آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میر شکیل الرحمٰن 229روز سے غیر قانونی قید، باعزت رہا ہونگے، مقررین

میر شکیل الرحمٰن 229روز سے غیر قانونی قید، باعزت رہا ہونگے، مقررین 


کراچی / لاہور / راولپنڈی (اسٹاف رپورٹر / نمائندگان جنگ) ایڈیٹر انچیف جنگ، جیو میر شکیل الرحمٰن کونیب کے ہاتھوں بے قصور،غیر قانونی اور غیر آئینی طور پر پابند سلاسل ہوئے 229دن گزر چکے ہیں ۔ بدھ کو بھی میر شکیل الرحمٰن کی غیر قانونی گرفتاری کیخلاف کراچی ، لاہور ، راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس میں سینئر صحافیوں ، جنگ جیو کے کارکنوں سمیت مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ مظاہرین نے جنگ کو جینے دو،جیو کو جینے دو،نیوز کو جینے دو،طلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے،لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی،میر شکیل الرحمان کو رہا کرو کے نعرے بھی لگائے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ میر شکیل الرحمٰن کو پابند سلاسل کرنا حق و سچ کو دبانے کی کوشش ہے، ایڈیٹر انچیف نے ہمیشہ قوم تک سچ پہنچایا اور دکھایا ہے جس کی وجہ سے اس دور حکومت میں ان کو غیر قانونی اور غیر آئینی قید کر دیا گیا ہے۔لیکن ان کے حوصلے میں نہ کبھی پہلے کمی آئی اور نہ کبھی آئے گی کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جھوٹ کتنا بھی سر اٹھا لے جیت ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے اور میر شکیل الرحمان نے ہمیشہ حق و سچ کا علم بلند کیا وہ جلد باعزت رہا ہوں گے ۔ دوسری جانب عالمی دنیا میں پاکستان کا پرچم لہرانے والے انٹرنیشنل شوتوکان کراٹے اور کک باکسر نورالامین نے کراچی میں صحافی تنظیموں، جنگ جیو ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام میرشکیل الرحمان رہائی احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میرشکیل الرحمان کی گرفتاری بلاجواز ہے، انہیں کسی جرم کے ثابت ہوئے بغیر قید میں رکھنا درست نہیں، جنگ اور جیو پاکستان کا بڑا میڈیا گروپ ہے، جنگ اور جیو کے ہزاروں کارکن ان کی گرفتاری سے پریشان ہیں، اس ملک میں حق اور سچ بولنے اور دکھانے کی آزادی ہونی چاہئے ۔ نور الامین نے عربی، انگلش، پشتو اور اردو میں میرشکیل الرحمان کی رہائی کیلئے حکومت کو میسج دیتے ہوئے مزید کہا کہ دنیا بھر میں میڈیا کو حق اور سچ کہنے اور دکھانے کی آزادی ہے لیکن پاکستان میں اس کے برعکس حکومت حق اور سچ سننا اور دیکھنا پسند نہیں کرتی ہے اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ملک کے صحافیوں اور کارکنوں کا ساتھ دینے کیلئے یہاں آئے ہیں۔ اس موقع پر صوفی فائونڈیش کے چیئرمین پیر سفیان طارق چشتی، پاکستان فٹنس اسٹوڈیو کے کوفائونڈر عمر حسن، انٹرنیشنل سائیکلسٹ نورالعزیز، سینئر صحافی، سیکرٹری جنرل ایپنک شکیل یامین کانگا، سینئر وائس چیئرمین کراچی ایپنک رانا محمد یوسف اور جنرل سیکرٹری دی نیوز ایمپلائز یونین سی بی اے دارا ظفر نے بھی خطاب کیا۔

اہم خبریں سے مزید