آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جنوبی پنجاب کے عوام کو حقیقی ریلیف کب ملے گا؟

اپوزیشن کی تحریک بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے ،ابھی تک جتنے بھی جلسے ہوئے ہیں ،وہ تینوں نہ صرف کامیاب رہے ،بلکہ ان میں اپوزیشن کا بیانیہ بھی سخت سے سخت ہوتا چلا گیا ،اگرچہ کراچی کے جلسہ سے نوازشریف نے خطاب نہیں کیا تھا اور یہ افواہیں اڑ گئی تھیں کہ شاید پیپلز پارٹی کی ناراضگی کے خوف سے نوازشریف نے خطاب کرنا ختم کردیا ہے، لیکن کوئٹہ کے جلسہ میں نوازشریف نے ایک بار پھر اسی بیانیہ کو دھرایا اور وہی سخت لب ولہجہ اختیار کیا ،جو وہ اپنی خاموشی ختم کرنے کے بعد سے اختیار کرچکے ہیں ،یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن میں اب دراڑ پڑنے والی نہیں ہے اور وہ متحد رہ کر اس تحریک کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے ،جس کے لئے ہرسیاسی جماعت لچک بھی دکھا رہی ہے اور کسی قسم کی غلط فہمی کو بھی پیدا ہونے سے پہلے ہی دبا دیا جاتا ہے۔

کراچی کی مثال سامنے ہے ،کیپٹن (ر) صفدراعوان کے خلاف مقدمہ درج کرکے انہیں گرفتار کیا گیا ،تو فوراً بلاول بھٹو زرداری نے مریم نواز کو فون کرکے اس پرسخت غم وغصہ کا اظہار کیا ،یہ بھی کہا کہ یہ ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچانے کی سازش ہے ،اس طرح لگتا یہی ہے کہ حکومت کو اپوزیشن ٹف ٹائم دینے کا جو آغاز کرچکی ہے ،اس کی شدت برقرار رہے گی اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مذید سیاسی کشیدگی جنم لے گی ،جس کا ظاہر ہے نقصان حکومت کو پہنچے گا ۔

پی ڈی ایم کا جب قیام عمل میں آیاتھا ،تو یہ بھی کہا گیا تھاکہ صوبائی ،ڈویژنل و ضلعی سطح پر اس کی انتظامی کمیٹیاں بھی قائم کی جائیںگی ،جن میں اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو نمائندگی دی جائے گی ،مگرابھی تک اس کا کوئی ڈھانچہ سامنے نہیں آسکا اور مرکزی سطح پر ہی اس کمیٹی کے فیصلے نافذکئے جارہے ہیں ،جلسوں کے تسلسل میں پی ڈی ایم کی کامیابی حکومت کے لئے ایک واضح خطرہ بن چکی ہے ،اتنے کم وقفے سے ملک کے مختلف شہروں میں کامیاب جلسے کرنا ،کوئی معمولی بات نہیں ہے ،تین صوبوں کو بھگتا کر اب پی ڈی ایم کا قافلہ کے پی کے کی طرف روانہ ہوگا اور وہاں بھی اگر پی ڈی ایم ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے ،تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ پی ڈی ایم چاروں صوبوں میں اپنی جڑیں رکھتی ہے اور چاروں صوبوں کے عوام کو حکومت کے خلاف متحرک کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔

جلسوں کے تسلسل میں پشاور کے بعد پڑاؤ دیگر بڑے شہروں میں ڈالاجائے گا،جن میں ملتان بھی شامل ہے اور 30 نومبر کو یہاں پی ڈی ایم کا جلسہ شیڈول ہوچکا ہے ،اس جلسہ کے لئے قلعہ کہنہ قاسم باغ میں اجازت طلب کی گئی ہے ،جو ایک تاریخی جلسہ گاہ ہے اور جہاں ایوب خان ،محترمہ فاطمہ جناح ، ذوالفقار علی بھٹو ، بے نظیر بھٹو ،ایم آر ڈی ،نوازشریف اور عمران خان کے جلسے بھی منعقد ہوچکے ہیں ،کہا یہ جاتا ہےکہ جو اتحاد یا جماعت قلعہ کہنہ قاسم باغ کے سٹیڈیم کو بھرنے میں کامیاب رہتا ہے ،وہ حکومت کو گرانے کی منزل کے بہت قریب پہنچ چکا ہوتا ہے،30 نومبر کے جلسہ کے لئے میزبانی پیپلزپارٹی کو دی گئی ہے ،یہاں کے سیاسی رہنما متحرک ہوچکے ہیں اور تیاریوں کا سلسلہ جاری ہے ،نہ صرف پیپلزپارٹی بلکہ مسلم لیگ ن ،جمعیت علمائے اسلام (ف) اور دیگر جماعتوں کے رہنما بھی اس سلسلہ میں تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیںمگر پی ڈی ایم کی ذیلی مشترکہ انتظامی کمیٹیاں تشکیل نہ پاسکنے کی وجہ سے اتحاد میں شامل جماعتوں میں کوآرڈی نیشن کا فقدان ہے۔

