٹاسک بھی چائے خانوں کے مالکان کو دیا گیا ہے۔

متعلقہ اداروں کی ویجیلنس میں گشت کریں گی اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔ خلاف ضابطہ کاروائی میں ملوث ہوٹلوں کو سربمہر کیا جائے گا۔ 

تازہ ترین