• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اکثر توجہ جنگی طاقت پر ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے۔ 

اگر خلیج فارس یا آبنائے ہرمز کو ہائی رسک قرار دے دیا جائے تو جہاز مالکان کے لیے انشورنس کی لاگت اچانک کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور بعض صورتوں میں کوریج ہی ختم ہو جاتی ہے۔ 

یہی وجہ ہے کہ جدید جیو پولیٹیکل تنازعات میں مالیاتی نظام اور انشورنس مارکیٹ بھی ایک اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ 

جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے نظام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ لندن کی انشورنس مارکیٹ لائیڈز آف لندن سے وابستہ جوائنٹ وار کمیٹی دنیا کے مختلف سمندری راستوں کے خطرے کا تعین کرتی ہے۔ 

اگر یہ کمیٹی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز کو ہائی رسک زون قرار دیدے تو عام شپنگ انشورنس مؤثر نہیں رہتی اور جہاز مالکان کو جنگی خطرے کی اضافی انشورنس یعنی وار رسک پریمیم ادا کرنا پڑتا ہے۔ 

امن کے حالات میں یہ پریمیم معمولی ہوتا ہے لیکن جیسے ہی کسی حملے یا کشیدگی کی خبر آتی ہے تو یہ اچانک کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور ایک آئل ٹینکر کی انشورنس لاگت ہزاروں ڈالر سے بڑھ کر لاکھوں ڈالر زتک پہنچ سکتی ہے۔ 

اس نظام میں ایک اہم شق کینسلیشن کلاز بھی ہے جس کے تحت انشورنس کمپنیاں صرف 48 گھنٹے کے نوٹس پر اپنی کوریج ختم کر سکتی ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی حربہ ہے جسے ایران جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کےخلاف استعمال کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف اتنا خطرہ پیدا کرنا کافی ہوتا ہے کہ انشورنس کمپنیوں کا رسک بڑھ جائے اور ایسا ہی ہوا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید