آپ آف لائن ہیں
اتوار13؍ ربیع الثانی1442ھ 29؍ نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یہ بات ہے 80ء کی دہائی کی، جب بھارتی سنیما پر صرف ایک ہی سپراسٹار کا راج تھا، یعنی اینگری ینگ مین امیتابھ بچن، من موہن ڈیسائی نے ایک فلم ’’قلی‘‘ بنانے کا سوچا، جس کے ڈائیلاگ قادر خان نے لکھے۔

’’قلی‘‘ کا مرکزی کردار امیتابھ نے ادا کیا اور فلم میں ان کا نام اقبال تھا۔ کاسٹ میں رتی اگنی ہوتری، رشی کپور اور شوما آنند بھی شامل تھے۔ اس فلم کی شوٹنگ میں ایک فائٹنگ سین کے دوران امیتابھ بچن زخمی ہوگئے تھے۔

اُن کے پیٹ میں میز کا کونا گھس گیا، جس سے وہ شدید نازک حالت میں اسپتال میں داخل کیے گئے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جب گھروں میں وی سی آر پر VHSکیسٹ کرائے پر لا کے چلاتے تھے۔ ایک فلم کا ایک دن کا کرایہ 15روپے ہوتا تھا۔ امیتابھ کی ’’قلی‘‘ فلم میں زخمی ہونے کی خبر اخبارات میں شائع ہوئی تو تہلکہ مچ گیا۔ دنیا بھر میں اُن کے پرستار غم سے نڈھال ہوگئے۔ 

مندروں، گرجائوں اور مساجد میں، ہر جگہ اُن کی صحت یابی کے لیے دعائیں مانگی گئیں اور پھر معجزاتی طور پر امتیابھ بچ گئے۔

اُن کے آپریشن ہوئے، طویل عرصے وہ اسپتال میں رہے اور پھر بالآخر صحت یاب ہو کر گھر آگئے۔ یوں تو امیتابھ کی جان بچ گئی تھی، لیکن پیٹ میں لگنے والی چوٹ نے اُن کو دیگر کئی امراض میں مبتلا کردیا۔ ’’قلی‘‘ فلم ریلیز ہوئی تو لوگ دیوانہ وار اُسے دیکھنے لگے، جس منظر میں امیتابھ زخمی ہوئے تھے وہاں بہت غور کرنے پر بھی نہیں لگتا تھا کہ اتنی سیریس چوٹ لگ سکتی ہے۔ ’’قلی‘‘ فلم کی کیسٹ ایک پورے دن کے بجائے صرف تین یا چار گھنٹے کے لیے کرایہ پر ملتی تھی اور کرایہ بھی کم از کم 100روپے تھا۔

’’قلی‘‘ کے ہدایت کار من موہن ڈیسائی نے امیتابھ کی بیماری کے بعد فلم کی اسٹوری تبدیل کر دی تھی۔ اصل کہانی کے مطابق فلم میں اقبال قلی کو مر جانا ہوتا ہے، لیکن جب امیتابھ زخمی ہوئے، اسپتال میں زندگی موت کی کش مکش میں رہے اور بالآخر موت کو شکست دیدی تو من موہن ڈیسائی نے اسٹوری تبدیل کرکے اقبال قلی کی موت کا آئیڈیا ڈراپ کردیا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جس شخص نے اتنی ہمت سے موت کا مقابلہ کرکے زندگی جیتی، اُسے فلم میں نہیں مارا جاسکتا تھا۔

اس وقت امیتابھ کا ستارہ عروج پر تھا۔ اتنی کام یابی کے بعد ایک دم ’’قلی‘‘ فلم کا حادثہ ہوگیا، جس نے امتیابھ کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا۔ الہ آباد میں مشہور شاعر ہری ونش رائے جو بچن کا فلمی نام استعمال کرتے تھے، اُن کے گھر پیدا ہونے والے انقلاب شری واستو کو کیا خبر تھی کہ نام تبدیل ہوگا، تو سب کچھ ہی بدل جائے گا۔

انقلاب شری واستو کا نام امتیابھ ہوا اور آخر میں والد کا فلمی نام بچن لگا، تو جیسے کمال ہوگیا، نام کا اثر شخصیت پر پڑا اور یہ انقلاب یعنی امیتابھ بچن فلموں میں چھا گیا، کہتے ہیں ابتدا میں امیتابھ، دلیپ کمار سے متاثر تھے اور اُن ہی کا انداز اپناتے تھے۔ دلیپ کمار اور امیتابھ دونوں اس صدی کے عظیم اداکار ہیں۔ ان دونوں کو رمیش سپی نے فلم ’’شکتی‘‘ میں یکجا کیا۔

امیتابھ بچن، دلیپ کمار، راکھی، سمیتا پاٹل، امریش پوری، کلبھوشن اور انیل کپور نے ’’شکتی‘‘ میں کام کیا۔

