آپ آف لائن ہیں
جمعہ11؍ربیع الثانی 1442ھ 27؍نومبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

1947۔ میں ایک آزاد وطن کے لیے لاکھوں جانیں نثار کرنے والوں کی روحیں تڑپ رہی ہیں۔

1947سے اب تک جنگوں، جھڑپوں میں بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کے ایک ایک انچ کا دفاع کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ حاصل کرنے والوں کی اولادیں مضطرب ہیں۔

1954سے جمہوریت کے قیام۔ شخصی حکومتوں کے خاتمے ۔ فوجی حکمرانوں کو بیرکوںمیں واپس بھیجنے کی جدو جہد میں چمکتی جوانیاں جیلوں میں گزار دینے والوں۔ پھانسی کے تختوں پر جھول جانے والوں کی روحیں سوال کررہی ہیں۔تاریخ کو پسینہ آرہا ہے۔ 

جغرافیہ تلملارہا ہے کہ ملک میں کیسی لہریں چل رہی ہیں۔اتنا ذہنی انتشار کیوں ہے۔ بڑے لوگ چھوٹی باتیں کیوںکررہے ہیں۔ ملک لوٹنے والے پھر مسیحا بن کر کیوں آرہے ہیں۔

پاکستانی فوج کس کی فوج ہے۔ جنرل قمر باجوہ کس کی فوج کے سربراہ ہیں۔ ان پر ذاتی حملوں سے کیا ملک میں جمہوریت بحال ہورہی ہے۔ گزشتہ بیس تیس سال میں یہ ساری جماعتیں مل جل کر وہ مثالی نظام کیوں نہیں لاسکیں جس کے لیے اب شہر شہر جلسے کیے جارہے ہیں۔ 

اور اگر ان کے بقول فوج نے آئین کو نافذ نہیں کرنے دیا تو اب ایسی کونسی ہوا چلنے لگی ہے کہ اب فوج یہ کرنے دے گی۔ان بیانیوں سے پاکستان کے عوام کو تو کوئی راحت میسر نہیں آرہی ہے۔ البتہ پڑوس میں ہمارے ازلی دشمن کو اچھلنے، تالیاں بجانے اور رقص کرنے کا موقع مل رہا ہے۔

اس وقت ایک ہی شخص اس حیثیت میں ہے جو دشمنوں کو فائدہ پہنچانے والے بیانیے روک سکتا ہے۔جس کے پاس آئینی اختیارات بھی ہیں۔سیاسی طاقت بھی۔ تاریخ عمران خان کو سنہری موقع دے رہی ہے۔کاش وہ اپنی خودی۔ 

اپنی ذمہ داری اور اپنی اخلاقی حیثیت کو جان سکیں۔ وہ اپوزیشن کی دھمکیوں کا نشانہ بھی ہیں۔ عوام میں مایوسی کا مرکز بھی۔ لیکن اس بحران سے نکلنے کی چابی بھی صرف ان کے پاس ہی ہے ۔ وقت کی خواہش یہ ہے کہ وہ 22کروڑ کے وسائل سے مالا مال۔ 

حساس محل وقوع اور 60فی صد نوجوان آبادی والے ملک کے حقیقی وزیر اعظم بن کر دکھائیں۔ اپوزیشن کی زبانی یلغار کا زبانی جواب دینا ان کی ذمہ داری نہیں ہے۔ وہ با وقار اور مدبرانہ طریقے سے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔ 

اپوزیشن اور ان کے اندرونی وبیرونی سرپرستوں کی چال تو یہی ہے کہ وزیر اعظم اور ان کی حکومت جوابی بیانات میں الجھے رہیں۔کوئی ایسا کام نہ کرسکیں جس سے عوام کو راحت ملے۔ ترجمانوں کی فوج۔ وزراء کے بیانات اس سازش کو اور بڑھاوا دیتے ہیں۔ 

صرف وزیر اطلاعات کی ذمہ داری ہو کہ وہ دن میں ایک بار ان ساری ہرزہ سرائیوں پر ایک جامع بیان جاری کردیں۔جیسے ججوں کے فیصلے بولتے ہیں ایسے آپ کے کام بولنے چاہئیں۔

سول امور میں فوجی مداخلت چار بار مارشل لا۔ فوجی حکمرانی کے دَور میں ہونے والی نا انصافیاں خاص طور پر بلوچستان اور سندھ میں برپا ہونے والی قیامتیں، مشرقی پاکستان کی علیحدگی سب درد مند پاکستانیوں کے لیے ناپسندیدہ اور باعث اذیت ہیں۔ 

سب نے اپنے اپنے انداز میں ان مظالم اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف مسلسل جدو جہد بھی کی ہے۔ چاروں صوبوں میں سیاسی کارکنوں کے ایسے بے شُمار خاندان ہیں جو معاشی طور پر برباد ہوگئے۔ جن کے جوان لاپتہ ہوگئے۔ ان کارکنوں کی قربانیاں اور جدو جہد اگر رنگ نہیں لائی تو اس کے ذمہ دار وہ کرپٹ سیاستدان بھی ہیں جو غیر سیاسی قوتوں کے آلۂ کار بنتے رہے۔ 

اب 3بار فوج کی مدد سے وزیر اعظم بننے والے میاں صاحب نے بیرون ملک بیٹھ کر جولب و لہجہ اختیار کیا ہے وہ تدبر اور بصیرت سے عاری ہے۔وہ یہاں سے کس طرح نکلے۔2000میں سعودی عرب کیسے گئے۔اس تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ 

وہ اپنی پرانی روش سے تائب ہوکر ملک میں واقعی حقیقی جمہوریت، آئین کی حکمرانی، میرٹ کی بالادستی، انسانی حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں تو آئندہ دس پندرہ برس کے لیے جامع حکمت عملی اور اصلاحات کے پروگرام سامنے لائیں۔ جس میں فوج کو بتدریج اپنے پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے لیے چھائونیوں میں بھیجنا حتمی ہدف ہو۔ 

اب تک کا بیانیہ تو فوج کو مشتعل کررہا ہے اور یہ دعوت دے رہا ہے کہ وہ جمہوریت کی بساط لپیٹ دے۔ میری دُعا تو یہی ہے کہ اس بیان بازی سے میاں نواز شریف کی 22اگست نہ آجائے۔

حیرت ہوتی ہے کہ کروڑوں ووٹروں کے منتخب ارکان کی اسمبلی کا اسپیکر رہنے والا شخص پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر ایک سال کئی مہینے بعد انکشاف کررہا ہو کہ بھارت کے ڈر سے ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ اس بات کا کوئی محل تھا نہ وجہ۔ ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ انہیں اندازہ نہ ہو کہ اس سے دشمن کی صفوں میں خوشی دوڑے گی۔ وہ اپنی شکست کو فتح میں بدل لے گا۔یہ فوج چاہے حدود سے تجاوز کررہی ہو۔ 

بہت سے ناپسندیدہ اقدامات کی مرتکب ہو۔ بہرحال ہماری فوج ہے۔ غیر ملکی فوج نہیں ہے اور نہ یہ مخالف سیاسی پارٹی ہے۔ آپ اس ادارے کو قابل اصلاح سمجھتے ہیں تو اسکے لیے پارلیمنٹ موجود ہے۔ عدالت عظمیٰ فعال ہے۔ اسے یوں دشمن کی طرح نہ للکاریں۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ ایاز صادق تو اپنے بیان کی وضاحت پیش کررہے ہیں۔ لیکن ن لیگ اور پی پی کے کئی رہنما اس ہرزہ سرائی کو جائز قرر دے رہے ہیں۔ 

اس سے صرف فوج کی نہیں پوری ریاست پاکستان کی رسوائی ہورہی ہے۔ برقی میڈیا بار بار کلپ دکھا کر اس رسوائی کو دو چند کررہا ہے۔ ن لیگ، چینل، سب ریٹنگ کی دوڑ میں ہیں۔ تالیاںبجوانا چاہتے ہیں۔خواہ وہ سر زمین جس میں وہ رہتے ہیں۔ وہ بے اماں ہوتی جائے۔ متانت۔ سنجیدگی۔ ذمہ داری۔ جمہوریت کی طرح ہی لاپتہ ہورہے ہیں۔

پاکستان ایک عظیم ریاست ہے۔ بلوچستان۔ کے پی ۔ سندھ۔ پنجاب سب ہزاروں سال کے ماضی کی شاندار روایات اور ثقافتیں رکھتے اور ان پر فخر بھی کرتے ہیں۔ ایسے قابل رشک ملک کے وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ وہ اس بیان بازی میں الجھے بغیر اپنے ایجنڈے کو تکمیل تک پہنچائیں۔ اپنے آپ کو وزیر اعظم سمجھیں۔ جس کے پاس بے حساب اختیارات ہوتے ہیں۔ 

اور تاریخ میں اپنا مقام بنانے کے امکانات۔ عوام کو آٹا، چینی، چاول، گھی ان کی قوت خرید کے مطابق دستیابی کا اہتمام کردیں، تو دیکھیں ان بیانیوں کی ہوا کیسے نکلتی ہے۔

تازہ ترین