• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمد اکرم خان

ایڈیٹر، جنگ فورم، کراچی

 ڈیموکریٹس نے 2016ء کے انتخابات کے بعد انتخابات سے بہت سیکھا۔ انہوں نے ٹرمپ کے مخالفین کو متحد کر دیا۔ جس میں سفید فام میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کی نسل پرستانہ سیاست نے ایک خوف پیدا کیا اور روشن خیال لوگ اس کے خلاف متحد ہو گئے۔ انہوں نے ووٹنگ پیٹرن کو بدل دیا اور وہ بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچے، پوسٹل بیلٹ کا استعمال کیا۔ ٹرمپ نے کورونا کو غیر سنجیدہ لیا اور اسے کالوں اور غریبوں کی بیماری قرار دیا،ٹرمپ نے امریکی نظام کو بری طرح برباد کردیا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی اس سے خوف زدہ تھی۔ 

امریکا... نیا چہرہ
سردار محمد اشرف خان
سیاسی او رمعاشی تجزیہ کار

یورپ میں بھی اس کی وجہ سے خوف پھیلا،جوبائیڈن کے دور کو ہم اوبامہ کے دور کا تسلسل اور اضافے کے طور پر دیکھیں گے کملا حارث اوبامہ کی شکل میں موجود ہے۔ ان کی ترجیحات جمہوریت، پریس کی آزادی، انسانی حقوق، عدلیہ کی آزادی رہے گی ،جمہوریت کے حوالے سے جوبائیڈن ورلڈ کانفرنس کرنے جا رہا ہے۔ 

اس میں جمہوریت کو لاحق خطرات کا سدباب، انسانی حقوق اور آزاد میڈیا پر بات ہو گی جو یقیناً دنیا بھر کے جمہوریت پسندوں کے لئے اچھی خبر ہے

سردار محمد اشرف خان

جوبائیڈن ٹرمپ کی نفرت کی سیاست کو ختم کریں گے وہ چین سے نفرت کی بجائے مقابلے کی سیاست کریں گے

امریکا... نیا چہرہ
ڈاکٹر ہما بقائی
ایسوسی ایٹ ڈین، فیکلٹی آف
بزنس ایڈمنسٹریشن، 
آئی بی اے ،کراچی

 اگر وہ پاکستان کو چین سے دور کرنا چاہیں گے تو کوئی آفر کریں گے۔ مقابلے کی فضا کے ذریعے پاکستان کو راغب کریں گے تاکہ تنازعات میں الجھائیں نہ الجھیں ۔پاکستان کو بھی امریکا سے تعلقات متوازن رکھنا چاہئے۔ 

تیسرے فریق کے طور پر افغانستان ،بھارت ،ایران چین کو رکھنا درست پالیسی نہیں۔

امریکا کے تعلقات ترکی سے بہتر نہیں ہوں گے شاید مزید بگاڑ پیدا ہو۔اسی طرح چین سے بھی یہ ہی رویہ رہے گا

ڈاکٹر ہما بقائی

امریکا کا دفاعی اسٹیبلشمنٹ بھی ٹرمپ سے نا خوش ہے جس کو ٹرمپ کی افغان پالیسی اور دیگر اہم دفاعی امور پر سخت تحفظات ہیں۔ اس کا ایک مظہر انتخابات کے فورا بعد ٹرمپ کا وزیر دفاع مارک ایسپر کو محض ایک ٹویٹ کے ذریعے بے عزتی کےساتھ بر طر ف کرنا ہے ۔ 

امریکا... نیا چہرہ
فیض رحمٰن، واشنگٹن
ماہر عالمی امور/ سابق سربراہ،
اردو سروس، وائس آف امریکا

داخلی سلامتی ادارے بھی ٹرمپ سے ناخوش ہیں ، خصوصاً ایف بی آئی جسے ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے ہر موقع پر مطعون کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی،جو بائیڈن نے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں ۔ 

اپنے صدارتی فرمان کے ذریعے وہ پہلا کام ماحولیات کے پیرس معاہدے میں دوبارہ امریکا کو شامل کریں گے ۔ بعض مسلم ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندی جسے عرف عام میں "مسلم بین" کہا جاتا ہے اسے ختم کریں گے،اگر بائیڈن ایران پر پابندیاں نرم کردیں تو پاکستان کی ایران سے تجارت بڑھ سکتی ہے ،بائیڈن کی حکومت میں ہمیں دنیا میں اور خطے میں بڑی بڑی تبدیلیاں نظر آئیں گی۔ پاکستان کو افغانستان میں ایک نئی امریکی پالیسی کے لیے تیار رہنا چاہیے

فیض رحمٰن

امریکی انتخابات کے نتائج حتمی مراحل میں ہیں۔ اب تک کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کے صدارتی امیدوار جوبائیڈن مطلوبہ اکثریت حاصل کر چکے ہیں اور صدارتی منصب سنبھالنے کے لیے تیاری پکڑ رہے ہیں۔ اس مرتبہ امریکی انتخابات کی حیرت انگیز بات ووٹروں کا ٹرن آئوٹ ہے۔ دونوں امیدواروں ٹرمپ اور بائیڈن نے ریکارڈ ووٹ حاصل کئے ہیں۔ دس کروڑ سے زائد تو پوسٹل ووٹ کئے گئے۔ جنگ فورم نے پولنگ ڈے سے قبل کی صورت حال پر ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی لیکن اب جب کہ صدارتی منصب پر بیٹھنے والے کا فیصلہ ہو چکا ہے تو قارئین کے ذہنوں میں نئے سوالات کا جنم لینا فطری امر ہے ۔ 

امریکا میں ڈیموکریٹس کی نئی حکومت سے وہاں کے عوام کو کیا توقعات ہیں؟ ٹرمپ کی شکست اور جوبائیڈن کی کامیابی کی وجوہ کیا ہیں؟۔ ڈیموکریٹس انتخابی منشور پر کتنا عمل کر سکے گی؟ خارجہ پالیسی کی سمت کیا ہو گی؟ امریکا کا نیا چہرہ نیا رنگ کیسا ہوگا؟ چین، روس مڈل ایسٹ اور سائوتھ ایشیا کی سیاست اور تعلقات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ دہشت گردی کے خاتمے اور عالمی امن میں امریکا کا کیا کردار ہو گا۔؟ 

ڈیموکریٹس کا ماضی کیا بتاتا ہے۔؟ جوبائیڈن اور ٹرمپ کی شخصیات میں کیا فرق ہے۔؟ یہ اور ان جیسے مزید سوالوں کے جوابات کے لیے جوبائیڈن کی کامیابی بدلے کا گیا؟ کے موضوع پر جنگ فورم کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں معروف سیاسی و معاشی تجزیہ کار سردار محمد اشرف خان، آئی بی اے کے کراچی کے فیکلٹی آف بزنس ایڈمنسٹریشن کی ایسوسی ایٹ ڈین ڈاکٹر ہما بقائی اور وائس آف امریکا کی اُردو سروس کے سابق سربراہ اور عالمی امور کے ماہر فیض الرحمٰن نے اظہارِ خیال کیا۔ فورم کی رپورٹ پیشِ خدمت ہے۔

امریکا... نیا چہرہ
بشکریہ: اردو سروس، وائس آف امریکا 

سردار محمد اشرف خان

سیاسی اور معاشی تجزیہ کار

یہ امریکی انتخابات کا سب سے بڑا اور متنازع الیکشن ہے، اس نے امریکی قوم کو نہ صرف تقسیم کر دیا بلکہ ایک دوسرے کو خوف میں مبتلا کر دیا۔ اس سے قبل امریکا میں بیرونی خوف پایا جاتا تھا۔ لیکن ٹرمپ ایک ایسا بدترین حکم ران آیا جس نے امریکا کے اندر خوف پیدا کردیا۔ ٹرمپ امیر ترین طبقے کی نمائندگی کرتا ہے اور نسل پرست ہے۔ انتہا پسند سفید فام کا نمائندہ بن گیا۔ ڈیموکریٹس نے 2016ء کے انتخابات کے بعد انتخابات سے بہت سیکھا۔ انہوں نے ٹرمپ کے مخالفین کو متحد کر دیا۔ جس میں سفید فام میں شامل ہیں۔ ٹرمپ کی نسل پرستانہ سیاست نے ایک خوف پیدا کیا اور روشن خیال لوگ اس کے خلاف متحد ہو گئے۔ انہوں نے ووٹنگ پیٹرن کو بدل دیا اور وہ بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشن پہنچے، پوسٹل بیلٹ کا استعمال کیا۔ 

ٹرمپ نے کورونا کو غیر سنجیدہ لیا اور اسے کالوں اور غریبوں کی بیماری قرار دیا۔ امیر لوگوں کو کچھ نہیں ہو گا۔ جس کے سبب دائیں بازو کے وہ لوگ جو انتہا پسند نہیں تھے اس سے دُور ہو گئے۔ یہ ہی وجہ بن کر ریکارڈ ووٹ کاسٹ ہوئے۔ دونوں امیدواروں نے سات کروڑ سے زائد ووٹ حاصل کئے۔ ری پبلکن اسٹیٹس کی آبادیوں میں بھی تبدیلی آئی جس کی وجہ سے بھی ڈیموکریٹس کے ووٹ بڑھ گئے۔ ٹرمپ نے امریکی نظام کو بری طرح برباد کردیا۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ بھی اس سے خوف زدہ تھی۔ یورپ میں بھی اس کی وجہ سے خوف پھیلا۔ ری پبلکن امریکا کی دائیں بازو کی پارٹی تھی ٹرمپ نے اس کو انتہا پسند دائیں بازو کی پارٹی میں بدل دیا۔ 

اپرکلاس، کارپوریٹ، وال اسٹریٹ جنرل سب نے ٹرمپ کی سپورٹ کی اب شکست کے بعد بھی ٹرمپ اڑا ہوا ہے کہ اسے شکست نہیں ہو سکتی ہے جب کہ اس کے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں ہے۔ جن اسٹیٹ میں ٹرمپ کو شکست ہوئی ہے وہاں ری پبلکن کے گورنر ہیں اور انتخابی اسٹیشن کی مشینری مقامی حکومت کے ماتحت ہے لیکن انتخابی نظام بہت شفاف ہے کسی ہیرا پھیری کی گنجائش نہیں ہوتی۔ ڈیموکریٹس نے خود کو بھی الگور اور ہیلری کے انتخابات کے مقابلے میں کافی بہتر اور منظم کیا ووٹرز سے رابطے رکھے اور انہیں قائل کیا۔