باکس آفس پر یہ فلم ہٹ ہوئی۔ امتیابھ اور دلیپ کمار کے پُرستار دونوں کا موازنہ کرتے نظر آئے۔ دونوں نے عمدہ اداکاری کی۔ تاہم کئی مناظر میں امتیابھ، دلیپ کمار کے زیراثر نظر آئے۔ 70ء اور 80ء کی دہائی میں ایک کے بعد ایک کام یاب فلمیں کرنے والے امیتابھ، جب ’’قلی‘‘ میں زخمی ہوئے تو ان کے لیے ایک نیا دور شروع ہوا۔ زخمی ہونے سے قبل کا امیتابھ جس نے بے شمار سپر ہٹ فلمیں کیں اور پھر قلی کے بعد کا امیتابھ جس نے اگرچہ فلمیں تو کیں، مگر دوبارہ اُسی مقام پر پہنچنے میں کئی سال لگ گئے۔ یہ دور بھی امیتابھ کی زندگی کا عجیب دور تھا۔

مالی مشکلات، صحت کے مسائل اور انڈسٹری کی بدلتی ہوتی صورت حال امیتابھ کے لیے نئے چیلنجز لے کر آئی۔ ’’شہنشاہ‘‘، ’’مرد‘‘، ’’میں ہوں آزاد‘‘، ’’اکیلا‘‘، ’’اگنی پتھ‘‘، ’’گنگا جمنا سرسوتی‘‘ یہ سب فلمیں انہوں نے کیں۔ تاہم یہ امیتابھ اُس امیتابھ سے مختلف تھا، جسے شائقین ’’شعلے‘‘ اور ’’مقدر کا سکندر‘‘ میں دیکھ چکے تھے۔ وقت گزرتا رہا، امتیابھ نے سیاست میں طبع آزمائی کی اور الیکشن بھاری اکثریت سے جیتا، مگر سیاست کے میدانِ خار دار میں اُن کے پائوں زخمی ہوئے اور وہ وہاں سے ایسے بھاگے کہ آگے توبہ کی جو کبھی خود سیاست میں آئیں۔ 

تاہم دل چسپ بات یہ ہےکہ ان کی بیگم جیا بچن جو پہلے جیا بہادری تھیں، وہ ممبر پارلیمنٹ ہیں اور سیاست میں بھی اتنی ہی کام یاب ہیں ،جتنی فلموں میں رہیں۔ امیتابھ نے کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا، جب کہ بیگم جیا بچن سماج وادی پارٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔

جیا بچن کو سیاست میں کئی سال ہوگئے اور فلمی دنیا میں بھی۔ جب امیتابھ نے فلموں میں قدم رکھا تو اس وقت جیا بہادری معروف اداکارہ تھیں۔ دونوں نے اکٹھے بہت سی فلموں میں کام کیا، جن میں ’’زنجیر‘‘، ’’ابھیمان‘‘، ’’ملی‘‘، ’’کبھی خوشی کبھی غم‘‘، وغیرہ شامل ہیں، مگر دونوں کی دو فلمیں ایسی ہیں، جو لاجواب ہیں، ایک تو ’’شعلے‘‘ جو ہر زمانے کی سپر ہٹ فلم ہے اور دوسری ’’سلسلہ‘‘۔ سلسلہ وہ فلم ہے، جس میں امیتابھ ، جیا بچن، ریکھا، ششی کپور، کلبھوشن اور سنجیو کمار نے اہم کردار ادا کیے تھے۔ ’’سلسلہ‘‘ یش چوپڑا کی شاہ کار فلم تھی۔ اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہ فلم امیتابھ، ریکھا اور جیا بچن کی حقیقی زندگی کی عکاس تھی۔ 

اس فلم کی کہانی امیتابھ اور ریکھا کی اصل زندگی، اُن کی محبت اور رواجوں کی بندش کا احاطہ کرتی ہے۔ اس فلم کی کہانی جب یش چوپڑہ نے امیتابھ سے ڈسکس کی تو وہ ذرا شش و پنج میں پڑ گئے تھے، مگر کمال ،اس میں یش چوپڑہ کا جنہوں نے امیتابھ کو ہی نہیں بلکہ جیا بچن اور ریکھا کو بھی اُن کے کرداروں کے لیے راضی کیا۔ یہ فلم جب شوٹ ہورہی تھی، امیتابھ اور جیا بچن کی شادی ہوچکی تھی اور امیتابھ کے ریکھا سے عشق کے قصے زباں زد عام تھے۔ وہ ڈبل رول میں بھی اچھے لگتے تھے۔

’’ڈان‘‘ فلم میں ایک بھولا بھالا امیتابھ اور دوسرا ڈان، ’’دیس پریمی‘‘ میں ایک ماسٹر جی ،جو بہت ایمان دار دکھایا اور دوسرا ان کا بیٹا امیتابھ جو خوب ہیرا پھیری کرتا ہے۔ فلم ’’عدالت‘‘ میں غریب مزدور اور پھر ان کا امیر اور پڑھا لکھا بیٹا امیتابھ فلم مہان میں تو امیتابھ نے ٹرپل رول کرکے کمال ہی کردیا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید