آپ آف لائن ہیں
ہفتہ12؍ربیع الثانی 1442ھ 28؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ملکی سفارتی حلقوں کی طرف سے پاکستان کے ایف اے ٹی ایف میں بلیک لسٹ کئے جانے کے امکانات ختم ہونے کی خبر سے اِس بات کی بجا طور پر اُمید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان اسی طرح فیٹیف کی گرے لسٹ سے بھی جلد نکل آئے گا۔ واضح رہے کہ جون 2018میں پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے دہشت گردی کی فنڈنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف سخت قوانین کی عدم موجودگی کو جواز بتاتے ہوئے گرے لسٹ میں شامل کردیا تھا۔گزشتہ دو برس سے اس لسٹ سے نکلنے کیلئے حکومتی سطح پر کوششیں کی جارہی تھیں، کئی اقدامات بھی کئے گئے اور گزشتہ سال امید تھی کہ وطن عزیز گرے فہرست سے نکل آئے گا تاہم بھارت کی فیٹف میں موجود لابی پروپیگنڈا کرتی رہی اور معاملے کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے پاکستان کو بلیک لسٹ کئے جانے کی بھرپور کوششیں کی گئیں۔ ملکی سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ پر ہوم ورک مکمل کرکے تمام قانونی ضروریات پوری کر لی ہیں اور اِن اقدامات کو رپورٹ بھی کردیا گیا ہے۔ پاکستان نے 27میں سے 21سفارشات پر عمل درآمد کیاہے جس کے بعد اس کے بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات ختم ہو گئےہیں۔ جون 2021میں پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس باب میں ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک سے رابطے بھی کیے گئے ہیں۔ پاکستان نے باقی چھ شقوں

پر بھی 20فیصد کام مکمل کرلیا ہے اور پارلیمنٹ سے بھی قانون سازی کے ذریعے 16کووئیریز کو دور کردیا گیا ہے۔ حالیہ انسداد دہشت گردی و منی لانڈرنگ بل کی منظوری اسی معاملے کی ایک کڑی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی سطح پر موثر سفارت کاری کے ساتھ ساتھ عالمی اداروں میں پاکستانی لابی کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسی کسی ناخوشگوار صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تازہ ترین