جوبائیڈن امریکا کا نہ صرف سب سے زیادہ بڑی عمر کا صدر ہے بلکہ سب سے زیادہ تجربہ کار بھی وہ آج سے پچاس سال پہلے بھی انتخاب لڑچکا ہے تب وہ جوان تھا۔ تاہم اس کے ساتھ کملا حارث نسبتاً جوان ہے۔ ڈیموکریٹس مکمل طور پر تو بائیں بازو کی پارٹی نہیں تاہم سینٹر آف دی لیفٹ پارٹی ضرور ہے۔ اس میں ہر طبقے کے لوگ شامل ہیں۔ 

وہ اصل میں امریکا کی نمائندہ جماعت ہے تاہم امیر طبقہ اس کے خلاف ہے اور وہ اس کے خلاف فنڈز بھی کرتے ہیں۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ پیس فل ٹرانسفر آف پاور ہے۔ جس پر ٹرمپ تیار نظر نہیں آتا۔ جوبائیڈن کو کوئی بریفنگ نہیں دی جا رہی اسے حکومتی ایوانوں تک رسائی نہیں دی جا رہی۔ اس کے برعکس ٹرمپ اہم تقرریاں اور تبادلے کر رہا ہے۔ خاص کر ڈیموکریٹس کے مخالف تقرریاں جاری ہیں۔ مسلمانوں سے نفرت کرنے والوں کو بھی وہ حکومت میں لا رہا ہے۔ اہم پوزیشن میں تعیناتی کی جا رہی ہیں۔

جوبائیڈن کے دور کو ہم اوبامہ کے دور کا تسلسل اور اضافے کے طور پر دیکھیں گے کملا حارث اوبامہ کی شکل میں موجود ہے۔ ان کی ترجیحات جمہوریت، پریس کی آزادی، انسانی حقوق، عدلیہ کی آزادی رہے گی۔ یورپ سے وہ تعلقات بہتر کریں گے۔ ایران سے بھی قربت بڑھ سکتی ہے۔ افغانستان شاید ایسے ہی رہے۔ بھارت سے ملٹری اتحاد ہے۔ چین کے مقابلے میں اس میں تقویت آئے گی۔ بھارت چوں کہ خود ایک انتہا پسند ریاست ہے اس لئے یہ دیکھنا ہو گا کہ بھارت امریکا تعلقات اس حوالے سے کیسے رہیں گے۔ بھارت چین کی وجہ سے امریکا کی مجبوری بن سکتا ہے۔ تاہم انسانی حقوق کے حوالے سے کشمیر پر بھارتی ناجائز قبضے کو وہ ختم کرنے کو کہہ سکتا ہے۔ پاکستان سے تعلقات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں دکھائی دیتی امریکا کیس ٹو کیس فیصلہ کرے گا۔

جمہوریت اور انسانی حقوق جوبائیڈن کی ترجیح رہیں گے۔ پہلے بھی پاکستان میں جمہوریت کے حوالے سے اس کا کردار رہا ہے۔ پاکستان میں سیاسی نظام اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار سے وہ بہت اچھی طرح واقف ہے۔ اس حوالے سے وہ پریس کی آزادی، جمہوریت، انسانی حقوق اور ازاد عدلیہ کو ضرور دیکھے گا اور پاکستان سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو کم کرنے پر بھی توجہ دے سکتا ہے۔ پاکستان ایران اور امریکا کے تعلقات میں ٹرمپ کی سخت پالیسی اب نہیں رہے گی۔ 

اس حوالے سے اوبامہ کی پالیسی واپس آسکتی ہے۔ یہ ایران کے لیے اچھی خبر ہو گی اور پاکستان کے لیے بھی۔ ٹرمپ کی پالیسی کے سبب ایران چین کے نزدیک چلا گیا ہے۔ جس کے سبب بھی امریکا اس پالیسی میں تبدیلی لا سکتا ہے۔ بائیڈن ٹرمپ کے مقابلے میں اسرائیل کے زیادہ نزدیک نہیں محسوس ہو گا۔ وہ اسرائیل کے لیے سخت مؤقف نہیں اپنائے گا۔ مڈل ایسٹ کی پالیسی میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے۔ 

البتہ روس سے سختی بڑھے گی۔ جمہوریت کے حوالے سے جوبائیڈن ورلڈ کانفرنس کرنے جا رہا ہے۔ اس میں جمہوریت کو لاحق خطرات کا سدباب، انسانی حقوق اور آزاد میڈیا پر بات ہو گی جو یقیناً دنیا بھر کے جمہوریت پسندوں کے لئے اچھی خبر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف سخت پالیسی جاری رہے گی۔ چین سے تنازع میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ کوئی بہت سخت اقدام نہیں ہو گا۔پاکستان میں جمہوری قوتیں ایک ہو رہی ہیں ان کو جوبائیڈن کے آنے سے تقویت ملے گی۔ پی ڈی ایم کی شکل میں عمران خان کی پالیسی کے سبب سب ایک ہیں۔ اس میں کمیونسٹ سے لے کر مذہبی انتہا پسند، علاقائی پارٹیاں اور دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں ایک موقف پر ہیں اس سے کوئی بہتر نتیجہ نکل سکتا ہے۔

فیض رحمٰن

ماہر عالمی امور/ سابق سربراہ، اردو سروس، وائس آف امریکا

فیض رحمٰن امریکا میں وقوع پذیر پچھلے پانچ سال کے حالات صرف امریکی عوام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے حیران کن ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ سینیٹر ایڈورڈ کینیڈی نے جارج بش کے دور میں ہونے والی ایک ملاقات میں مجھ سے کہا تھا کہ "یہ دور امریکی روایات سے ایک عارضی انحراف ہے" ۔ سینیٹر کینیڈی، جو کہ صدر جان کینیڈی کے بھائی تھے، عراق پر امریکی حملے سے سخت پریشان اور رنجیدہ تھے۔ سینیٹر کینیڈی نے ہی سب سے پہلے دو ہزار چار کے انتخابات میں امیدوار براک اوبامہ کی حمایت کی تھی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی کے لیے اوبامہ کا راستہ صاف کیا تھا۔ 

ذرا غور فرمائیں کہ اگر جارج بش کا دور صدارت اگر امریکی روایات اور طرز سیاست سے انحراف تھا تو صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم ، انکی بول چال، اور اپنے مخالفین پر رکیک اور نا موزوں حملے اور پھر عوامی ووٹ سے ہارنے کے باوجود ایلیکٹورل کالج سے بھاری اکثریت سے منتخب ہوجانا سیینیٹر کینیڈی اور ان جیسی سوچ کے حامل امریکییوں کے لیے کیا قیامت ہوتا۔ ایڈورڈ کینیڈی اگر اوبامہ کے انتخاب کے بعد ۲۰۰۹ میں اس دنیا سے سکون کے ساتھ سے نہ گزرتے تو ٹرمپ کو امریکا کا صدر دیکھ کر ضرور دل کا دورہ پڑنے سے مر جاتے۔ پہلی بار صدر بن جانا ہی نہ صرف پوری دنیا بلکہ ٹرمپ کے اپنے لیے بھی حیرانی کا باعث تھا۔ 

ان کا بات چیت کا انداز، معزور لوگوں کا مذاق اڑانا اور امریکی میڈیا کو کھلے عام جعلی میڈیا کہہ کر للکارنا امریکی سیاست اور طرز معاشرت کے لیے کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا ۔ لیکن اس سب کے باوجود حتی کہ اپنے ماضی کی کچھ غلیظ وڈیوز کے عام ہونے کے باوجود وہ صدر بن گئے۔ لیکن اس سے بڑا وقعہ یہ ہے کہ اس بار بھی وہ امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے ٹرم میں ہارنے والے صدر بننے جارہے ہیں ۔ اس لیے میں یہ کہتا ہوں کو اس بار بھی صدر ٹرمپ ہارے نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے دو ہزار سولہ کے مقابلے میں اب تک سےتقریبا اسی لاکھ ووٹ زیادہ لیے ہیں، یعنی تقریبا سات کروڑ بیس لاکھ۔ اپنی موثر حکمت عملی جوزف بائیڈن اپنی محنت اور بہتر شخصیت ہو نے کے باعث اپنے ووٹرز کو باہر نکالنے پر ٹرمپ سے زیادہ ووٹ لے پائے ہیں ۔ ورنہ ان کا حشر بھی ہلیری کلنٹن جیسا ہونا تھا ۔

اس بار ڈیموکریٹس کو اس لیے بھی کامیابی ملی کیونکہ انہوں نے ٹرمپ مخالف ووٹ جو کہ ضروری نہیں ہے کہ بائیڈن حمایتی ووٹ تھا، کو کامیابی سے بائیڈن کیمپ میں دھکیلا ۔ اور ابتک کی گنتی، جو کہ ابھی بھی جاری ہے، کے مطابق ٹرمپ سے کوئی پچاس لاکھ عوامی ووٹ زیادہ لیے ہیں ، اور ابتک یہ تقریبا سات کروڑ ستر لاکھ ہو چکے ہیں ۔ اور ایلکٹورل کالج ووٹ میں بائیڈن کو واضح اکثریت حاصل ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ (اور کئی نفسیاتی وجوہات کے علاوہ) ٹرمپ کو اپنی شکست برداشت نہیں ہورہی اور وہ اسے ماننے پر تیار نہیں۔ یہ سراسر امریکی روایات کے خلاف ہے ۔ یہ درست ہے کہ بائیڈن کی فتح کا اعلان صرف میڈیا نے کیا ہے اور اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں جب تکہ اس سال چودہ دسمبر کو الیکٹورل کالج کے ارکان اپنی اپنی ریاست میں جمع ہو کر اپنا ووٹ نہیں ڈالتے اور سرکاری نتیجہ کا اعلان نہیں ہو جاتا۔ 

لیکن ایک طویل امریکی روایت کے مطابق جب میڈیا کسی امیدوار کی کامیابی کا اعلان کردے تو اسے حتمی سمجھا جاتا ہے اور اس کی بنیاد پر ہار جانے والا امیدوار اپنی شکست تسلیم کرکے اقتدار کی منتقلی کا عمل شروع کردیتا ہے ۔ لیکن ٹرمپ فی الحال اپنی ضد پر قائم ہیں اور انہیں اپنی پارٹی کے کئی سرکردہ رہنماوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ ٹرمپ قانوناٴ ابھی غیر سرکاری نتائج کو تسلیم کرنے کے پابند نہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ مائک پامپیو نے بھی پریس کانفرنس میں کھڑے رہ کر اصرار کیا کہ ٹرمپ الیکشن جیت چکے ہیں ۔ سینیٹ کے چیرمین مچ میکانل نے بھی کہہ دیا کہ صدر ٹرمپ کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو تسلیم کیے بغیر عدالت سے رجوع کریں۔ 

بلآخر صدر ٹرمپ کو وائٹ ہاوؐس سے رخصت ہونا پڑے گا ۔ ان کے دھاندلی کے دعوے غلط ثابت ہونگے۔ تاہم ٹرمپ اور ان کے رفقا کا یہ طرزعمل امریکی جمہوریت کی چولیں ہلا دے گا۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ ٹرمپ کی شکست نہیں بلکہ بائیڈن کی جیت ہے ۔ اور یہ ایک سانحہ ہے کہ دنیا میں امریکا کی شان اور اس کی برتری کو گھٹادینے والا صدر جس نے اپنی خارجہ پالیسی کا محور "سب سے پہلے امریکہ" کو بنایا اور امریکا کو ایران معاہدے سے لے کر ماحولیات کے انتہائی اہم عالمی پلیٹ فارم پیرس معاہدے سے باہر نکال لایا، جس نے شمالی کوریا کے لیڈر کو گلے لگایا حالانکہ وہ امریکی عوام کے نزدیک قابل نفرت تھا ، اور جس نے اندورنی طور پر بھی امریکی قوم کو تقسیم کیا اور سفید فام نسل پرستی کو بڑھاوا دیا، جس نے کھل کر مسلمان امریکی شہریوں کو مطعون کیا اور ان کے مذہب کے بارے میں ہرزہ سرائی کی وہ ہی شخص آج پھر اپنی فتح کے دعوے کررہا ہے اور اس نے پہلے سے بھی زیادہ ووٹ لیے ہیں۔ ٹرمپ کی جن پالیسیوں اور بیانات نے اس بار انہیں زیادہ ووٹ دلائے وہ ہی پالیسیاں اور ان کے طرز سیاست نے انہیں شکست سے دوچار کرنے میں اہم کرداربھی ادا کیا ہے۔ 

پچھلے انتخابات میں جن ریاستوں نے ٹرمپ کی جیت میں فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا وہاں سے صدر ٹرمپ صرف تقریبا اٹھتر ہزار ووٹوں سے جیتے تھے لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ ان ریاستوں میں تقریبا دو کروڑ افراد نے مجموعی طور پر ووٹ ہی نہیں دیا تھا۔ ان میں بہت سے ووٹرز ایسے تھے جو کہ مطمئن تھے کہ ان کے ووٹ نہ دینے کے باوجود ہلیری کلنٹن منتخب ہوجائینگی، یا پھر وہ افراد جو کہ ہلیری کلنٹن سے ناراض تھے کیونکہ انہوں نے ان ریاستوں کا رخ کرنا مناسب نہیں سمجھا کیونکہ وہ سمجھتی تھیں کہ یہ ریاستیں مثلا مشی گن، پینسیلونیا، وسکانسین وغیرہ انکی جیب میں تھیں۔ 

ایک اور اہم عنصر ان انتخابات میں سابقہ سوشلسٹ صدارتی امیدوار سینیٹر برنی سینڈرز کا تھا ۔ دو ہزار سولہ میں ان کے چاہنے والوں نے انتخابات کا بایئکاٹ کیا تھا لیکن اس بار ٹرمپ کے دوسرے دور کے خوف سے برنی سینڈرز کے ووٹرز نے بھر پور حصہ لیا اور اپنا ووٹ بائیڈن کو ڈالا ۔ اس کے علاوہ ری پبلیکن پارٹی کے کچھ حلقوں کی مخالفت کے باعث کافی ری پبلیکن ووٹرز اس انتخابی عمل سے دور رہے۔ اس کے علاوہ بائیڈن اپنے تجربے کے لحاظ سے ایک بہتر امیدوار ثابت ہوئے ۔ 

انہوں نے امریکا کی تمام نسلی، لسانی، مذہبی اور ثقافتی اقلیتوں کو ساتھ ملایا۔ اگر ٹرمپ کے لیے سفید فام افراد کی ایک عظیم اکثریت اکھٹا ہوگئی تو دوسری طرف تقریبا تمام اقلیتوں کی اکثریت اور سفید فام ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے جو بائیڈن کا ساتھ دیا کیونکہ وہ امریکا کو اس سمت جاتا دیکھنا نہیں چاہتے جس طرف اسے ٹرمپ اور ری پبلیکن پارٹی نے دھکیل دیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کا دفاعی اسٹیبلشمنٹ بھی ٹرمپ سے نا خوش ہے جس کو ٹرمپ کی افغان پالیسی اور دیگر اہم دفاعی امور پر سخت تحفظات ہیں۔ 

اس کا ایک مظہر انتخابات کے فورا بعد ٹرمپ کا وزیر دفاع مارک ایسپر کو محض ایک ٹویٹ کے ذریعے بے عزتی کا ساتھ برخواست کرنا ہے ۔ داخلی سلامتی ادارے بھی ٹرمپ سے ناخوش ہیں ، خصوصاً ایف بی آئی جسے ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے ہر موقع پر مطعون کرنے میں کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ اب یہ خبر بھی ہے کہ وزیر دفاع مارک ایسپر کو فارغ کرنے کے بعد جاتے جاتے بھی ٹرمپ نے پینٹاگون میں اپنے وفادار اعلیٰ عہدوں پر بھرتی کرنا شروع کردیے ہیں۔ 

منتخب صدر جو بائیڈن نے اپنی ترجیحات واضح کردی ہیں ۔ اپنے صدارتی فرمان کے ذریعے وہ پہلا کام ماحولیات کے پیرس معاہدے میں دوبارہ امریکا کو شامل کریں گے ۔ بعض مسلم ممالک سے آنے والے مسافروں پر پابندی جسے عرف عام میں "مسلم بین" کہا جاتا ہے اسے ختم کریں گے۔ اس کا وعدہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں باقائدہ ایک وڈیو جاری کرکے کیا تھا۔ اس کے علاوہ عالمی ادراہ صحت میں دوبارہ شمولیت اختیار کریں گے اور غیر قانونی تارکین وطن کے وہ بچے جو امریکا میں پلے بڑھے ہیں اور تعلیم حاصل کی ہے انہیں ڈی پورٹیشن سے تحفظ دلائیں گے۔ امریکا ایک بار پھر عالمی اداروں میں ایک سنجیدہ کردار ادا کرے گا۔ ایران سے جوہری معاہدے کے بحال ہونے کو کافی امکان ہے۔ 

جس سے ہمارے خطے میں گونا گوں تبدیلیاں آسکتی ہیں ۔ اگر بائیڈن ایران پر پابندیاں نرم کردیں تو پاکستان کی ایران سے تجارت بڑھ سکتی ہے ۔ اور خطے میں ازسر نو صف بندیا ں ہو سکتی ہیں۔ سعودی عرب، خصوصاٗ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو بے پناہ مشکلات پیش آسکتی ہیں ۔ بائیڈن نے یہ بات باقائدہ ان کا نام لے کر کہی ہے کہ وہ سعود ی صحافی جمال خشوگجی میں ایم بی ایس کو ذمہ دار سمجھتے ہیں ۔ اسرئیلی وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے لیے بھی بائیڈن کا منتخب ہو نے کوئی اچھی خبر نہیں۔ نتن یاہو کا اوبامہ کے ساتھ سلوک اور ٹرمپ کے ساتھ انتہائی ذاتی تعلق ایک اچھی حکمت عملی نہیں تھی۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا امریکا دوبارہ اپنا سفارت خانہ یروشلم سے تل ابیب لے جائیگا یا نہیں ۔ 

نتن یاہو کے متعلق پالیسی ضرور بدلے گی لیکن بحیثیت مجموعی امریکا کی اسرائیلی پالیسی وہ رہے گی جو کہ کئی دہائیوں سے چلتی آرہی ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر غلط ہے کہ امریکا میں چہرے بدلتے ہیں پالیسی خصوصاٗ خارجہ پالیسی نہیں بدلتی۔ ایسا اس صورت میں ضرور ہو سکتا ہے جب ایک ہی پارٹی کا نیا صدر منتخب ہو۔ لیکن ری پبلیکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان تقریباٗ تمام معاملات پر بہت فرق پایا جاتا ہے ۔ دونوں کا نقطہ نظر انتہائی مختلف ہے۔ اس لیے بائیڈن کی حکومت میں ہمیں دنیا میں اور خطے میں بڑی بڑی تبدیلیاں نظر آئینگی۔ پاکستان کو افغانستان میں ایک نئی امریکی پالیسی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ صدر اشرف غنی کو سانس لینے کی جگہ ملے گی۔ طالبان اپنی من مانی شرائط پر بات آگے نہیں بڑھا سکیں گے۔ انہیں انسانی حقوق کی پورے خلوص کے ساتھ ضمانت دینا ہوگی اور تشدد کو بحیثیت ایک پالیسی رد کرنا ہوگا ۔ 

پاکستان سے مزید تعاون کی درخواست کی جائے گی اور بھارت کو بھی اس پورے معاملے پر اعتماد میں لیا جائیگا۔ پاکستان میں انسانی حقوق، گمشدگیوں، اظہار رائے کی آزادی، اور صحافت پر قدغنوں پر یقیناٗ آواز اٹھائی جائے گی ۔ بائیڈن انتظامیہ پاکستان سے جامع تعلقات کو ترجیح دے گی جس میں مفاد عامہ کے منصوبے پر بھی مدد دی جائے گی جیسا کہ اوبامہ دور میں یو ایس آئی ڈی کے مختلف منصوبوں کے تحت چھوٹی چھوٹی جگہوں پر امداد دی جاتی تھی اور جسے ٹرمپ نے بند کردیا تھا۔ یہ تعلقات ری پبلیکن انتظامیہ کی طرح محض اعلیٰ سطحی اور صرف سیکیوریٹی اداروں کے درمیان نہیں ہونگے ۔ ایک بات ذہن میں ضرور رکھی جائے کہ بائیڈن کے راستے میں بے پناہ مشکلات ہیں۔ انہیں سینیٹ میں ڈیموکرٹک ارکان کی اکثریت حاصل ہوگی یا نہیں اسکا فیصلہ پانچ جنوری کو ہوگا ۔ 

اگر سینیٹ میں بائیڈن اپنی پارٹی کی اکثریت نہیں لے پائے تو پھر انکی پارٹی کا لبرل اور پروگریسیو ایجنڈا دھرا کا دھرا رہ جائیگا ۔ انہیں اپنی کابینہ کے ارکان کی منظوری سینیٹ سے لینے میں بہت مشکل ہوگی اور خارجہ پالیسی کی عملدرامد میں بھی ری پبلیکن حاوی سینیٹ روڑے اٹکائے گی۔ ایک صدر کے تبدیل ہونے کے بعد ستر ہزار سے زائد عہدے خالی ہوتے ہیں اور نئے صدر کو اپنی مرضی اور پسند کے مطابق ان عہدوں کو بھرنے کا موقع ملتا ہے لیکن یہ عمل انتہائی سست رفتار واقع ہو ا ہے ۔ ٹرمپ اپنے دور میں کئی ہزار عہدے بھر نہیں پائے۔ ان مشکلات کی وجہ سے بائیڈن انتظامیہ بہت سے پالیسی معاملات میں جلد فیصلے اور عملدرامد نہیں کر پائے گی۔

ڈاکٹر ہما بقائی

ایسوسی ایٹ ڈین فیکلٹی آف ای بزنس ایڈمنسٹریشن آئی بی اے

میں اسے جو بائیڈن کا الیکشن نہیں کہوں گی،یہ دراصل ٹرمپ کے خلاف ریفرنڈم اور امریکی جمہوری رویوں پر ریفرنڈم تھا۔ امریکی تاریخ میں 2008کے بعد اتنا زیادہ وائر ٹرن آئوٹ رہا۔ جوبائیڈن نے اوبامہ سےکہیں زیادہ ووٹ لیا۔، اور خود ٹرمپ نے2016کے مقابلے میں خود زیادہ و ٹ لیا، جس کی بناء پر میں یہ کہوں گی کہ ٹرمپ چلا گیا لیکن ٹرمپ ازم نہیں گیا ہے۔

اس کی مقبولیت اپنے خاص حلقے میں برقرار ہے۔ بلکہ زیادہ لوگوں نے ووٹ کیا ہے۔اس ٹرمپ ازم کے اثرات امریکا کے اندر ہی رہیں گے، اور باہر بھی اور اس کو ختم کرنا نہایت مشکل امر ہے۔ اس لئے ابھی سےیہ کہا جا سکتا ہے کہ 2024کے انتخابات بہت دلچسپ اور کانٹے دار ہوں ۔ ٹرمپ خود کو امریکی سیاست میں زندہ رکھیں گے اور اس کےاثرات بھی نظر آئیں گے۔

ٹرمپ کی سیاست اور صدارت نے امریکا کا چہرہ مسخ کیا ہے۔ اس کے دور میں چین کو زیادہ پذیرائی ملی اس کی وجہ بھی ٹرمپ کی پالیسیاں تھیں۔امریکی اسٹیبلشمنٹ یقیناً چاہتی ہے کہ امریکی کا رنگ اور چہرہ بحال ہو اور اسے اندر اور باہر سے جو زخم ٹرمپ نے دیئے ہیں وہ مندمل ہوںاور امریکی لیڈر شپ پر سوالیہ نشاں سے وہ ختم ہو۔ امریکی مافیا کو ٹرمپ نے شدید نقصان پہنچایا ہےچاہے وہ سعودی عرب ہو جو فنڈنگ کرتے تھے چاہئے ملٹری کمپلکس ہوں۔ 

چار سال میں کوئی جنگ نہیں ہوئی لاییز ناراض بیٹھی ہیں اور چاہتی ہیں کہ جوبائیڈن آئے اور ماضی کی صورتحال واپس آئے۔ لگتا ہے کہ مڈل ایسٹ میں تنازع بڑھیں گے۔ جنگ مزید ہو گی، جمہوریت کے بارے میں انسانی حقوق کے بارے میں بات ہوگی۔ ایران سے تعلقات استوار ہوں گے۔ لیکن امریکی ٹرمپ اسٹیٹ کا ایجنڈا آگے بڑھایا جائے گا۔ اس لئے جوبائیڈن اور کملا حارث کو پذیرائی مل رہی ہے۔ ان کے پیچھے یہودی لابی سے بہت باتیں کرتے ہیں کہ اگر مڈل ایسٹ میں امن ہو گیا تو اسلحہ کون خریدے گا،جوبائیڈن کے واپس برطانیہ سے تعلقات بہتر ہوں گے۔

