• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 15 نومبر ، 2020

گلگت بلتستان: 9 نشستوں پر نتائج مکمل



گلگت بلتستان میں انتخابات کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے ،23 نشستوں پر انتخابات ہوئے، جن میں سے 9 کے مکمل نتائج آگئے۔ 3 نشستیں پیپلز پارٹی، 3 نشستیں آزاد امیدواروں، 2 تحریک انصاف اور ایک نشست مجلس وحدت المسلمین نے حاصل کرلی ہے۔


تحریک انصاف کے راجہ ذکریا نے پیپلز پارٹی کے سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ کو ہرا دیا، گانچھے سے پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل کامیاب ہوگئے، اسپیکر جی بی اسمبلی اور تحریک انصاف کے امیدوار فدا محمد ناشاد اور مسلم لیگ ن کے حافظ حفیظ الرحمان اپنی اپنی نشستوں پر حریف امیدواروں سے پیچھے ہیں۔

پی پی کے امجد حسین دو حلقوں سے کامیاب

پاکستان پیپلز پارٹی کے امجد حسین دو حلقوں سے کامیاب ہوگئے۔

امجدحسین جی بی اے 1 گلگت 1 اور جی بی اے 4  نگر 1 سےکامیاب ہوئے، گلگت بلتستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار کوئی امیدوار دو حلقوں سے کامیاب ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: چند سیاسی پارٹیوں کےسربراہان شکوک و شبہات پیدا کرناچاہتےہیں، چیف الیکشن کمشنر



پولنگ کے عمل میں عوام نے بھرپور شرکت کی جہاں 24 میں سے 23 نشستوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور آزاد امیدوار میدان میں اترے۔

پولنگ کا عمل صبح 8 سے شام 5 بجے تک بلاتعطل جاری رہا، تاہم اب پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔

جی بی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی اور پی پی پی کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دکھائی دیا۔

اسکردو میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی کے کارکنان میں تصادم

اسکردو میں یادگار شہداء کے قریب پاکستان پیپلز پارٹی (پی ٹی آئی) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی ٹی آئی) کے کارکنان میں تصادم ہوگیا۔

دونوں جماعتوں کے کارکنوں کی جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ بھی کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ سیاسی کارکنوں کے درمیان ہونے والے پتھراؤ کی زد میں آکر 2 پولیس اہل کار زخمی ہوگئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی ریلی پیپلز سکریٹریٹ کے سامنے سے گزر رہی تھی۔

واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر نے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج


 جی بی اے 1 گلگت-1

 جی بی اے 1 گلگت-1: غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا، جس کے پیپلز پارٹی کے امجد حسین کامیاب ہوگئے ہیں۔


جی بی اے 4 نگر-1

غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امجد حسین 6104 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، ان کے مدمقابل اسلامی تحریک پاکستان کے محمد ایوب وزیری اور تحریک انصاف کے ذوالفقارعلی تھے۔

جی بی اے 5 نگر-2

جی بی اے 5 نگر-2 میں تمام 26 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی وغیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق آزاد امیدوار جاوید علی 2443 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، آزاد امیدوار ذوالفقار علی مراد 2122 ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر جبکہ مجلس وحدت مسلمین کے رضوان علی 1766 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 6 ہنزہ

جی بی اے 6 ہنزہ میں 59 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کے عبید اللہ بیگ 4215 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار نور محمد 2774 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں، پیپلز پارٹی کے ظہور کریم 2579 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر ہیں۔

جی بی اے 7 اسکردو-1

جی بی اے 7 اسکردو-1 کا تمام 28 غیر حتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کے راجا زکریا خان 5290 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی کے سید مہدی شاہ 4114 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے جبکہ ن لیگ کے محمد اکبر 196 ووت لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔

جی بی اے 8 اسکردو-2

 جی بی اے 8 اسکردو-2 کے تمام 55 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق مجلس وحدت مسلمین کے محمد کاظم 7534 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے سید محمد علی شاہ 7186 ووٹ لیکر دوسرے اور آزاد امیدوار امتیاز حیدر 1329 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 9 اسکردو-3

جی بی اے 9 اسکردو 3 کے پولنگ اسٹیشن منٹھو کے غیر حتمی، غیر سرکاری نتیجے کے مطابق تحریک انصاف کے امیدوار فدا محمد ناشاد 137 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے وزیر وقار 29 ووٹ حاصل کرسکے ہیں۔


جی بی اے 10 اسکردو-4

جی بی اے 10 اسکردو-4 میں تمام 46 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق آزاد امیدوار ناصر علی خان 4667 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے، جبکہ تحریک انصاف کے وزیر حسن 3344 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر اور آزاد امیدوار نجف علی 2301 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ 


جی بی اے 11 کھرمنگ

جی بی اے 11 کھرمنگ سے تمام پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق تحریک انصاف کے سید امجد علی 5733 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جبکہ آزاد امیدوار اقبال حسن 2016 ووٹ لیکر دوسرے اور آزاد امیدوار اقبال حسن 1838 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ 


جی بی اے 12 شگر

جی بی اے 12 شگر کے 47 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق تحریک انصاف کے راجا اعظم خان 6513 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی کے عمران ندیم 5175 ووٹ لیکر دوسرے جبکہ مسلم لیگ ن کے طاہر شگری 2573 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 13 استور-1

جی بی اے 13 استور-1 میں 37 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کے محمد خالد خورشید 3846 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے عبدالحمید 3015 ووٹ لیکر دوسرے اور مسلم لیگ (ن) کے رانا فرمان علی 2666 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 14 استور-2

جی بی اے 14 استور-2 میں 45 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق تحریک انصاف کے شمس الحق لون 5364 ووٹ لیکر آگے ہیں، پیپلز پارٹی کے مظفر علی 3215 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر جبکہ ن لیگ کے رانا فاروق 3196 ووٹ لیکرتیسرے نمبر پر  ہیں۔


جی بی اے 16 دیامر-2

جی بی اے 16 دیامر-2 میں پولنگ اسٹیشن پی ڈبلیو ڈی کا غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ ن کے انجنئیر محمد انور نے 101ووٹ لیے، پی ٹی آئی کے امیدوار عتیق اللّٰہ نے 69 ووٹ لیے۔


جی بی اے 17 دیامر-3

جی بی اے 17 دیامر-3 میں 7 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق جے یو آئی (ف) کے رحمت خلیق 2063 ووٹ لیکر آگے ہیں جبکہ تحریک انصاف کے حیدر خان 821 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر اور پیپلز پارٹی کے غفار خان 101 ووٹ لیکر  تیسرے نمبر پر  ہیں۔


 جی بی اے 18دیامر-4

 جی بی اے 18 دیامر-4 میں 7 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی اور غیرسرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق تحریک انصاف کے گلبر خان 1288 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ آزاد امیدوار کفایت الرحمان 601 ووٹ  لے کر دوسرے اور پیپلز پارٹی کی سعدیہ دانش 9 ووٹ لے کر تیسرے  نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 19 غذر-1

جی بی اے 19 غذر-1 میں اب تک 50 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدوار نواز خان ناجی 6208 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی کے سید جلال شاہ 4967 ووٹ لیکر دوسرے اور آزاد امیدوار شکیل احمد 4339 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 20 غذر -2

جی بی اے 20 غذر -2 میں 15 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی و غیرسرکاری نتیجہ سامنے آگیا جس کے مطابق تحریک انصاف کے نذیر احمد 1651 ووٹ لیکر آگے جبکہ مسلم لیگ ق کے خان اکبر خان 898 ووٹ لیکر دوسرے اور پیپلز پارٹی کے علی مدد شیر 808 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 21 غذر-3

جی بی اے 21 غذر-3 میں اب تک 28 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے غلام محمد 2800 ووٹ لیکر آگے ہیں، پیپلز پارٹی کے محمد ایوب شاہ 2650 ووٹ لے کر دوسرے اور تحریک انصاف کے راجا جہانزیب 1750 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


 جی بی اے 22 گانچھے-1

جی بی اے 22 گانچھے-1 میں تمام 57 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق آزاد امیدور مشتاق حسین 6051 ووٹ لیکر کامیاب ہوگئے۔

