آپ آف لائن ہیں
جمعرات17؍ربیع الثانی 1442ھ3؍دسمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

وبائی امراض کے دوران ایک چوتھائی نوجوانوں نے خود کو ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار کیا، سروے

راچڈیل(نمائندہ جنگ)یونیورسٹی کالج لندن کے زیر اہتمام ہونیوالے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ایک چوتھائی نوجوانو ں نے وبائی امراض کے دوران خود کو ہر طرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیار کیا اور خود کو نقصان سے بچایا جبکہ پندرہ میں سے ایک نوجوان نے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کا راستہ چنا، نوجوانوں کی ذہنی صحت کے بارے میں ہونیوالی اس تحقیق میں مختلف پہلوئوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔محققین نے تحقیق کے دوران 10ہزار سے زائد 17سال کی عمر کے بچوں کو شامل کیا جن سے ذہنی تندرستگی کے بارے میں سوال وجواب کیے گئے مجموعی طور پر چھ میں سے ایک نوجوان نے شدید مشکلات اور اعلی سطح کی نفسیاتی پریشانی کا سامنا کیاگزشتہ سال ہونیوالی اس تحقیق میں وبائی امراض کے دوران تجربات پر مشتمل رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال 28 فیصد لڑکیاں اور 20 فیصد لڑکوں نے خود کو نقصان پہنچایاجن میں زیادہ تر کی عمریں چودہ سال کے قریب تھیں تحقیق میں پایا گیا کہ لڑکوں کے مقابلے میں چار فیصد زیادہ خود کشی کی کوشش کی ،ہم جنس پرست نوجوانوں اور غیر ہم جنس پرستوں میں یہ شرح مختلف پائی گئی مطالعے کے شریک مصنف پروفیسر ایملا فٹزیمنس نے کہایہ برطانیہ بھر میں 17 سال کی عمر کے بچوں میں خود کشی کی کوشش کے پھیلائو پر پہلا ثبوت سامناآیا ہے تحقیق سے ثابت

ہوتا ہے کہ ہر پندرہ میں سے ایک نے خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی کورونا وائرس لاک ڈائون کے دوران نوجوان میں ذہنی مسائل اور دماغی امراض میں اضافہ ہوا ہے اور وہ شدید اضطراب کا شکار بھی رہے ہیںتحقیق کے ایک مصنف ڈاکٹر پرویتھا پٹالے کا کہنا ہے کہ تحقیق کے مطابق ذہنی دبائو کے شکار ایسے نوجوانوں کی نشاندہی ہونے کے بعد ترجیحی بنیادوں پر انکے لیے اقدامات ناگزیر ہیں زندگی کی بہت سی اہم تبدیلیاں 17سال کی عمر کے قریب ہی رونما ہوتی ہیں جن میں تعلیم کا خاتمہ ‘ گھر سے دوری وغیرہ بھی شامل ہیںاس نازک عمر میں بچوں اور نوعمر ذہنی صحت کی خدمات (سی اے ایم ایچ ایس) کی مدد کے خاتمے کے بعد ، بہت سے نوجوان اور بالغ دماغی صحت کی خدمات کے مابین پائی جانے والی خلیجوں سے دوچار ہوجاتے ہیں رائل کالج آف سائکائٹریسٹس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر برناڈکا ڈوبیکا نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں خود کو نقصان پہنچانے کی بلند سطح دیکھ کر بہت تکلیف ہو رہی ہے اعداد و شمار یہ سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ماہرین روزانہ کی بنیاد پر اس معاملے پر کیا اقدامات کر رہے ہیں نوجوان اپنے درد کا اظہار کرنے کیلئے تیزی سے خود کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اکثر سنگین مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں کیونکہ انہیں وقت پر مدد نہیں ملتی ہے این ایچ ایس انگلینڈ لانگ ٹرم پلان میں زیادہ سے زیادہ بچوں اور نوجوانوں کو دماغی صحت سے متعلق مشکلات میں مدد فراہم کرنے کے وعدے بھی شامل ہیںجن پر عمل کرنیکی ضرورت ہے۔ 

یورپ سے سے مزید