جوبائیڈن جیت ضرور گئے ہیں لیکن ہائوس ان کے لئے آسان نہیں ہو گا ابھی بھی ہائوس ری پبلکنز کا ہے۔ سینٹ اورعدلیہ میں بھی ری پبلکنز ہیں۔ تاہم ری پبلکنز امریکی اقدار کی بحالی بھی چاہتے ہیں۔ وہ ٹرمپ کی نفرت اور تعصب کی سیاست سے پریشان بھی ہیں لیکن اپنے ووٹ بینک کو برقرار رکھنا چاہیں گے،چنانچہ جوبائیڈن کو سخت مزاحمت کا سامنا کرنا ہو گا۔جوبائیڈن ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاست دان ہیںوہ روایتی سیاست بھی کریں گے۔ان کے ساتھ کملا حارث بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہی ہیںوہ خودکو انڈین نہیں بلیک امریکی کے طور پر متعارف کرا رہی ہیں اور پھر یہ شناخت برقرار رکھنا چاہیں گی، یہودی لابی ان کی پشت پر ہے۔کئی جگہوں پر انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل ہمارے لئے بہت اہم ملک ہے اور اس کی سکیورٹی ہمارے لئے اہم ترین مسئلہ ہے۔

پاکستان کے لئے لگتا ہے کہ کچھ بہتری ہو گی۔ پاکستان امریکا تعلقات اسٹرکچرل ہیں۔ ٹرمپ کے دور میں عمران کے ذاتی تعلقات خواہ بہتر ہوں لیکن پاکستان کی امداد کم ہوئی کاروبار کم ہوا اور مجموعی طور پر پاکستان پر امریکی دبائو بڑھا۔بائیڈن کے دور میں اسٹرکچرل پریشر ہو گا۔ جس کو یہ برداشت کرنا آسان ہوتا ہے۔ڈیموکریٹس کے دور میں اسٹرٹیجک ڈائیلاگ ہوتے ہیں۔جس سے مراد یہ ہے کہ صرف افغانستان ،ایران ،چین کے حوالے سے تعلقات استوار نہیں ہونگے بلکہ صحت ،تعلیم ،ٹیکنالوجی ٹرانسفر کے لئے بھی کام ہونا چاہئے جو ٹرمپ کے دور میں نہیں تھی۔

جوبائیڈن ٹرمپ کی نفرت کی سیاست کو ختم کریں گے وہ چین سے نفرت کی بجائے مقابلے کی سیاست کریں گے اگر وہ پاکستان کو چین سے دور کرنا چاہیں گے تو کوئی آفر کریں گے۔ مقابلے کی فضا کے ذریعے پاکستان کو راغب کریں گے تاکہ تنازعات میں الجھائیںنہ الجھیں ۔پاکستان کو بھی امریکا سے تعلقات متوازن رکھنا چاہئے۔ تیسرے فریق کے طور پر افغانستان ،بھارت ،ایران چین کو رکھنا درست پالیسی نہیں۔امریکا کے تعلقات ترکی سے بہتر نہیں ہوں گے شاید مزید بگاڑ پیدا ہو۔

اسی طرح چین سے بھی یہ ہی رویہ رہے گا۔ لیکن مقابلے کی فضا کے ذریعے عالمی لیڈر شپ کے رول سے ٹرمپ نے خود کو نکال لیا تھا۔ بائیڈن وہاں واپس دکھائی دیں گے تاکہ وہ عالمی فورمز پر چین پر دبائو بڑھائیں۔ اور یہ سگنل دیں گے عالمی لیڈر شپ میں امریکا واپس آیا ہے ۔افغانستان سے فورسز کی واپسی ہو گی لیکن امریکا موجود رہے گا۔

انٹیلی جینس اور پولیس فورس کی شکل میں اور اس مشکل میں اس کی موجودگی پاکستان، افغانستان اور طالبان کو ضرورت بھی ہے افغانستان امریکا کے پاس ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے وہ بھارت ،ایران، چین اور پاکستان کو واچ کرنا ہے پھر وہ وہاں سے کلی طور پر کیوں جائے گا ؟جوبائیڈن کے نزدیک پاکستان ،افغانستان سے زیادہ اہم ہے اس کا وہ اظہار بھی کر چکے ہیں۔ یہ پاکستان پر ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ آزاد اور متوازن پالیسی اپنائے۔ 

پاکستان میں جمہوریت، انسانی حقوق کے لئے جوبائیڈن کی اپ سروس ضرور رہے گی لیکن افغانستان کے سبب وہ ملٹری لیڈر شپ کے بھی ساتھ رہیں گے ۔انہیں ہماری عسکری فوج کا پتہ ہے انہیں ہماری خارجہ پالیسی کی خبر ہے وہ عسکری کردار کو بھی بخوبی جانتے ہیں۔ اس کو ہی مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کے سیاسی نظام کو ساتھ لے کر چلیں گے۔کشمیر کے مسئلے پر بھی کوئی نتیجہ خیز پالیسی سامنے نہیں آئے گی۔