آپ آف لائن ہیں
جمعرات10؍ربیع الثانی 1442ھ26؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جلسہ کی ناکامی، رانا ثناء اللہ اور پرویز رشید کا استعفیٰ بنتا ہے، شبلی فراز


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات شبلی فراز نے کہا کہ جلسہ کی ناکامی پر رانا ثناء اللہ اور پرویز رشید کا استعفٰی بنتا ہے،وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ اپوزیشن کےمنشورمیں مہنگائی آج شامل ہوئی اس سےقبل صرف اپنےکیسزتھے،سینئر تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ لوگوں کو جلسہ میں اپوزیشن نہیں عمران خان کی پالیسیاں لائی ہیں،سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ جلسہ کامیاب تصور کیا جائے گا،وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات شبلی فراز نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسہ کی ناکامی پورے پاکستان نے دیکھ لی ہے، ویڈیو فوٹیج اور تصاویر سے جلسہ کی ناکامی عیاں ہے،نواز شریف نے مولانا فضل الرحمٰن کے پہنچنے سے پہلے تقریر شروع کردی، یہ ایک بے ربط شو تھا جس کے بعد رانا ثناء اللہ اور پرویز رشید کا استعفیٰ بنتا ہے،میرے استعفے کی کوئی وجہ نہیں کیونکہ میں نے چیلنج جیت لیا ہے،اپوزیشن نے ایک ماہ سے واویلا مچایا ہوا تھا، اگر گوجرانوالہ کے لوگ ہی اکٹھے کرلیتے تو اسٹیڈیم بھرجاتا۔ شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو جو کرنا ہے کرلے، ہم مہنگائی اور معیشت کی بہتری پر توجہ دیں گے، اپوزیشن مسترد شدہ لوگ ہیں ان سے خیر کی کوئی توقع نہیں ہے، اپوزیشن مزید جلسے کرے ہم کوئی مداخلت نہیں کریں گے، پی ٹی آئی مسلم لیگ ن نہیں ہے جہاں ایک بادشاہ بیٹھا ہوتا ہے، تحریک انصاف جمہوری جماعت ہے وزیراعظم وسیع القلبی سے سب کو بات کرنے دیتے ہیں، وزیراعظم کو پی ٹی آئی ارکان کی 200فیصد سپورٹ حاصل ہے۔وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا کہ گوجرانوالہ جلسہ میں 15سے 18ہزار لوگ شامل ہیں، اسٹیڈیم کی گنجائش 27ہزار افراد کی ہے، اپوزیشن نے اسٹیڈیم کا بڑا حصہ چھوڑ کر آگے اسٹیج لگایا ، اس وقت شرکاء کیلئے دستیاب اسٹیڈیم کی گنجائش 22ہزار رہ گئی ہے، ڈرون سے دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ شرکاء کے درمیان بہت سی جگہ خالی ہے، اپوزیشن پارٹیوں نے جتنی محنت کی اس کے مطابق جلسہ نہیں ہوسکا۔ فواد چوہدری کا کہناتھا کہ ہماری معیشت کووڈ 19سے نکل کر بہتری کی طرف گامزن ہے، جلسے کامیاب نہ ہوں تب بھی ملک کی معیشت دباؤ میں چلی جاتی ہے، ہم نے پاکستان میں کورونا پر بڑی محنت سے قابو پایا ہے، اپوزیشن کے جلسوں سے کورونا پھیلنے کا خطرہ بڑا مسئلہ ہے، گوجرانوالہ جلسے میں کورونا ایس او پیز پر عمل نہیں کیا گیا، مریم نواز نے ماسک بھی نہیں لگایا۔ فواد چوہدری نے کہا کہ عمران خان کی پوری توجہ عوام کو ریلیف دینے پر ہے، ہماری معیشت اتنی متاثر نہیں ہوئی جتنی دیگر ممالک کی ہوئی ہے، بھارت کی معیشت دیکھیں 10فیصد سکڑ گئی ہے، سندھ حکومت نے گندم پروکیور نہیں کیا جس کی وجہ سے آٹا مہنگا ہوا، سندھ میں گندم کی بوری 1200کی پنجاب میں 860روپے کی ہے، دو چار ماہ میں آٹے اور چینی کی قیمتوں میں کمی نظر آئے گی، اپوزیشن کے منشور میں مہنگائی تو آج شامل ہوئی ہے اس سے پہلے تو صرف اپنے کیسز تھے، اپوزیشن کا مسئلہ مہنگائی نہیں ہے مہنگائی تو بس مصالحے کے طور پر ہے، اس وقت لوگوں کی حکومت سے توقعات بہت زیادہ ہے، پاکستان میں اس وقت عمران خان کے قد کا کوئی لیڈر نہیں ہے، نواز شریف اور آصف زرداری سیاست سے آؤٹ ہوگئے ہیں۔