• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ادھانو نے کورونا وائرس سے متاثرہ شخص سے ملاقات کے بعد خود کو قرنطینہ کر لیا۔

ٹیڈروس ادھانو نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں بتایا کہ اُن سے ملنے والے ایک شخص کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آنے کی وجہ سے وہ خود کو قرنطینہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اُن میں کورونا کی علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کی گائیڈ لائنز کے مطابق قرنطینہ میں رہوں گا اور گھر سے کام کروں گا۔‘

آج 2 نومبر کو جاری اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں انہوں نے کہا کہ ’میرا رابطہ ایک ایسے شخص سے ہوا تھا جس کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، میں ٹھیک ہوں اور مجھ میں کوئی علامات نہیں ہیں مگر میں عالمی ادارہ صحت کے پروٹوکولز کے تحت آنے والے دنوں کے لیے خود کو قرنطینہ کر رہا ہوں، اور گھر سے کام کروں گا۔‘

ٹیڈروس نے اپنے بیان میں اس بات ہر زور دیا کہ ’یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ہم سب صحت کی گائڈ لائنز پر عمل کریں۔ ہم نے اگر وائرس کو ختم کرنا ہے، اس کے پھیلنے کی لڑی کو توڑنا ہے تو پھر یہی اس کا واحد طریقہ ہے۔‘

خیال رہے کہ جب سے عالمی وبا کورونا وائرس شروع ہوئی ہے اس وقت سے ٹیڈروس اس کے خلاف عالمی ادارۂ صحت کی کوششوں کی سربراہی کر رہے ہیں۔


اس سے قبل ڈاکٹر ٹیڈروس نے کہا تھا کہ ہمیں ویکسین کی ضرورت ہے اور قوی امید ہے کہ سال کے آخر تک کورونا ویکسین مل جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارہ صحت کی زیر نگرانی 9 کورونا ویکسینز پر کام جاری ہے۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ٹیڈروس کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا کہ جب عالمی ادارۂ صحت کے صدر مقام جنیوا میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے باعث تمام بار، ریستوران اور غیر ضروری دکانیں بند کر دی گئی ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید