آپ آف لائن ہیں
منگل15ربیع الثانی 1442ھ یکم دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نگرپارکر میں کالی داس ڈیم کا افتتاح کردیا گیا


وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ  نے سندھ کے علاقے نگرپارکر میں  کالی داس ڈیم کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

سید مراد علی شاہ کی جانب سے کالی داس ڈیم کے افتتاح کے دوران وزیر آبپاشی سہیل انور سیال، ایم این اے نواب یوسف ٹالپر، وزیر تعلیم سعید غنی، وزیر پی ایچ ای شبیر بجارانی، وزیر آئی ٹی تیمور ٹالپر، وزیر ثقافت سید سردار شاہ، مشیر قانون مرتضیٰ وہاب، ایم پی اے قاسم سومرو اور دیگر موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اس دوران اپنے خطاب میں کہا کہ کالی داس ڈیم 333 ملین روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے، کالی داس ڈیم گھوردھاڑو نئی / آبشار پر بنایا گیا ہے جبکہ کالی داش ڈیم نگرپارکر سے ایک کلو میٹر پر مغرب میں واقع ہے۔

سید مراد علی شاہ نے ڈیم سے متعلق مزید بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیم نگرپارکر اور قریب کے گاؤں کے لوگوں اور مویشیوں کی روزانہ کی ضروریات پوری کرتا ہے، اس وقت کالی داس ڈیم میں بارشوں کا پانی 13 فٹ تک جمع ہے، ڈیم کی کُل اونچائی 15 فٹ ہےاور یہ پانی پورے سال کی ضروریات پوری کر ے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ کالی داش ڈیم میں 1012.30 ایکڑ فٹ پانی جمع کرنے کی گنجائش ہے، نگرپارکر میں کارونجھر پہاڑ 400 اسکوائر کلومیٹر پر ہے اور کارونجھر پہاڑ چھوٹے ڈیموں کا کیچمنٹ ایریا بنتا ہے، مون سون میں کارونجھر پر اوستاً 13 انچ پارش ہوتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 13 انچ بارش سے تقریباً 111000 ایکڑ فٹ پانی ملتا ہے اور یہ پانی 208000 ایکڑ زمین سیراب کرے گا ۔

سید مراد علی شاہ نے کالی داس ڈیم کے افتتاح کے دوران اپنے بیان میں  کہا ہے کہ پہلے یہ پانی ضائع ہو جاتا تھا، پانی کو بچانے اور اس کا استعمال کرنے کے لیے اسمال ڈیم پروجیکٹ شروع کیا گیا، اسمال ڈیم پروجیکٹ کے تحت 42 ڈیم بنانے کا منصوبہ شروع کیا گیا، اس پروجیکٹ کے تحت ابھی تک 23 ڈیم مکمل ہوچکے ہیں۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ باقی 11 ڈیم جولائی 2022 تک مکمل ہوجائیں گے، اسمال ڈیم بنانے سے پہلے نگرپارکر میں پانی کی شدید قلت تھی، پانی نہ ہونے کے باعث نگرپارکر سے لوگ بیراج ایریا کی طرف اکثر نقل مکانی کرتے تھے، اب 23 ا سمال ڈیم مکمل ہونے کی وجہ سے بارشوں کا پانی اسٹور کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ پانی لوگ اپنے اور اپنے مویشیوں کے پینے کے لیے استعمال کر رہے ہیں، یہ پانی زراعت کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔

سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ 23 ڈیموں کی تکمیل سے 50 قریبی گاؤں کو بھی پانی مل رہا ہے جبکہ اس ڈیم کے پانی سے 40000 ایکڑ زمین سراب ہوگی اور 42 اسمال ڈیم مکمل ہونے کے بعد 85000 ایکڑ بنجر زمین آباد ہوگی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ 42 چھوٹے ڈیم مکمل ہونے سے 87 دہاتوں کی پانی کی ضروریات پوری ہوگی۔

اُن کا اپنے خطاب کے دوران سندھ کے چھوٹے ڈیموں سے متعلق بتانا تھا کہ کالی داس ڈیم، ویرا داس ڈیم، مسکین جہاں خان کھوسو ڈیم ، بارتلاو ڈیم، اباسر ڈیم، گھارتیاری ڈیم، گھورڈھاڑو ڈیم، ناریاسر ڈیم، جھنجھاسر ڈیم، چندن ڈیم، لاکر کھادیو ڈیم ، کووارا ڈیم، لکھی جو وانڈیو ڈیم، ادھیگھام ڈیم، پانپوری ڈیم، بھودیسر ڈیم، کھاراڑو ڈیم، توبرو ٹانک ڈم، راناسر ڈیم، گوٹراوا ڈیم، کھانی جہ واندیو ڈیم اور سرنچند ڈیم مکمل ہوچکے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید