آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس غیرآئینی، صدر صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں ناکام، جس پیمانے پر قانون سے انحراف ہے اسے بدنیتی کہا جاسکتا ہے، تفصیلی فیصلہ

جسٹس فائز عیسیٰ ریفرنس غیرآئینی


اسلام آباد (رپورٹ رانا مسعود حسین، ٹی وی رپورٹ ) عدالت عظمیٰ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کیخلاف دائر کی گئی آئینی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف یہ صدارتی ریفرنس آئین اورقانون کی خلاف وزری تھی اورصدرمملکت آئین کے مطابق دیئے گئے اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہے ہیں ،جس پیمانے پر قانون سے انحراف ہے اسے بدنیتی کہا جاسکتا ہے۔

آزاد غیر جانبدار عدلیہ کسی بھی جمہوری ملک کی اقدار کا حصہ ہے، ججز کیخلاف ریفرنس خفیہ رکھنے کی قانون میں کوئی شق نہیں،جسٹس فائز عیسیٰ کیخلاف تفتیش کی منظوری وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے دی جس کا انہیں آئینی و قانونی اختیار نہیں تھا،تفصیلی فیصلہ جسٹس عطا عمر بندیال نے تحریر کیا۔

 جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں الگ الگ نوٹ تحریر کیا ہے۔ جسٹس فیصل عرب نے لکھا کہ ریفرنس لندن جائیدادوں پر بنا، ضروری تھا فائز عیسیٰ خود پر لگے داغ دھوئیں.

جسٹس یحییٰ آفریدی نے اضافی نوٹ میں لکھا کہ ٹیکس ریٹرن افشا کرنا جرم، شہزاد اکبر و دیگر کیخلاف کارروائی کی جائے۔

 سپریم کورٹ کی جانب سے جمعہ کے روز جاری کیا گیا تفصیلی فیصلہ 224 صفحات پر مشتمل ہے،جن میں سے 173صفحات جسٹس عمر عطا بندیال نے تحریرکئے ہیں جبکہ جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحیٰ افریدی نے الگ الگ نوٹ دیئے ہیں۔

 فاضل عدالت نے19جون کو جومختصر فیصلہ جاری کیا تھا،اس میں فل کورٹ دس کنی بنچ نے متفقہ طور پرصدارتی ریفرنس کیخلاف فیصلہ دیا تھا۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس مقبول باقر، جسٹس منظور احمد ملک، جسٹس فیصل عرب، جسٹس مظہر عالم میاں خیل ، جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس سید منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحی ٰ آفریدی اور جسٹس قاضی محمدامین احمد پر مشتمل 10؍ رکنی فل کورٹ بنچ نے کیس کی سماعت کی تھی۔

 فاضل عدالت نے اپنے فیصلے کا آغاز سورۃ النسا کی آیات سے شروع کیا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے لکھا ہے کہ آزاد، غیر جانبدار عدلیہ کسی بھی مہذب جمہوری معاشرے کی اقدار میں شامل ہوتی ہے،جسٹس فیصل عرب نے اپنے 23صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیاہے کہ جسٹس قاضی فائزعیسی کا وکلا ء برادری میں انتہائی احترام ہے ، جب انکے ما لی معاملات پر سوال اٹھا تو انتہائی لازمی تھا کہ وہ اپنے اوپر لگے داغ دھوئیں ،جسٹس فیصل عرب نے فیصلے میں لکھاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اپنی لندن جائیدادوں کو ظاہر کرکے ، واحد طریقہ تھا کہ وہ اس داغ کو دھوئیں،انہوںنے قرار دیاہے کہ آئین کا آرٹیکل209غیر فعال کیا گیا تو یہ جن لوگوں کیلئے بنایا گیاتھا ان کیلئے مردہ ہوگیا۔ 

انہوں نے قرار دیاہے کہ قانون کی نظر میں جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں ہے جبکہ جسٹس یحی آفریدی نے اپنے 24صفحات پر مشتمل نوٹ میں قرار دیاہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کیخلاف ریفرنس آئین و قانون کی خلاف ورزی تھی، ریفرنس داخل کرنے کا سارا عمل آئین و قانون کیخلاف تھا،جبکہ صدرمملکت آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں ناکام رہے ہیں۔

فاضل عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ صدارتی ریفرنس میں متعدد سقم اور خامیاں ہیں، صدر اور وزیر اعظم کی بجائے وزیر قانون نے تحقیقات کی اجازت دی تھی، ریفرنس دائر کرنے سے قبل قانون کے مطابق مسز قاضی فائز کو انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 116(1)کے تحت کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔

اس قانون کی تشریح کئے بغیر ہی یہ فرض کرلیا گیا کہ درخواست گزار قاضی فائز عیسی اپنی خود مختار بیم اور نوجوان بچوں کے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند تھے، ریفرنس میں منی لاندرنگ کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے، جبکہ اس بات کو بھی کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ درخواست گزار قاضی فائز عیسی نے فارن ایکسچینج ریگولیشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

صسدر نے اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کی ایڈوائس پر ایک کمزور اور ناقص ریفرنس وصول کیا ہے، جبکہ اس پر کسی تھرڈ پارٹی سے رائے بھی نہیں لی گئی، صدر اس ریفرنس میں متعدد قانونی اور پروسیجرل نقائص کا جائزہ لینے میں ناکام رہے ہیں، اور آئین کے آرٹیکل 209(5)کے تقاضو ںکے مطابق رائے نہیں دے سکے ہیں۔

مسول علیان (متعلقہ سرکاری اداروں) نے مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر ہی درخواست گزار قاضی فائز عیسیٰ اور انکی اہلیہ کے ٹیکس ریکارڈ کا جائزہ لیا ہے، جبکہ مسز اعوان (فردوس عاشق اعوان) نے درخواست گزار قاضی فائز عیسی کیخلاف توہین آمیز کلمات ادا کئے ہیں، مسول علیان کے یہ تمام تر اقدامات غیر قانونی تھے۔

اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کے خلاف دائر ریفرنس نہایت احتیاط اور ثبوتوں کا متقاضی ہوتا ہے، اس ریفرنس کی تیاری میں نہ صرف آئین اور قانون کی مختلف شقوں کی پامالی کی گئی ہے بلکہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیس میں طے کئے گئے اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے تحفظ کے اصول کی بھی پامالی کی گئی ہے۔ 

ان حالات میں ریفرنس کی تیاری اور تشکیل میں کی جانے والی غلطیوں کو محض غیر قانوی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے، اس میں آئین کے آرٹیکل 209(5)کے تقاضوں کا جان بوجھ کرخیلا نہیں رکھا گیا ہے، اگرچہ ریفرنس کی تیاری اور تشکیل حقیقت میں بدنیتی پر مبنی نہیں ہیں لیکن ریفرنس کی تیاری میں کئے جانے والے غیر قانونی اقدامات اس شدت کے ہیں کہ اسے قانون کی نظر میں بدنیتی پر مبنی قرار دیا جاسکتا ہے۔

انہی وجوہات کی بناء پر اس ریفرنس کو ختم کیا جاتا ہے، اس ریفرنس میں بیگم قاضی فائز عیسی کی لندن جائیدادوں کی ملکیت سے متعلق حقائق پر مبنی معلومات کے علاوہ اس ریفرنس کی کوئی بنیادیں ہی نہیں ہیں، اسی طرح قاضی فائز کے خلاف مس کنڈکٹ کا الزام بھی اہمیت کا حامل نہیں رہا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیگم قاضی فائز عیسیٰ اور بچوں کی جائیدادوں کو تسلیم کرنے کے بعد مسول علیان صرف اثاثوں کی حد تک تحقیقات کرسکتے ہیں نتیجتاً اس ریفرنس کے حوالے سے درخواست گزار قاضی فائز عیسی کو جاری کیا گیا شوکاز نوٹس محض کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے، جس کی بنیاد پر ان کیخلاف کوئی انکوائری نہیں ہو سکتی ہے، اسی طرح ہی وہ پروسیڈنگ بھی ختم ہوگئی ہیں۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس کیس کے آغاز میں درخواست گزار وکلاء نے اس معاملے کو عدلیہ کی آزادی کا معاملہ قرار دیا تھا جبکہ درخواست گزار قاضی فائز عیسی کے وکیل نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب تک انکے موکل کے خلف یہ ریفرنس ختم نہیں ہوتا عدلیہ کا وقار بحال نہیں ہوسکتا ہے، تاہم ان کا دھیان اس جانب نہیں گیا کہ آئین کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کا احتساب بھی ہوسکتا ہے۔

ایک آزاد عدلیہ ایک مہذب معاشرے کے لئے نہایت ضروری ہے اور اگر کسی جج پر کوئی دھبہ لگ جائے تو اسے دھوئے بغیر عوام کا اعتما د حاصل نہیں کیا جاسکتا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس فیصلے کے آغاز میں لکھی گئی قرآنی آیت کی روشنی میں یہ ادارہ اس بات کو نظر انداز نہیں کرسکتا ہے کہ ایک جج کے خاندان پر غیر ملکی اثاثے ظاہر نہ کرنے کا الزام ہے۔

اس کیس میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کیس کا حوالہ بہت اہم ہے، جس میں فاضل عدالت نے نہ صرف ان کے خلاف کسی کو ختم کیا تھا بلکہ اس میں لگائے گئے الزامات کو بھی ختم کردیا تھا، کیونکہ وہ بنچ سمجھتا تھا کہ ان کیخلاف ایک فوجی حکمران نے وہ ریفرنس بدنیتی سے قائم کیا تھا اور اسی بناء پر الزامات کو بھی کو ئی اہمیت نہیں دی تھی جبکہ حالیہ کیس میں بدنیتی کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے تاہم اس میں متعدد قانونی سقم موجود ہیں، جو کہ اس کی تیاری میں کی جانے والی غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ ہیں۔

تاہم ان غلطیوں نے بیگم قاضی فائز عیسی اور ان کے بچوں کی جائیدادوں کی ملکیت کا معاملہ ختم نہیں ہوجاتا ہے، جبکہ جائیدادوں کی حقیقت سے درخواست گزار نے بھی انکار نہیں کیا ہے، اس لئے جائیدادوں کے وجود پر کوئی تنازعہ نہیں ہے ،اور ان کی خریداری پر استعمال ہونے والی رقم کی وضاحت بہت ضروری ہے۔

دوسری صورت میں درخواست گزار جج اور اس ادارے کی ساکھ متاثر ہوگی ،ہم نے ادارے اور جج کی ساکھ کو ہی بچانے کیلئے بیگم قاضی فائز عیسی اور انکے بچوں کو ایف بی آر سے رجوع کرکے اپنے ذرائع بتانے کی اجازت دی ہے۔

عوامی عہدوں کے حامل پاکستانیوں کی بیرون ملک نان ڈیکلیئرڈ جائیدادیں ایک دھبہ بن چکی ہیں جس میں پاناما لیکس کے بعد شدت آگئی ہے ،ہر عوامی عہدیدار بشمول اعلیٰ وعدلیہ کے جج، مسلح افواج کے افسران، عوامی نمائندے اور سرکاری افسران قانون کے سامنے جوابدہ ہیں، اور اس اصول کے خلاف کسی بھی مفروضے کو قبول نہیں کیا جاسکتا ہے، قانون کے ذریعے ان سب کو مس کنڈکٹ پر جوابدہ بنایا گیا ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ بیگم مسول علیان کو ریفرنس دائر کرنے سے قبل ہی بیگم قاضی فائز عیسی اور ان کے بچوں کا معاملہ ایف بی آر کو بھجوانا چاہیئے تھا، لیکن انہوں نے اسے نظر انداز کردیا تھا، تاہم ایف بی آر کے ذریعے ریفرنس میں لگائے گئے الزامات کا تنازعہ حل ہوجائیگا۔

جس کے حوالے سے درخواست گزار کے وکیل نے بھی موقف اختیار کیا تھا کہ اس حوالے سے انکے موکل کی بجائے ان کی اہلیہ اور بچوں سے ہی استفسار کیا جانا چاہیے اور اس معاملے کو ایف بی آر ہی کے ذریعے طے کیا جانا چاہییئے تاکہ ان کا آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت ڈیو پراسس کا حق پامال نہ ہو، جبکہ بیگم عیسیٰ نے بھی عدالت میں یہی موقف اختیار کیا تھا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ مالی معاملات کے حوالے سے ایف بی آر ہی سب سے موزوں فورم ہے اور ہم نے اس معاملے کو ایف بی آر کو بھیج کر تمام فریقین مقدمہ کے حقوق کو محفوظ کرنے کی کوشش کی ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے مخالف فیصلہ آنے کی صورت میں انکے پاس تمام فورموں میں اپیل کے حق بھی موجود ہے، عدالت نے ایف بی آر کو موزوں مدت کے اندر اندر بیگم قاضی فائز عیسی اور ان کے بچوں کی جائیدادوں سے متعلق کسی کا فیصلہ کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

