آپ آف لائن ہیں
منگل8ربیع الثانی 1442ھ 24؍نومبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں سے خوفزدہ نظر آرہی ہے،تجزیہ کار


کراچی (ٹی وی رپورٹ)جیو کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں میزبان علینہ فاروق شیخ کے پہلے سوال شبلی فراز کہتے ہیں بھارت، اسرائیل اور پی ڈی ایم ایک ہی تکون کے تین رخ ہیں، کیا وفاقی وزیر کا الزام درست ہے؟کا جواب دیتے ہوئے تجزیہ کاروں نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں سے خوفزدہ نظر آرہی ہے،منیب فاروق نے کہا کہ پی ڈی ایم اور حکومت کی باتیں بھونڈی اور بھدی ہیں، دونوں کے موقف میں کوئی وزن نہیں ہے، پی ڈی ایم کے جلسوں میں استعمال کی جانے والی زبان اور نعرے تشویشناک ہیں۔

پی ڈی ایم کو حکومت اور ریاست میں فرق کرنا چاہئے، حکومت کو بے شک لتاڑیں لیکن پاکستان کی اکائیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کی ضرورت ہے، بلوچستان کا معاملہ بہت حساس ہے پی ڈی ایم کے فورم پر بات کرتے ہوئے احتیاط برتنی چاہئے، شبلی فراز پی ڈی ایم پر بھارت اور اسرائیل نواز ہونے کا الزام اس لئے لگارہے ہیں کیونکہ یہ الزام آسانی سے بک جاتا ہے۔رسول بخش رئیس کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کہتی ہے جمہوریت کو بچانا ہے لیکن ان کا مقصد صرف حکومت گرانا ہے۔

پی ڈی ایم کا بھارت یا اسرائیل سے کوئی تعلق نہیں ہے، ماضی میں بھی مخالفین پر دشمن ملکوں سے رابطوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، کوئٹہ جلسے میں جو نعرے لگے وہ نہیں لگنے چاہئیں تھے، جمہوریت کیلئے تحریک میں علیحدگی پسندوں کی حمایت میں نعرے لگتے ہیں تو رائے عامہ اس کے حق میں نہیں رہے گی۔حسن نثار نے کہا کہ شبلی فراز نے پی ڈی ایم کرپشن،ہوس اقتدار اور بے صبرے پن کی تکون ہے۔

یہ مچھلیاں اور مگرمچھ ہیں جو پانی کے باہر تڑپ رہے ہیں، پچیس کروڑ کے آوارہ ہجوم میں سے پچاس ہزار لوگ اکٹھے کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، بینظیر کے استقبال کیلئے 1986ء میں جتنی بڑی تعداد لوگ جمع ہوئے اسے کراؤڈ کہتے ہیں، پرانے ایئرپورٹ سے لے کر داتا دربار تک سر ہی سر نظر آرہے تھے۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی تقریریں ذاتی زخم زیادہ اور قومی ایشوز کم لگ رہی ہیں، نواز شریف نے دو افراد کو ٹارگٹ کرلیا ہے اس سے لگتا ہے وہ اپنے ذاتی ایشو کو اجاگر کررہے ہیں، نواز شریف اپنی تقاریر کو ری ڈیفائن او ر خود کو ری وزٹ کریں، شبلی فراز کے الزامات کی اہمیت نہیں ہے ماضی میں بھی سیاسی مخالفین پر ایسے ہی الزامات لگتے رہے ہیں، اپوزیشن ایک ایسی بند گلی میں جارہی ہے جہاں تصاد م ناگزیر ہوجائے گا۔

ریما عمر نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم کے جلسوں سے خوفزدہ نظر آرہی ہے، حکومت سمجھتی تھی پیپلز پارٹی پی ڈی ایم چھوڑ د ے گی لیکن ایسا نہیں ہوا، حکومتی وزراء مایوسی کے عالم میں پی ڈی ایم پر الزامات لگارہے ہیں۔بابر ستار کا کہنا تھا کہ عمران خان کو قومی اتحاد کی فکر ہے تو اپوزیشن پارٹیوں پر دشمن کے ایجنڈے پر چلنے کے الزامات کیوں لگارہے ہیں۔دوسرے سوال کابینہ میں ردوبدل کی خبریں دوبارہ گرم ہونے لگیں، وزیراعظم متعدد وزراء کی کارکردگی سے ناخوش، ذرائع، کیا وزراء کی تبدیلی سے کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے؟ کا جواب دیتے ہوئے رسول بخش رئیس نے کہا کہ کارکردگی نہ دکھانے پر وفاقی وزراء کی تبدیلی کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے، وزیراعظم کا وزراء کی کارکردگی اچھی نہ ہونے پر تبدیل کردینا اچھی بات ہے۔

مظہر عباس کا کہنا تھا کہ کارکردگی بہتر نہ ہونے پر وزراء کی وزارتیں تبدیل کرنا کوئی بہتر عمل نہیں ہے، ایک وزیر اگر ایک وزارت میں نااہلی دکھارہا ہے تو دوسری وزارت میں اہل کیسے ہوجائے گا، کسی وزیر کی کارکردگی خراب ہے تو اسے کابینہ سے فارغ کر کے کسی نئے ایم این اے کو وزیر بنایا جانا چاہئے، عمران خان کا طریقہ کار دیکھیں تو کابینہ میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں ہوگی، وزیراعظم نے کرپشن کی بنیاد پر جسے وزیرصحت کو ہٹا یا اسے پارٹی کا سیکرٹری جنرل بنادیا۔

حسن نثار نے کہا کہ مہنگائی کابینہ سے بہت نچلی سطح کا انتظامی مسئلہ ہے، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز بحال کردیئے ہیں تو ایگزیکٹو مجسٹریسی بھی فعال کردی جائے تو مہنگائی شاید بڑا چیلنج نہیں رہے، مہنگائی کا معاملہ بھونڈے طریقے سے ہینڈل کیا گیا تو کہیں اشیاء ہی غائب نہ ہوجائیں۔ کابینہ میں ردوبدل کی خبروں کے حوالے سے نمائندہ جیو نیوز ایاز اکبر یوسف زئی نے کہا کہ وزیراعظم کچھ وزراء کی کارکردگی سے نالاں ہیں جن میں سرفہرست وزیرداخلہ اعجاز شاہ ہیں، وزیراعظم وفاقی وزیر صنعت و پیداوار حماد اظہر ، وزیر تجارت رزاق داؤد، وزیر فوڈ سیکیورٹی فخر امام، وزیر توانائی عمر ایوب ، وزیر ہوابازی غلام سرور خان کو تبدیل کئے جانے کا امکان ہے۔

اہم خبریں سے مزید