آپ آف لائن ہیں
پیر28؍شعبان المعظم 1442ھ 12؍اپریل2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

یورپی یونین کا پولینڈ اور ہنگری کے ویٹو کے بعد بجٹ ڈیل میں سنجیدہ رکاوٹوں کا انتباہ

برسلز: سیم فلیمنگ، مہرین خان

وارسا: جیمز شوٹر

برلن: گائے چازان

یورپی یونین کونسل کے سدر نے خبردار کیا ہے کہ مالی اعانت سے منسلک شرائط پر تشویش کے حوالے سے اقدامات پر پولینڈ اور ہنگری کے ویٹو کے عزم کے بعد یورپی یونین کو 1.8 ٹریلن یورو کے بجٹ کی منظوری کے لئے سنجیدہ رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

چارلس مائیکل نے نیوز کانفرنس کا بتایا کہ یورپی یونین اس تعطل کے حل کے لئے فوری مذاکرات کا آغاز کرے گی کیوں کہ ہنگری اور پولینڈ نے یورپی یونین کی رقم کی ادائیگی کع یورپی اقدار پر عمل پیرا ہونے سے منسلک کرنے کیلئے قانون کی حکمرانی کے میکانزم کو شامل کرنے کی مخالفت کی ہے۔

ہنگری کے وزیراعظم وکٹر اوربان اور پولینڈ کے وزیراعظم میٹیوز موراویکی سمیت یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد چارلس مائیکل نے کہا کہ کوئی بھی صورتحال کی مشکلات کو کم اہم نہیں سمجھتا۔آنے والے دنوں میں مشکلات پر قابو پانے، ترقی کرنے کے لئے ایک انتہائی طریقہ کار سے کام کرنے کا عزم کیا گیا ہے تاکہ ہم اس صورتحال سے نکلیں۔

چارلس مائیکل نے ویڈیو کانفرنس کے بعد بات چیت کی، جہاں یورپی یونین کے رہنماؤں نے ویٹو کے استعمال کے بعد پہلی بار بجٹ کے بحران پر تبادلہ خیال کیا۔سفارتکاروں نے کہا کہ 15 منٹ کا سرسری سا تبادلہ خیال کسی فوری پیشرفت کی تلاش کی بجائے کشیدگی کم کرنے کی ایک کوشش تھی۔

اجلاس کے بعد جرمن چانسلر اینگلا مارکل نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ تعطل کے خاتمے کے لئے بات چیت کا ااغاز ہوگیا تھا اور انہوں نے اس خیال کی تردید کی کہ یورپی یونین ہنگری اور پولینڈ کی دھمکیوں پر توجہ دے رہا ہے۔

اینگلا مرکل نے کہا کہ میرے خیال سےاس تناظر میں لفظ دھمکی کا استعمال درست نہیں۔ہم اس صورتحال سے نکلنے کیلئے طریقے تلاش کرنے کے پابند ہیں۔ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جسے ہمیں حل کرنا ہی ہوگا اور ہم اس کے لئے پورے خلوص کے ساتھ اور سخت محنت کریں گے۔

یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لین نے کہا کہ اب ہم بیٹھ کر مذاکرات کرتے ہیں، ہم سنتے ہیں کہ معاملات کیا ہیں اور ہم ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تمام رہنما اب 10 اور 11 دسمبر کو اہم اجلاس میں ملاقات کریں گے۔

یورپی یونین میںشامل حکومتیں اور ارکان یورپی پارلیمان نے رواں ماہ ایک معاہدہ کیا تھا تاکہ فنڈز تک رسائی کو بلاک کے اصولوں کا احترام کرنے کے ساتھ منسلک کیا جائے، جس میں عدلیہ کی آزادی بھی شامل ہے، اس اقدام کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ یورپی یونین کو تنگ نظری کی جانب جھکاؤ والے ممالک کے خلاف مزاحمت کے لئے ایک طاقتورہتھیار فراہم کرے گا۔

تاہم،پولینڈ اور ہنگری جو قانون کی حکمرانی کے حوالے سے دونوں ہی یورپی یونین کے تادیبی طریقہ کار کی زد میں ہیں،میکانزم پر احتجاج میں بجٹ کی توثیق کی مخالفت کردی،جس نے عہدیداروں کو ان اقدامات کی بحالی کے لئے طریقے تلاش کرنے کے لئے جلد حرکت میں آنے پر مجبور کردیا جو بلاک کی شدید متاثر معیشتوں کو ٹھیک کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں۔یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ اس کا میکانزم کے مسودے میں ترمیم کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یورپی سربراہی اجلاس سے پہلے پولینڈ کی پارلیمنٹ نے مذاکرات میں حکومتی مؤقف کی حمایت میں قرداد جاری کی ہے۔پارلیمنٹ نے کسی ایسے حل کو قبول نہ کرنے پر اتفاق کیا جس سے یورپی یونین کے رکن ممالک کو ان کے حقوق کے لئے احترام کی ضمانت نہیں لتی جو یورپی یونین کے معاہدوں میں شامل ہے۔

قرارداد میں پولینڈ کی حکومت کی اس تنقید کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اگر رکن ممالک کی اکثریت نے اس میکانزم کی منظوری دے دی تو یہ میکانزم پولینڈ پر سیاسی حملوں کی راہ ہموار کرے گا۔

پولینڈ کے وزیراعظم مسٹر موراویکی نے ایک انتہائی جذباتی تقریر میں یورپی یونین پر قانون کی حکمرانی کو اپنے ملک کے خلاف پروپیگنڈہ اسٹیک کے طور پر استعمال کرنے کا الزام عائد کیا،اور بلاک کے اقدامات کا موازنہ پولینڈ کی سابق اشتراکی آمریت سے کیا۔

اس مسئلے کے حل کو حل کرنے اور آئندہ ہفتوں میں یورپی یونین کے سات سالہ بجٹ کی توثیق کرنے میں ناکام ہونے خود پولینڈ اور ہنگری سمیت یورپی یونین کےرکن ممالک پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوں گے۔

دسمبر کے اوائل میں بجٹ معاہدے کے بغیر یورپی یونین کو 2021 کے لئے ہنگامی اخراجات کے پروگرام کا سہارا لینا پڑے گا۔یہ نام نہاد عارضی بارہواں سالانہ بجٹ بلاک کے 2020 ء کے اخراجات کی حدود میں توسیع کرے گا تاہم رقم کے بہاؤ کو کچھ مخصوص شعبوں میں جانے کی اجازت دے گا۔موجودہ منصوبوں کے لئے ادائیگی کا ربط جاری رہے گا، لیکن خاص طور پر یورپی یونین کے غریب ممالک کو متاثر ہونے سے بچانے کیلئے نئے منصوبے شروع نہیں کیے جائیں گے۔

یورپی یونین کے 750 ارب یورو کے وسولی فنڈ میں تاخیر سے دباؤ اور بڑھ جائے گا،جس سے فائدہ اٹھانے والوں میں پولینڈ اور ہنگری بھی شامل ہیں۔

فنانشل ٹائمز سے مزید