عدالت نے قرار دیاہے کہ ہم نے اپنے مختصر حکمنامہ میں چیرمین ایف بی آر کو (کمشنر ان لینڈ ریونیو) کی کارروائی کی رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل کو جائزہ لینے کیلئے پیش کرنے کا حکم دیا تھا، تاکہ اگر اس میں درخواست گزار کے خلاف ایکشن لینے کا کوئی جواز ہو تو وہ لے سکے تاہم وہ اپنے اختیارات کے استعمال کے لئے ایف بی آر کی رپورٹ پر عمل کرنے کی پابند نہیں ہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ پاکستان میں سپریم جودیشل کونسل ہیوہ واحد ادارہ ہے جوکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے کنڈکٹ کا جائزہ لینے کا اختیار رکھتا ہے، ایف بی آر کا دائرہ کار ٹیکس معاملات تک محدود ہے جبکہ سپریم جودیشل کونسل کا دائرہ اختیار اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے مس کنڈکت کا جائزہ لینے تک ہے۔

عدالت نے قرار دیاہے کہ ایک فورم کی کارروائی دوسرے فورم پر اثر انداز نہیں ہوسکتی ہے، عدالت نے مزید قرار دیاہے کہ جسٹس فائز عیسی کے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتاہے، کیونکہ ان کے خلاف یہ ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس میں جاری کیے گئے فیصلے نہیں بلکہ لندن میں انکے خاندان کی جائیدادوں کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

اس لئے فیض آباد دھرنا کیس میں دائر کی گئی نظرثانی کی درخواستوں کو صدارتی ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے بدنیتی کے شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا ہے، عدالت نے قرار دیاہے کہ فریقین مقدمہ کو اپنے خلاف ہونے والے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کرنے کا آئینی و قانونی حق ہوتا ہے۔ 

عدالت نے قرار دیاہے کہ آئین میں ایسی کوئی شق موجود نہیں ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج کیخلاف دائر ریفرنس کو خفیہ رکھنا چاہیے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ صدر مملکت نے ریفرنس دائر کرنے سے قبل اس میں موجود نقائص کا جائزہ نہیں لیا ہے حتیٰ کہ اعلیٰ عدلیہ کے ایک جج کے خلاف تحقیقات کیلئے وزیراعظم کی منظوری بھی نہیں لی گئی تھی ،عدالت نے قرار دیا ہے کہ صدر نے سپریم جوڈیشل کونسل کو نقائص سے بھرپور ریفرنس بھیجا گیا تھا۔ 

عدالت نے قرار دیا ہے کہ اعلی عدلیہ کے جج کے خلاف تحقیقات کیلئے وفاقی وزیر قانون و انصاف سے اجازت لینے کا عمل قانون کے مطابق نہیں تھا تاہم یہ صدارتی ریفرنس جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جانب سے لندن کی اثاثوں میں ظاہر نہ کی جانے والی جائیدادوں کی بنیاد پر بنایا گیا تھا۔

عدالت نے قرار دیاہے کہ اس خاندان کی لندن کی جائیدادوں کی ملکیت کی وجہ سے قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا، عدالت نے قرار دیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے ماضی میں بھی ہائی کورٹ کے ایک جج کی غیر ملکی جائیدادوں کے حوالے سے نوٹس لیا تھا اور جب اس کیخلاف کاروائی شروع کی تو وہ مستعفی ہوگیا تھا جبکہ حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے جج کے خلاف بھی صدارتی ریفرنس دائر کیا ہے۔

اس لئے حکومت کی جانب سے دائر کئے گئے صدارتی ریفرنس کو بد نیتی پر مبنی قرار نہیں قرار دیا جا سکتا ہے، فاضل عدالت نے اپنے فیصلے قراردیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے لئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کی جائیدادوںاور اثاثوں کے حوالے سے ایف بی آر کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ پر کاروائی لازم نہیں ہے بلکہ وہ ایف بی آر کی رپورٹ کا جائزہ لے کر جج کے کنڈکٹ کا فیصلہ خود کرے گی۔