اسٹیڈیم میں موجود سینئر صحافی و تجزیہ کار حامد میر نے کہا کہ جلسہ گاہ میں میں ہجوم بہت چارج ہے، میں اپنی انگلی بھی ان کی طرف کروں تو یہ نعرے لگانا شروع کردیتے ہیں،لوگوں کے جذبات کا اندازہ ان کے نعروں سے لگایا جاسکتا ہے، جلسہ گاہ میں سیاسی کارکنوں سے زیادہ عام لوگ ہیں، ان لوگوں کو جلسہ میں اپوزیشن نہیں عمران خان کی پالیسیاں لائی ہیں، یہاں موجود 10میں سے 8لوگ کہتے ہیں ہم مہنگائی سے بہت تنگ ہیں، وفاقی وزراء نے ایسے بیانات دیئے کہ بہت سے لوگ غصے میں آکر جلسہ میں آئے ہیں، سڑکوں پر سے کنٹینرز ہٹائے جانے کے بعد کافی لوگ جلسہ گاہ آئے ہیں، اب عوام آگے نکل گئے ہیں اپوزیشن پیچھے نکل گئی ہے،عمران خان کو کان کھول کر ان کی آواز سننی چاہئے، عمران خان کا مقابلہ مریم، بلاول اور مولانا فضل الرحمٰن سے نہیں مہنگائی سے تنگ عوام کے ساتھ ہے۔حامد میر کا کہنا تھا کہ لوگ عمران خان کی پالیسیوں سے مایوس ہو کر اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے جلسے میں آرہے ہیں، لوگ تین چار جلسوں میں آئیں گے لیکن اپوزیشن نے انہیں مسائل کا حل نہیں دیا تو وہ ان کیخلاف بھی کھڑے ہوجائیں گے، حکومت نے کنٹینروں کے علاوہ دوسرے طریقوں سے بھی سڑکیں بند کیں،خرم دستگیر خان کے گھر جانے والی تین سڑکوں کو کنٹینر لگا کر بند کیا گیا، حکومت نے لوگوں کو جلسہ میں آنے سے روکنے کیلئے پوری کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہوسکی، رانا ثناء اللہ نے کنٹینر ہٹانے شروع کیے تو پھر انتظامیہ نے بھی کچھ کنٹینرز ہٹادیئے۔حامد میر نے کہا کہ جلسہ میں بدانتظامی ہے لیکن یہ ایک کامیاب جلسہ ہے، میڈیا کو بھی جلسے کی کوریج کیلئے درکار سہولتیں نہیں مہیا کی گئیں، خرم دستگیر خا ن کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ہمیں الجھائے رکھا اس کی وجہ سے ہم جلسے کے انتظامات پر توجہ نہیں دے سکے، لوگ ساڑھے چار پانچ بجے جلسہ گاہ پہنچ گئے تھے، مغرب کے بعد تقریریں شرو ع ہوجاتیں تو چھ بجے سے نو بجے تک پرائم ٹائم کا فائدہ ہوجاتا، رکاوٹیں کھڑی کر کے جلسہ روکنے کی کوشش ناکام ہوگئی ہے، پرسوں کراچی میں جلسہ ہوگا وہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں کیسے لوگوں کو روکیں گے، یہ جلسہ پاکستان کی تمام اشرافیہ کیخلاف بھونچال ہے، جلسہ میں بڑی تعداد میں ٹوٹی جوتوں اور پھٹے کپڑے والے لوگ ہیں۔سینئر صحافی و تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ پی ڈی ایم کا گوجرانوالہ جلسہ کامیاب تصور کیا جائے گا ، لیکن جس بھونچال کی توقع تھی شاید اس کیلئے عوام ابھی تیار نہیں ہیں، اس جلسہ کوآندھی تو کہہ سکتے ہیں بھونچال نہیں کہہ سکتے، اپوزیشن نے یہ جلسہ جلدی میں کردیا اس کیلئے لوگوں کو ذہنی طور پر تیار نہیں کیا گیا، جلسہ میں لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس تو نظر آئی لیکن انقلاب لانے والے کم نظر آئے، جلسے میں سیاسی کارکنوں کے علاوہ ٹوٹی جوتی اور پھٹے کپڑے والے عام لوگ بھی آنے چاہئے تھے، دس اپریل 1986ء کو جس طرح بینظیر بھٹو کا استقبالی جلوس تھا یہ ویسا نہیں ہے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ جلسوں کیلئے فضا ہموار ہوگئی ہے لیکن احتجاجی تحریک کیلئے درکار فضا نہیں ہے، لوگوں کے ایسے جذبات نظر نہیں آئے جس سے حکومت کو اتار پھینکا جاسکے،اپوزیشن تحریک کی کامیابی کا زیادہ دارومدار حکومت کے رویے پر ہوگا، حکومت اسی طرح سخت بیانات دیتی رہی تو ماحول جلد بن جائے گا،حکومت نے لوگوں کو ریلیف دیا اور گورننس بہتر کی تو اپوزیشن تحریک کی ناکامی کے چانسز بڑھ جائیں گے۔سہیل وڑائچ نے کہا کہ فوج کا موقف ہے کہ وہ منتخب حکومت کا ساتھ دے گی، اپوزیشن کے جلسے سے پہلے کہیں ایجنسیاں اور ان کا سیاسی کردار نظر نہیں آئے۔

اہم خبریں سے مزید