آپ آف لائن ہیں
جمعہ20؍ رجب المرجب 1442ھ 5؍مارچ2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
,

فلم انڈسٹری پر راج کرنے والی وراسٹائل اداکارہ ’’ریما‘‘

ریما خان نے جاوید فاضل کی ’’بلندی‘‘ 1990ء میں شان شاہد کے ساتھ متاثر کن پرفارمنس کےساتھ ڈیبیو کیا۔ ایک آرٹسٹ کے کردار کی موزوں ادائیگی اپنی جگہ، لیکن ایک خُوب صورت سیمی کلاسیکل انداز کا رقص اس فلم سے ریما خان کا ایک مضبوط اور قابل ذکر حوالہ بنا، کیوں نہ بنتا، وہ رقص کے لزت بھائو میں پُوری سیکھ اور بھرپور مہارت لے کر ہی تو فلم ’’بلندی‘‘ تک پہنچی تھیں۔ ’’بلندی‘‘ اپنی جملہ خوبیوں کی بدولت باکس آفس پر خاطر خواہ کام یاب رہی، لیکن گولڈن کے ہدف سے چند قدم مفاصل رہ گئی۔ شمیم آرا کی ’’ہاتھی میرے ساتھی‘‘ 1993ء ایک ایسے وقت میں سامنے آئی کہ جب غیرمعیاری ڈبل ورژن فلمیں کی بہتات تھی۔

فلم کا میوزک قدر معیاری تھا۔ کہانی دل چسپ تھی۔ ہر چند کہ شمیم آرا کی ڈائریکشن کا معیار واجبی ہی تھا، لیکن ریما کے لیے کچھ مناظر میں کرنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ ایک منظر میں ریما نے پوری توانائی کے ساتھ بالکل نیچرل پرفارمنس دی اور اُن ناقدین کو خاموش کر دیا کہ جو ریماکو فیس ایکسپریشنز دینے کی صلاحیت اور مشکل کردار نگاری کے جوہر سے ناآشنا و نابلبد خیال کرتے تھے۔ ’’ہاتھی میرے ساتھی‘‘ نے باکس آفس پر حیران کُن کام یابی حاصل کی اور ساتھ ہی متعدد نگار ایوارڈز اپنے نام کیے، جن میں بہترین اداکارہ ریما برائے اردو فلم 1993ء کا ایوارڈ بھی ریما کی شاندار کارکردگی کا مظہر تھا۔ 1994ء کی ریلیز ہدایت کار الطاف حسین کی ڈبل ورژن ڈرامائی تخلیق ’’رانی بیٹی راج کرے گی‘‘ ریما کے لیے ایک چیلنجنگ نوعیت کے کردار کی حامل فلم تھی۔ 

ایک مظلوم لڑکی، جسے میکے میں ملنے والے بے حساب سُکھ اور خوشیوں کے عیوض سسرال پہنچ کر روایتی ظلم و ستم اور رنج و الم سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کردار کی ادائیگی ریما نے اس محنت اور مہارت سے کی کہ اس بار وہ بہترین اداکارہ برائے پنجابی فلم 1994ء کے لیے قرار پائیں۔ بریلینٹ فلم میکر سید نور کی شاندار تخلیق ’’چور مچائے شور‘‘ میں وہ ایک مکمل رومینٹک رول میں جلوہ گر ہوئیں اور اپنی خوب صورت رومان انگیز کردار نگاری کے جابجا دل کش نقوش چھوڑے۔ 

خاص طور پر ان پر پکچرائز گیت ’’او صنم ۔ او صنم مسکرا اوصنم‘‘ میں ان کی انتہائی موزوں ڈریسنگ کے ساتھ ہلکا پھلکا دلآویز رقص اور دلربا ایکسپریشنز پر فلم بین کے دل کو موہ لینے کے لیے ناکافی نہیں تھے۔ ’’چور مچائے شور‘‘ نے بھی باکس آفس پر مثالی بزنس کیا۔ اس فلم میں ان کے ہیرو بابر علی تھے۔ دونوں کا پیئر جس قدر دل کش اس فلم میں نظر آیا دوسری فلموں میں اس سے کم کم ہی نظر آیا۔ 

یہ فلم 1995ء کی ریلیز تھی۔ یہ سال ریما کے لیے بے حد لکی تھا کہ اس سال ان کی متعدد فلموں میں جن میں لو 95ء، معاملہ گڑ بڑ ہے۔ ہم چلے سسرال، ہوائیں اور مذکورہ فلم شامل ہے، نے باکس آفس پر دھواں دھار کامیابیاں حاصل کیں۔ 