عدالت نے قرار دیاہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ججوں کے ضابطہ اخلاق کے حوالے سے کارروائی کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی جبکہ ایف بی آر کی جانب سے آنے والی رپورٹ صرف اس معاملہ سے متعلق معلومات کی حیثیت رکھے گی۔

فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں درخواست گزار کی جانب سے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے داخلہ / ایسٹس ریکوری یونٹ کے چیئرمین مرزا شہزاد اکبر کوان کے عہدے سے ہٹانے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے شہزاد اکبر کی تقرری کو الگ سے چیلنج نہیں کیا ہے جبکہ انہوں نے فون ٹیپ کرنے کا بھی کوئی الزام نہیں لگایاہے۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ اس مقدمہ کی حد تک شہزاد اکبر مرزا کی تقرری کو غیرقانونی قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ،عدالت نے قرار دیا ہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی کا عہدہ سیاسی نوعیت کا معاملہ ہوتا ہے ، جس کی تقرری وزیراعظم کی اپنی صوابدید پر ہوتی ہے۔

عدالت نے قرار دیاہے کہ ججوں کا احتساب ایک جمہوری اور بیدار معاشرے کے لئے نہایت ضروری ہوتا ہے اور عدلیہ کی آزادی اس کے ججوں کیخلاف دائر کی جانے والی درخواستوں سے متاثر نہیں ہوتی ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ ججوں کا غیر متعصب، بلا تفریق اور منصفانہ احتساب آزاد عدلیہ کو اور بھی مضبوط کرتا ہے، بلا تفریق احتساب سے عوام کا عدالتوں پر اعتبار بڑھتا ہے ۔

تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف یہ ریفرنس آئین اور قانون کے بر خلاف دائر کیا گیا ہے، صدارتی ریفرنس اور ایک عام شہری کی جانب سے درج کروائی گئی شکایت کے معیار میں فرق یقینی ہوتا ہے، عدالت نے قرار دیا ہے کہ پوری وفاقی حکومت اور سرکاری ادارے صدر مملکت کے ماتحت ہوتے ہیں، ان کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو نقائص سے بھرپور ریفرنس بھجوانا عدلیہ کیلئے بہت نقصان دہ چیزہے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے جسٹس فائز عیسیٰ پر لگائے گئے الزامات کو ان کے خاندان کی جانب سے لندن جائدادوں کی خریداری کے ذرائع ظاہر کر کے عوام کے ذہنوں سے شک و شبہ کو صاف کیا جا سکتا ہے۔ 

جسٹس فیصل عرب اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے فیصلے میں الگ الگ نوٹ تحریر کیا ہے۔جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس آئین و قانون کی خلاف ورزی تھی، ریفرنس داخل کرنے کا سارا عمل آئین و قانون کیخلاف تھا۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے نوٹ میں لکھا کہ صدر آئین کے مطابق صوابدیدی اختیارات کے استعمال میں ناکام رہے۔جسٹس فیصل عرب نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا وکلا برادری میں انتہائی احترام ہے، جب انکے ما لی معاملات پر سوال اٹھا تو انتہائی لازمی تھا کہ وہ اپنے اوپر لگے داغ دھوئیں۔

 جسٹس فیصل عرب نے فیصلے میں لکھاکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر اپنی لندن جائیدادوں کو ظاہر کرکے ، واحد طریقہ تھا کہ وہ اس داغ کو دھوئیں۔ جسٹس فیصل عرب نے اپنے نوٹ میں لکھا کہ آئین کا آرٹیکل209غیر فعال کیا گیا تو یہ جن لوگوں کے لیے بنایا گیا ان کیلئے مردہ ہوگیا۔ 

جسٹس فیصل عرب نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ قانون کی نظر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس قابل سماعت نہیں ہے۔ جسٹس یحییٰ آفریدی نے 24 صفحات کے اختلافی نوٹ میں لکھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور ان کی اہلیہ کے انکم ٹیکس ریٹرن کی خفیہ معلومات دینے پر اور کیس کا مکمل ریکارڈ ایف بی آر کے سامنے رکھ کر وزیر قانون فروغ نسیم، چیئرمین ایسٹ ریکوری یونٹ (اے آر یو) مرزا شہزاد اکبر، سابق چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور متعلقہ انکم ٹیکس آفیسرز کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔         

اہم خبریں سے مزید