آپ آف لائن ہیں
منگل12؍جمادی الثانی 1442ھ 26؍جنوری 2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

تجارتی بجٹ خسارہ بڑھا، مہنگائی کم، معیشت بحالی کی راہ پر گامزن، اقتصادی اشاریے بہتر، کورونا سے خرابی کا خطرہ بڑھ رہا ہے، وزارت خزانہ

کورونا سے خرابی کا خطرہ بڑھ رہا ہے، وزارت خزانہ


اسلام آباد(کامرس رپورٹر، جنگ نیوز) رواں مالی سال کے پہلے 4ماہ جولائی تا اکتوبر کے دوران پاکستان کی غیر ملکی ترسیلات زر میں 26.5فیصد ، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 9.1فیصد اور ٹیکس ریونیو میں 4.5فیصد اضافہ ہوا ہےجبکہ برآمدات میں 10.3 فیصداور نان ٹیکس ریونیو میں 15.2فیصد کمی ہوئی ، درآمدات بھی 4فیصد کم ہوئی ہیں۔

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں مالیاتی خسارے کا حجم 484ارب روپے ہے جبکہ گزشتہ برس اس عرصے میں بجٹ خسارے کا حجم 286ارب روپے تھا، چار ماہ کا بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 1.1فیصد ہے جو کہ گزشتہ برس اس عرصے میں 0.7فیصد تھا اس طرح گزشتہ برس کے مقابلے میں بجٹ خسارہ 198ارب روپے کااضافہ ہوا ہے۔

کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی بڑھ گیا، مہنگائی کی اوسط شرح 8.9فیصد رہی گزشتہ برس یہ 10.3فیصد تھی ،نومبر میں مہنگائی کی شرح 8.5فیصد متوقع ہے۔

دوسری جانب ایک ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.92فیصد کمی ریکارڈ، 7.48فیصد رہ گئی، 11 اشیا مہنگی 10 سستی،30کی قیمتوں میں استحکام دیکھاگیا۔

تفصیلات کےمطابق وزارت خزانہ کی جانب سے رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کی جاری اقتصادری رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معیشت بحالی کی راہ پرگامزن ہے، رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ میں اہم اقتصادی اشاریے مضبوط گروتھ کی عکاسی کررہے ہیں۔

مطلوبہ معلومات واشاریوںکی بنیادپراشیا وخدمات کے توازن میں مخدوش صورتحال کا امکان موجودنہیں ہے، ترسیلات زرمیں مسلسل اضافہ ہورہاہے جس کی وجہ سے بحالی کاسفرمحفوظ ہوگا، حکومت مہنگائی کے دباؤ کوکم کرنے کیلئے بھی اقدامات کررہی ہے۔

آئندہ مہینوں میں مہنگائی کے دبائو میں کمی آئے گی اور نومبر میں مہنگائی کی شرح 8.5فیصد متوقع ہے۔وزارت خزانہ نے کہاہے کہ دنیابھرکی طرح پاکستان میں بھی معاشی بحالی کے سفرمیں کوروناوائرس کی وبا میں اضافہ ایک بڑا خطرہ ہے۔

پاکستان کی حکومت اپنے شہریوں کی صحت کومحفوظ رکھنے کیلئے معیشت کے بعض شعبوں میں پابندیاں لگارہی ہے تاہم مخصوص اوربہترین پالیسیوں کی وجہ سے ان ضروری پابندیوں سے پیداہونے والے اقتصادی بوجھ کو کم کرنے میں مددملے گی، ویکسن کی فراہمی کی صورت میں مستقبل قریب میں اقتصادی منظرنامہ میں مثبت تبدیلیاں آئیگی۔ 

رپورٹ کے مطابق جولائی سے لیکر اکتوبر2020 تک کی مدت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زرمیں 26.5 فیصدکانمایاں اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال کے ابتدائی چارماہ میں ترسیلات زرکاحجم 7 ارب 50کروڑڈالرتھا۔

جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں ترسیلات زرکاحجم 9 ارب 40کروڑ ڈالر ریکارڈ کیاگیا تاہم اس عرصہ میں برآمدات میں کمی دیکھنے میں آئی، جولائی سے لیکر اکتوبر2020 تک کی مدت میں 7 ارب30کروڑ ڈالرکی برآمدات ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 10.3 فیصد کم ہے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ملکی برآمدات کا حجم 8 ارب20کروڑ ڈالرریکارڈکیاگیاتھا۔

اسی طرح درآمدات گزشتہ سال کے اسی عرصہ کے 14 ارب70کروڑ ڈالر کی سطح سے کم ہوکر14 ارب10کروڑ ڈالر ہوگئی ہے، درآمدات میں کمی کاتناسب 4 فیصد رہا۔ 

رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے چارماہ میں تجارتی خسارہ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ سال کے پہلے چارماہ میں تجارتی خسارہ کا حجم 6 ارب50کروڑ ڈالر تھا، جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں تجارتی خسارہ کا حجم 6 ارب70کروڑ ڈالرہے۔

اعدادوشمارکے مطابق کرنٹ اکائونٹ خسارے میں بھی اضافہ ہواہے، گزشتہ مالی سال کے پہلے چار میں کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ منفی ایک ارب40کروڑ ڈالرتھا، جاری مالی سال میں کرنٹ اکائونٹ خسارے کاحجم ایک ارب 20کروڑڈالرہے۔

جی ڈی پی کے لحاظ سے کرنٹ اکائونٹ کاتوازن ایک ارب30کروڑ ڈالررہا، رواں مالی سال کے پہلے چارماہ میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری میں 9.1 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ مالی سال کے پہلے چارہ ماہ میں ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 67کروڑ20لاکھ ڈالرتھا۔

ملک میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کاحجم 73کروڑ31لاکھ ڈالر ڈالرریکارڈکیاگیاہے،تاہم مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری میں اس عرصہ میں 62.2 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

رواں مالی سال میں زرمبادلہ کے ذخائرمیں نمایاں اضافہ ہواہے، 20 نومبر2020 کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 20 ارب 55کروڑ20لاکھ ڈالر ڈالرکی سطح پرہے۔

20 نومبر2019 کو ملکی زرمبادلہ کے ذخائرکاحجم 15 ارب 36کروڑ ڈالرتھا۔ٹیکس ریونیو بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں ایف بی آر نے 1340 ارب20کروڑ روپے کا ٹیکس ریونیو جمع کیا ، جوگزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلہ میں 4.5 فیصدزیادہ ہے۔

گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں ایف بی آرکے حاصل کردہ ریونیو کاحجم 1282 ارب10کروڑ روپے تھا، اس عرصہ میں نان ٹیکس ریونیومیں 15.2 فیصد کمی ہوئی، جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں نان ٹیکس ریونیوکی مدمیں 356 ارب روپے جمع کئے گئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں نان ٹیکس ریونیوکی مدمیں 420 ارب روپے جمع کئے گئے تھے۔

سرکاری شعبہ کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت جاری مالی سال کے پہلے چارماہ میں 299 ارب70کروڑ روپے جاری کئے گئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں پی ایس ڈی پی کی مد میں 289 ارب 20کروڑروپے جاری کئے گئے تھے۔ 

اہم خبریں سے مزید