گلی محلوں میں کارنر میٹنگز بھی شروع ہوچکی ہیں ،مختلف جماعتوں کے مرکزی رہنما سید یوسف رضا گیلانی،مخدوم جاوید ہاشمی ،سابق گورنر ملک رفیق رجوانہ پوری طرح فعال ہوگئے ہیں اور کارکنوں سے رابطوں میں ہیں ،ملتان کا جلسہ صحیح معنوں میں جنوبی پنجاب کے سیاسی درجہ حرارت کا تعین کرے گا ،یہ وہی جنوبی پنجاب ہے کہ جہاں سے عام انتخابات میں تحریک انصاف نے نمایاں کامیابی حاصل کی تھی ،خاص طور پر ملتان سے کلین سویپ کیا ، مگر آج صورتحال خاصی تبدیل ہوچکی ہے۔

اگرچہ شاہ محمود قریشی ملتان آتے ہیں اور یہاں کے عہدے داروں ،کارکنوں سے خطاب و پریس کانفرنسوں میں اپوزیشن پر کڑی تنقید کرتے رہتے ہیں ،مگر وہ اس بات سے بے خبر ہیں کہ ملتان میں حکومت کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے لئے نرم گوشہ پیدا ہوچکا ہے اور تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی عملاً غیر فعال نظر آتے ہیں اور ان کا سارا دارومدار افسران کے ساتھ کندھا ملا کر کھڑے ہونا اور ان کی ناقص کارکردگی کا دفاع کرنا رہ گیا ہے،مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ہر روز استعمال کی اشیاء مزید مہنگی ہو جاتی ہیں۔

ہرشے کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ نے ایک ایسی قیامت ڈھائی ہے کہ اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جو پہلے ہی محدود آمدنی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں ،، ہر روز بڑھنے والی مہنگائی ان کی زندگی اجیرن کر رہی ہے، پاکستان میں سیاست کو معیشت سے جدا نہیں کیا جاسکتا، آج تک جتنی بھی تحریکیں چلی ہیں ، ان میں معاشی بدحالی نے اہم کردار ادا کیا ہے اب حکومت کو بھی اس کا احساس ہوگیا ہے کہ اگراپوزیشن کی تحریک کو ناکام بنانا ہے، تو عوام کو ریلیف دینا ہوگا ، اس پر ابتدائی طور پرمہنگائی کے خلاف خصوصی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا گیاہے ، ضلعی انتظامیہ کو ٹاسک دیئے گئے ہیں اور مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے ٹائیگر فورس کو بھی متحرک کردیا گیا ہے۔

تاہم اگر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وہی روایتی مصنوعی اقدامات ہی دیکھنے میں آرہے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو حقیقی ریلیف ملتا نظر نہیں آرہا،جو تحریک کے لئے سازگار ثابت ہوسکتا ہے۔ادھر مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما مخدوم جاوید ہاشمی پوری شدت کے ساتھ حکومت کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور آئے دن ان کی دھواں دار پریس کانفرنسیں حکومت کی کارکردگی کا پول کھول دیتی ہیں ،اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر کڑی تنقید کی اور یہ پیش گوئی بھی کی کہ عن قریب ان کے خلاف بھی مقدمہ درج ہونے والا ہے ۔

جاوید ہاشمی کی حکومت پر تنقید اس حد تک شدت اختیار کرگئی ہے کہ انہوں نے اس خدشے کا اظہار بھی کردیا ہے کہ انہیں جسمانی طورپر نقصان پہنچایا جاسکتا ہے اور اس حوالے سے انہیں دھمکیاں بھی موصول ہورہی ہیں ،ملتان میں 30 نومبر کاجلسہ جاوید ہاشمی کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے ،کیونکہ ایک طویل عرصہ کے بعد انہیں اپنے ہی شہر میں ایک بڑے سیاسی جلسے سے خطاب کرنے کا موقع ملے گا اوریہ امکان بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس جلسہ سے پہلے جاوید ہاشمی کو گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔

تجزیے اور تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید