آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

موت کے فرشتے نے حالیہ دنوں میں سیاست دانوں کے گھر دستک دی ہے، چند دنوں میں کچھ ایسے لوگ ہم سے بچھڑ گئے جو ماحول کو سوگوار کر گئے۔ پہلے علامہ خادم حسین رضوی چلے گئے پھر میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ اِس فانی دنیا کو چھوڑ گئیں۔ جانا ہر ایک کو ہے، ہمارے پیارے انور عزیز چوہدری اپنی تمام محبتوں سمیت قبر میں اُتر گئے۔

دھیمے مزاج کا سیاست دان چوہدری احمد مختار بھی رخصت ہو گیا پھر ایک اور خبر آئی کہ جادم منگریو بھی چلے گئے۔ جو لوگ موت کی نائو پر بیٹھ کر ہم سے کہیں دور چلے گئے اُن کی یادیں دریا کی لہروں جیسی ہیں۔

بس اب اُن کے لئے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ کوشش کروں گا کہ دو دو چار چار جملوں میں بچھڑ جانے والوں پر بات کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ اُن سب کو جنت عطا فرمائے۔

محترمہ شمیم اختر سے کئی سیاست دان وابستہ ہیں، وہ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ تھیں، جس طرح وہ حسن، حسین، مریم نواز اور اسماء نواز کی دادی تھیں اِسی طرح وہ حمزہ شہباز، سلمان شہباز اور اُن کی بہنوں کی دادی تھیں۔ شریف خاندان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

محترمہ شمیم اختر کے بیٹوں نے سیاست میں قدم رکھا اور پھر کامیابیاں حاصل کیں، اِن کامیابیوں میں یقیناً مرحومہ کی دعائوں کا اثر تھا، ورنہ پاکستان میں کون تین مرتبہ وزیراعظم اور دو مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب بنا۔ اُن کے چھوٹے صاحبزادے شہباز شریف بھی تین مرتبہ وزیراعلیٰ پنجاب رہے۔

محترمہ شمیم اختر کی پوتی مریم نواز سیاست میں بہت متحرک ہیں، اِسی طرح اُن کے پوتے حمزہ شہباز بھی اپنی سیاسی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اگرچہ حسین نواز، حمزہ شہباز اور ہم ایک ہی زمانے میں گورنمنٹ کالج لاہور (جی سی یو) میں پڑھتے رہے ہیں، حسین نواز تو ہمارے ساتھ تھا البتہ حمزہ شہباز جونیئر تھا مگر میری زیادہ قربت اِس خاندان سے اُس وقت ہوئی جب مشرف اقتدار پر براجمان تھا اور بیگم کلثوم نواز جدوجہد میں مصروف تھیں۔ بیگم کلثوم نواز سے کئی ملاقاتیں رہیں، انتہائی پڑھی لکھی اور صابر خاتون تھیں۔ بعض اوقات اُن کی صاحبزادیاں مریم اور اسماء بھی ساتھ آتیں، گویا ہم برے وقتوں کے ساتھی تھے۔

کوششیں رنگ لائیں تو یہ خاندان جلاوطن ہو گیا پھر اُن کی آمد ہوئی تو وقت کی رفتار نے مراسم کو معدوم کر دیا۔ مراسم کو نبھانا بھی ایک ہنر ہے۔

مثلاً دو روز پہلے جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی جب تعزیت کرنے کے لئے رائیونڈ گئیں تو اُنہیں ایک تحریر کے ذریعے ہی تعزیت کرنا پڑی۔

سمیحہ راحیل قاضی تو مشرقی روایات کے مطابق تعزیت کرنے گئی تھیں مگر دربانوں نے رستہ روک لیا یوں مریم نواز کی قریبی دوست اُن تک نہ پہنچ سکی۔ مریم نواز کو چاہئے کہ وہ اپنے اسٹاف اور دربانوں کو سمجھائیں تاکہ اخلاقیات کا بھرم قائم رہے۔

چوہدری احمد مختار نے اُس وقت چوہدری شجاعت حسین کا مقابلہ کیا جب کوئی مقابلے کیلئے تیار نہ تھا۔

وہ کئی مرتبہ وفاقی وزیر رہے، کامیاب صنعت کار تو وہ تھے ہی سیاست میں بھی اُنہوں نے کامیابیاں سمیٹیں۔

جب اُنہیں پیپلز پارٹی کا مرکزی سیکرٹری جنرل بنایا گیا تو جیالوں کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا مگر اِس شور شرابے میں بھی چوہدری احمد مختار ثابت قدم رہا، اپنی سوجھ بوجھ اور معاملہ فہمی سے تنقید کو مٹی میں دفن کر دیا۔

وہ اکثر مجھے فون کر دیتے تھے کبھی تو مجھے ہی فون کیا ہوتا تھا اور کبھی غلطی سے مل جاتا تھا پھر ایک دن احمد مختار کہنے لگے ’’او یار میرے ایک قریبی رشتے دار کا نام بھی مظہر ہے، اُسے فون ملاتا ہوں تو اکثر تمہارا فون مل جاتا ہے‘‘۔

جادم منگریو کی وفات کورونا کے باعث ہوئی ہے۔ فنکشنل لیگ سے تعلق رکھنے والے جادم منگریو وفاقی کابینہ کا حصہ رہے، جب بھی ملے تپاک سے ملے۔ جادم منگریو عام لوگوں میں بہت مقبول تھے۔

اب آتے ہیں ہمارے پیارے انور عزیز چوہدری کی طرف اگرچہ ہمارے کچھ دوستوں نے انور عزیز چوہدری پر خوبصورت لکھے ہیں مگر کچھ باتیں ادھوری ہیں۔ انور عزیز چوہدری کے خاندان نے دنیاوی دولت سے زیادہ تعلیم پر توجہ دی، اِس خاندان کے افراد اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں۔

انور عزیز چوہدری کے والد ڈاکٹر عبدالعزیز کا گائوں میری پور تھا، ڈاکٹر صاحب اسکول کی تعلیم کے لئے روزانہ سولہ کلو میٹر پیدل چلتے، وہ میری پور سے کنجروڑ نامی قصبے میں پڑھنے جاتے (واضح رہے کہ لغات وارث مرتب کرنے والے وارث سرہندی اور ٹی وی کی ممتاز اداکارہ روبینہ اشرف کا تعلق اسی قصبے سے ہے) خیر ڈاکٹر عبدالعزیز اپنی بھرپور محنت کے باعث ڈاکٹر بن کر سرگودھا چلے گئے۔

سرگودھا میں انہوں نے مسیحائی کا جادو جگایا پورا خاندان سرگودھا شفٹ ہو گیا۔ یوں خاندان کے بچوں کی ابتدائی تعلیم سرگودھا میں ہونے لگی۔

انور عزیز چوہدری راوین تھے۔ وہ 1948میں گورنمنٹ کالج لاہور کی تیراکی ٹیم کے کپتان تھے، بعد میں وہ امریکہ پڑھنے چلے گئے جہاں ان کی ملاقات کیتھی (کھترائن) سے ہوئی۔

کتھرائن بھی تیراک تھی امریکہ میں مردوں اور عورتوں کی تیراکی کے مقابلے میں انور عزیز اور کتھرائن فائنل تک پہنچ گئے۔ پھر دونوں کے درمیان طے پایا کہ اگر انور عزیز جیت گئے تو کتھرائن کو پاکستان جانا پڑے گا اور اگر وہ ہار گئے تو پھر انہیں امریکہ ہی میں رہنا ہوگا۔

انور عزیز چوہدری جیت گئے یوں کتھرائن کو پاکستان آنا پڑا۔ اس عورت نے اسلام قبول کیا، قرآن پاک پڑھا وہ دیہات میں رہنےلگی پھر امریکن اسکول میں پڑھایا، خوب پنجابی بولتی تھیں، ایک زمانے میں انور عزیز چوہدری سیالکوٹ میں بطور وکیل پریکٹس کرتے تھے ان کے ایک بھائی بشارت عزیز بھی وکیل ہیں۔

لیاقت عزیز فوج میں رہے ایک بھائی ضیاء ملتان شفٹ ہو گئے جن کے صاحبزادے جسٹس قاسم خان لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہیں۔

انور عزیز چوہدری کی بہت باتیں ہیں، دانیال عزیز کی بھی ہیں، کسی اگلے کالم میں ان کی سیاسی زندگی پر لکھوں گا اور یہ بھی بتائوں گا کہ وہ سرگودھا چھوڑ کر شکرگڑھ کیوں واپس آئے ؟ فی الحال حسن عباس رضا کا شعر پڑھئے کہ

تجھ سے بچھڑ کے سمت سفر بھولنے لگے

پھر یوں ہوا، ہم اپنا ہی گھر بھولنے لگے

تازہ ترین