آپ آف لائن ہیں
بدھ9؍ربیع الثانی 1442ھ25؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تھائی لینڈ کی حکومت نے ایک بار پھر ہنگامی حالات کے نفاد کا سہار ا لے کر بنکاک میں جاری مظاہروں سے نمٹنے کی کوشش کی ہے اور ایمرجنسی کے تحت ملک بھر میں تمام بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کردی ہے۔ان ہنگامی حالات کا نفاذ تھائی لینڈ کے وزیر اعظم کے حکم پر کیا گیا ہے۔ آخر مظاہرین کے مطالبے کیا ہیں۔ تھائی لینڈ کے وزیر اعظم پرایوتھ چان اوچا اور مظاہرین کے مطالبوں میں سب سے بڑے دو مطالعے یہ ہیں کہ تھائی بادشاہ کے اختیارات کم کئے جائیں اور وزیر اعظم استعفیٰ دے دیں۔اب ایمرجنسی کے حکم نامے کے مطابق ’’چار سے زیادہ افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی ہے اور میڈیا پر بھی سخت پابندی لگا دی گئی ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی خبر نشر نہیں کرسکتا جس سے قومی سلامتی متاثر ہو یا امن میں خلل پڑے‘‘۔ اب اس قومی سلامتی کا تعین تو حکومت ہی کرے گی اور قیام امن کے نام پر مخالفین کو کچلا جاتا رہے گا۔یاد رہے کہ حالیہ مظاہرے جولائی میں شروع طلباء تحریک کے بعد سے جاری ہیں۔ 

طلباء کی احتجاجی تحریک نے تھائی لینڈ کی حکومت اور معیشت پر حاوی تھائی فوج کو للکارا ہے اور اس دوران ہونے والے مظاہرے کئی برس بعد ملک میں ہونے والے سب سے بڑے مظاہرے تھے، جن میں لاکھوں افراد نے حصہ لیا ۔ مظاہرین دراصل شاہی نظام کے خلاف ہیں اور اصلاحات چاہتے ہیں ،مگر چوں کہ شاہی نظام فوج کے لئے موزوں ہے اس لئے اس نے اسے مقدس بنا رکھا ہے اور اس پر تنقید کرنے والوں کو سزائیں دی جاتی رہی ہیں۔جولائی 2020ء میں بڑے مظاہرےشروع ہونے سے پہلے فروری میں ایک عدالت نے نومنتخب جمہوریت نواز حزب مخالف کی جماعت کو تحلیل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عوامی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ عوامی نمائندوں اور رہنمائوں کو کام کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔اس مقصد کے لئے ایک ایسا نظام بہتر بناکر پیش کیا جاتا ہے جہاں اقتدار کا سرچشمہ عوام نہ ہوں بلکہ بندوق اور ہتھوڑے کی طاقت ہو۔ یعنی تھائی لینڈ میں فوج کی بندوق اور عدلیہ کا ہتھوڑا دونوں مل کر عوام کی جمہوری خواہشات، اظہار رائے کی آزادی اور منظم سیاسی تحریک کو کچلتے رہے ہیں۔

تھائی لینڈ میں سیاسی جماعت فیوچر فارورڈ پارٹی (اایف ایف پی) بہت مقبول ہے اور اسے خاص طور پر ملک کے نوجوانوں کی بڑی حمایت حاصل ہے۔ اس جماعت نے مارچ 2019ء کے انتخابات میں پارلیمانی نشستوں کی تیسری بڑی تعداد حاصل کی تھی۔جون 2020ء میں تھائی لینڈ کے مقبول جمہوری رہنما، وانچ لیرم ستاکیت کمبوڈیا میں لاپتا ہوگئے جس کے بعد بنکاک میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ یاد رہے کہ 2014ء میں تھائی فوج نے ایک بار پھر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا جس کے بعد کئی جمہوری رہ نمائوں کو ملک چھوڑنا پڑا تھا اور جلاوطنی اپناکر اپنی تحریک چلانی پڑی تھی۔بہت سے ملکوں میں جمہوری رہ نمائوں پر ان کے ملک میں زندگی تنگ کردی جاتی ہے تو وہ دیگر ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیوں کہ وطن واپسی پر انہیں جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،مگر تھائی لینڈ کی فوج اور اس کے خفیہ ادارے دیگر ممالک میں جاکر بھی ایسی کارروائیاں کرتے ہیں کہ وہاں مقیم جمہوری رہنما غائب کردئیے جاتے ہیں یا مار دئیے جاتے ہیں، اسی لئے تھائی لینڈ کے مظاہرین تھائی ریاست پر اغوا کے الزام لگاتے ہیں اور ریاستی ادارے ان الزمات کی تردید کرتے رہتے ہیں۔پھر ایک اہم مطالبہ یہ ہے کہ فوجی بغاوت کے بعد اقتدار پر قبضہ کرنے والے اس وقت کے فوجی سربراہ اور اب کے وزیر اعظم، پریوت کی حکومت ختم کی جائے اور ملک کو فوجی نہیں بل کہ آئینی طریقے سے چلایا جائے، ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی ہے کہ ریاستی ادارے اور حکام جمہوری کارکنوں اور ناقدین کو ہراساں کرنا بند کریں۔

اس تحریک کی ایک اہم کردار تھائی لینڈ کے شاہی خاندان کو للکارنے والی ایک طالبہ ہے جس کا نام پنوسیا ہے،اس نے ایک اسٹیج پر چڑھ کر سرعام شاہی خاندان کو للکارا تھا۔ ہزاروں طلباء و طالبات کے سامنے اس نے ایک دس نکاتی مطالبہ رکھا جس میں بادشاہت کے نظام میں اصلاحات شامل تھیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ تھائی لینڈ میں لوگوں کو بچپن سے شاہی خاندان سے محبت کرنا سکھائی جاتی ہے اور اس بارے میں بات کرنے سے بھی ڈرایا جاتا ہے۔ یہ بھی ان ملکوں کا خاص طریقہ ہے جہاں ریاستی ادارے عوام کی جمہوری خواہشات کو کچلنا چاہتے ہیں تو وہ خاص لوگوں، خاندانوں اور اداروں کے بارےمیں ایسی فضا قائم کردیتے ہیں کہ لوگ ان کے بارےمیں بات کرنے سے بھی ڈرنےلگتے ہیں۔ ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کہ بالادست لوگوں کو اپنے مفادات کی تکمیل کا موقع ملتا رہے اور کسی خاص نظام کی آڑ میں وہ لوگوں کا استحصال کرتے رہیں۔

تھائی لینڈ میں شاہی خاندان پر تنقید کرنے والوں کو پندرہ سال تک کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف طالب علم رہنما پنوسیا جیسے نوجوان متحرک ہوکر سامنے آرہے ہیں اور مخصوص لوگوں کی بالادستی کو للکار رہے ہیں۔پنوسیا کے دس نکات میں اہم ترین یہ ہے کہ شاہی خاندان کو منتخب اداروں کے سامنے جواب دہ قرار دیا جائے اور ان کا احتساب کیا جائے۔ دراصل یہ مطالبہ بہت اہم ہے اور کسی بھی ملک میں جمہوریت اس وقت تک پروان نہیں چڑھ سکتی جب تک کہ وہاں تمام لوگ اور ادارے عوام کے منتخب نمائندوں کو جواب دہ نہ ہوں۔اسی طرح تھائی لینڈ میں مطالبے کئے جارہے ہیں کہ شاہی بجٹ میں کمی کی جائے اور شاہی خاندان کی سیاست میں مداخلت کو روکنے کی بھی تجاویز دی گئی ہیں۔ اصل میں شاہی خاندان تو ایک استعارہ ہے تھائی لینڈ میں فوجی بالادستی کے لئے جس کے تحت شاہی خاندان کو ڈھال کے طور پر تھائی فوج استعمال کرتی ہے اور اس شاہی نظام کے تحت خود فوج کے اعلیٰ افسر شاہانہ زندگیاں گزارتے ہیں۔

جب پنوسیا نے اسٹیج پر یہ کہا کہ سب کو آئین اور قانون کا پابند ہونا چاہئے اور کوئی بھی احتساب سے بالاتر نہیں تو تھائی لینڈ کے بادشاہت حامی میڈیا نے شدید تنقید شروع کردی اور ریاستی اداروں کے تقدس اور ان کے نام نہاد عزت و احترام کا گھسا پٹا راگ الاپنا شروع کردیا۔ اس طرح میڈیا میں بے شمار ایسے بکائو مال صحافی موجود ہوتے ہیں جو بالادست طبقوں کے ایما پر جعلی طور پر معروف صحافی بنائے جاتے ہیں اور پھر وہ جمہوری قوتوں کے خلاف کام کرتے ہیں غیرجمہوری یا جمہوریت دشمن اداروں کی حمایت کرتے ہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس ریلی کے بعد بادشاہت کے حامی سوشل میڈیا پر پھٹ پڑے اور پنوسیا کے خلاف تابڑ توڑ حملے کئے اور جس نے بھی سویلین بالادستی کی بات کی تھی اس کے خوب لتے لئے اور الزام لگایا کہ طالب علم سیاست دانوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔اس بات میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ تھائی لینڈ دنیا کے ان گنے چنے ممالک میں سے ایک ہے جہاں بنیادی طور پر اب تک فوج کے قابو میں تقریباً ہر چیز اور ہر ادارہ ہے۔ وہ عدلیہ سے لے کر پولیس تک اور تعلیمی نظام کے لئے میڈیا تک ہر شعبے میں اپنے جاسوس رکھتی ہے اور جو بھی جمہوری اقدام و روایات کی ترویج کی بات کرے یا سویلین بالادستی اور آئین کی حکم رانی کو ترجیح دے اسے کچلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔تھائی لینڈ کے ایک طاقت ور جنرل سوم پونگ نے مظاہرین پر ملک سے نفرت کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ شاہی خاندان سے نفرت کرنا قابل برداشت نہیں ہے۔ 

اس طرح تھائی لینڈ کے فوجی جنرل عوام کو بھی ملک دشمن قرار دینے سے دریغ نہیں کرتے، گویا کہ وطن سے محبت کا اعزاز صرف ان کو ہی حاصل ہے اور اس لئے وہ عوام سے زیادہ اپنے مفادات عزیز رکھتے ہیں۔پنوسیا نے یہ بھی کہا کہ جب وہ اسکول میں تھی تو اکثر اسے اور اسکول کے دوسرے بچوں کو ریاستی اہل کار مجبور کرتے تھے کہ تھائی لینڈ کا جھنڈا اٹھاکر بادشاہ کی حمایت میں نعرے لگائیں اور جہاں سے شاہ کا قافلہ گزرے وہاں فٹ پاتھ پر جاکر بیٹھیں، اس طرح زبردستی شاہ سے محبت سکھائی گئی تھی۔

پچھلے سال جب فیوچر فارورڈ پارٹی نے انتخابات میں کام یابی حاصل کی تو اس کے بعد اس نے جمہوریت کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا تو عدلیہ کو اس پارٹی کے خلاف کام میں لایا گیا اور الزام لگایا گیا کہ اس پارٹی نے غیرقانونی قرض لئے تھے، پھر عدلیہ نے ایک متنازع فیصلے کے تحت پارٹی کو تحلیل کرکے عوام کے ووٹ پر ڈاکا ڈالا۔ اس طرح کے ہتھکنڈے دیگر ممالک میں بھی دیکھتے ہیں جہاں کسی منتخب وزیر اعظم اور جماعت کو مسلسل دبائو میں رکھنے کے لئے متواتر الزامات لگائے جاتے ہیں اور پھر فوج کی بندوق یا عدلیہ کے ہتھوڑے کے ذریعے منتخب وزرائے اعظم کو بے دخل، جلاوطن یا محصور کردیا جانا ہے۔تھائی لینڈ کی فیوچر فاورڈ پارٹ نے 2019ء کے انتخابات میں خاصی اچھی کارکردگی دکھائی تھی اسی لئے اس پارٹی کو ختم کرنا ضروری سمجھا گیا۔ تھائی لینڈ کی فوج نے جمہوری حقوق کے کارکنوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور لوگوں کو غائب بھی کیا جارہا ہے۔