تحریک انصاف کے ابراہیم ثنائی 4945 ووٹ لیکر دوسے نمبر پر رہے جبکہ پیپلز پارٹی کے محمد جعفر 2615 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر رہے۔


جی بی اے 23 گانچھے-2

جی بی اے 23 گانچھے-2 میں 46 پولنگ اسٹیشنز کا غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجہ آگیا جس کے مطابق آزاد امیدوار عبدالحمید 3666 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ تحریک انصاف کی آمنہ بی بی 3296 ووٹ لیکر دوسرے اور پیپلز پارٹی کے غلام علی حیدری 301 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پر ہیں۔


جی بی اے 24 گھانچے-3

جی بی اے 24 گھانچے-3 میں تمام 43 پولنگ اسٹیشنز کا غیرحتمی و غیر سرکاری نتیجہ سامنے آگیا ہے جس کے مطابق پیپلز پارٹی کے محمد اسماعیل 6204 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے، جبکہ پی ٹی آئی کے سید شمس الدین 5341 ووٹ لیکر دوسرے اور مسلم لیگ (ن) کے انجینئر منظور حسین تیسرے نمبر پر رہے۔


حقوق کا حصول ووٹوں سے ممکن، عوام

واضح رہے کہ گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے انتخابات میں عوام نے شدید سردی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

گلگت ڈیویژن کے ضلع نگر میں 98 سالہ بزرگ ووٹر شعبان علی نے شدید سرد موسم میں ووٹ ڈالا جبکہ ایک 80 سال سے زائد عمر کے ایک ٹانگ سے معذور بزرگ نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

یہاں کے عوام نے کا ماننا ہے کہ اپنے حقوق کا حصول ووٹوں سے ہی ممکن ہے۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد

گلگت بلتستان اسمبلی کے ووٹ ڈالنے حقدار رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار 361 ہے۔

مرد ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 5 ہزار 63 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 39 ہزار 998 ہے، جبکہ 1 لاکھ 26 ہزار 997 ووٹرز کو پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کرنا تھا۔

گلگت بلتستان کی 23 نشستوں پر ووٹنگ کے لیے 1 ہزار 260 پولنگ اسٹیشن بنائے گئے تھے۔

مردوں کے پولنگ اسٹیشن کی تعداد 503، خواتین کے پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 395 جبکہ مرد و خواتین ووٹرز کے مشترکہ پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 362 تھی۔

گلگت بلتستان کے انتخابات کے دوران حساس پولنگ اسٹیشنز کی تعداد 297 جبکہ 280 کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا۔

گلگت بلتستان اسمبلی کے الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے 13 ہزار 481 اہلکار تعینات ہیں، جن میں پولیس، رینجرز اور جی بی اسکاؤٹس شامل تھے۔

دیگر صوبوں سے 5 ہزار 700 اضافی پولیس نفری بھی الیکشن ڈیوٹی پر تعینات کی گئی ہے جبکہ سینٹرل پولیس آفس گلگت میں کنٹرول روم قائم کیا گیا۔

انتخابات کے دوران جی بی اے 13 ون پولنگ اسٹیشن نمبر 44 میں برف باری اور راستوں کی بندش کے باعث پولنگ تاخیر سے شروع ہوئی تھی۔

نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں، چیف الیکشن کمشنر

ادھر چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز خان نے اس حوالے سے کہا تھا کہ کہیں سے کسی بھی بدنظمی کی شکایت نہیں ملی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ بیلٹ بکسز کی آر او آفس تک ترسیل اور نتائج کے لیے بھی فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں۔

سیاسی جماعتیں جیت کیلئے پرعزم

خیال رہے کہ وفاق، پنجاب و کے پی میں حکمراں جماعت تحریک انصاف، سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی اور جی بی کی سابقہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) جی بی الیکشن 2020 میں کامیابی کے لیے پر امید دکھائی دیتی ہیں۔ 

پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے گلگت بلتستان انتخابات کے لیے مؤثر عوامی مہمات چلائیں، جبکہ تحریک انصاف سے وفاقی وزراء بھی الیکشن مہم کے دوران جی بی میں دکھائی دیے۔