2014ء کی فوجی بغاوت کے بعد کم از کم نو کارکنوں کو غائب کردیا گیا اور پھر دو کی لاشیں ایک دریا کے قریب سے ملی تھیں لیکن خود فوج کہتی ہے کہ اس کا ان واقعات سے کوئی تعلق نہیں۔اس کے علاوہ خود تھائی بادشاہ اپنی من مانی اور عیاشیوں میں مصروف ہیں انہوں نے ستمبر 2020ء میں اپنی شاہی ساتھی کی حیثیت بحال کردی، جسے اکتوبر 2019ء میں معزول کیا تھا۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ وجیرا لانگ کورن نے اپنی ساتھی سنینت کو شاہی خاندان سے بدتمیزی کی پاداش میں معزول کیا تھا جس کو پہلے ’’رائل نوبل کنسورٹ‘‘ کا لقب دیا گیا تھا جو شاہ اپنی شریک حیات یا ساتھی کو دیتا ہے۔ وہ پہلے نرس تھی پھر شاہی محافظ بن گئی اور پھر میجر جنرل بنایا گیا تھا۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تھائی بادشاہ کس طرح اپنی مرضی سے عہدے بانٹنے پر قادر ہیں۔ 1996ء میں بھی بادشاہ نے اپنی دوسری بیوی سے خراب تعلقات کے بعد ان سے اپنے چار بیٹوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا تھا اور بادشاہ کی دوسری بیوی امریکا بھاگ گئی تھی ،پھر 2014ء میں تیسری بیوی کے ساتھ بھی یہی ہوا اور انہیں معزول کردیا گیا خود بادشاہ اپنا زیادہ وقت جرمنی میں گزارتے ہیں،ان کے کل سات بچے ہیں۔ان واقعات کی تفصیل بتانے کا مقصد یہ ہے کہ بالادست طبقات کے کردار کو واضح کیا جاسکے کہ کس طرح وہ خود اپنے مفادات کے لئے عوام کو بے وقوف بناتے ہیں، جنہیں حب الوطنی کا درست دیتے ہیں اور خود اپنی مراعات اور عیاشیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔

پھر بادشاہ نے شاہی دولت کو بھی ریاستی کے بجائے اپنی ذاتی ملکیت قرار دے دیا ہے۔2014ء کے بعد سے فوج نے اپنا سیاسی کردار خاصا مضبوط کرلیا ہے اور بادشاہ کے اختیارات میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے جس سے وہ خود کو اور فوج کو فائدے پہنچاتے رہے ہیں اور فوج ان کا بھی تحفظ کرتی ہے اور اپنا بھی۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ہنگامی حالات کے نفاذ کے بعد بھی مظاہرین پابندیوں کو خاطر میں نہیں لارہے اور پولیس بار بار ان کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ 2014ء میں فوج نے اس وقت کی منتخب وزیر اعظم ینگ تک شناواترا کے خلاف مظاہرین کو استعمال کرکے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اور پھر خود فوج کے سربراہ نے اپنے آپ کو وزیراعظم منتخب کرالیا تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ تھائی لینڈ میں ہنگامی حالات جمہوری جدوجہد کو کچلنے میں کتنے کام یاب ہوتے ہیں۔