’’ہوائیں‘‘ نے معیار اور بزنس دونوں حوالے سے اے کلاس حاصل کی۔ ’’چور مچائے شور‘‘ اور ’’ہوائیں‘‘ 1995ء سے قبل ہمیں 1994ء کی ریلیز ’’منڈا بگڑا جائے‘‘ تذکرہ بھی کرنا تھا کہ اس فلم نے گوکہ معیار کے حوالےسے یعنی اسکرپٹ، ڈائریکشن یا کردار نگاری کے حوالے سے ناقدین کو قطعی متاثر نہیں کیا، بلکہ اسے ایک عامیانہ فلم گردانا گیا، لیکن اس فلم کے تمام وابستہ فن کاروں اور تیکنک کاروں کو ایک تاریخی کریڈٹ ملا اور فلم کی فرسٹ ہیروئن ہونے کے ناطے ریما خان کو بھی پاکستانی سنیما کی تاریخ میں یہ منفرد اعزاز اس فلم کے تعلق سے میسر آیا کہ اس فلم نے فلم بزنس کے دونوں بڑے مراکز لاہور اور کراچی میں شان دار ڈائمنڈ جوبلی منائی۔ 

پاکستان فلم بزنس کی 73-72ء تاریخ میں یہ منفرد اعزاز اسی فلم کا ہے یُوں ریما، وہ واحد ہیروئن ٹھہریں کہ ان کی کسی فلم نے دونوں بڑے سرکٹس میں باکس آفس بزنس کا ہائی لیول سنگ میل ڈائمنڈ جوبلی عبور کیا۔ 1998ء ریما کے فنی کیریئر میں کلیدی اہمیت کا حامل سال تھا کہ اس سال ان کے حصے میں انتہائی مشکل چیلنجنگ اور طاقت ور کردار تین مختلف اہم ترین فلموں سے آئے۔

فلمیں تھیں، سید نور کی ’’زیور‘‘ سنگیتا بیگم کی ’’نکاح‘‘ اور مسعود بٹ کی ’’نکی جئی ہاں، سید نور کی زیور کی کہانی گو ماضی کی فلموں ’’بدنام‘‘ اور ’’شیشے کا گھر‘‘ سے متاثر سکونسس کی حامل تھی، لیکن شاہ جی نے فلم کا اسکرپٹ بڑی محنت اور مہارت سے رقم کیا تھا اور فلم کو معیاری و مضبوط ٹریٹمنٹ سے سجایا تھا۔ فلم میں ریما کا کردار ٹوٹلی منفی نوعیت کا حامل تھا۔ 

ایک لالچی، خود غرض اور خود پرست لڑکی کا کردار، جس کی نظر میں رشتوں سے زیادہ مقدم دولت مال و اسباب اور پُر عیش زندگی ہے اور یہی منفی سوچ اُسے اور اس کے آشیانے کو بھیانک تباہی اور ذلت سے دوچار کر دیتی ہے۔ ریما نے اس قابل نفرت اور نیگیٹیو کردار میں حیران کن حد تک معیاری اور چونکا دینے والی کارکردگی دکھائی۔ 

مذکور دوسری فلم ’’نکاح‘‘ جو کسی حد تک ماضی کی شان دار فلم ’’آئینہ‘‘ سے متاثر تھی، لیکن بلاشبہ سنگیتا کے کریڈٹ پر ایک بلند معیار کی حامل فلم شمار کی جاسکتی ہے۔ ریما نے اس فلم میں بھی پہلے ہاف پہلے نصف میں ہلکی پھلکی کردار نگاری اور دوسرے نصف میں بہت ہی اعلیٰ جذباتی کارکردگی کے مظاہر پیش کرکے اپنی فنی مہارت و مشاقی کا لوہا منوایا۔ ’’نکاح‘‘ سے ریما نے بہترین اداکارہ برائے1998ء کا نگار ایوارڈ بھی جیتا۔ 

اسی سال ’’نکی جی ہاں‘‘ میں ان کی پرفارمنس کا تقابل صائمہ جیسی بہترین اور پختہ کار فن کارہ سے تھا۔ جذبات نگاری میں بلاشبہ صائمہ کا کیلیبر بے حد بلند ہے، لیکن اس کے باوجود ریما نے پورے اعتماد سے اور جم کر صائمہ کے حامل اپنے کردار کی ادائیگی کی ۔ 2000ء میں شان نے اپنی انتہائی دل کش معیاری میوزیکل فلم ’’مجھے چاند چاہیے‘‘ میں ’’ریما‘‘ کو ایک ایسی حسینہ کے روپ میں پیش کیا کہ جو لڑکے کا روپ دھارے زندگی بستر کرتی ہے۔ اور ایسا وہ شوقیہ نہیں معاشی ضرورت کے تحت کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ 

2005ء کی ریلیز ’’کوئی مجھ سے کہاں‘‘ ریما کے فن کا نقطہ کمال تھا۔ 2011ء میں ریما نے بہ طور ڈائریکٹر ’’لو میں گم‘‘ بنائی، جو ان کی ترقی معکوس کا اشارہ تھی۔ اسی سال ریما نے زندگی کا ایک بڑا فیصلہ کیا اور امریکا کے ماہر قلب ڈاکٹر طارق شہاب کو اپنا جیون ساتھی چُنا اور ایک شان دار ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ 

2015ء میں بیٹے کو جنم دیا۔ ریما گو اب فلمیں نہیں کررہی ، لیکن شوبز سے کسی نہ کسی صورت جڑی ہوئی ہیں۔ تقریبات میں، اشتہارات میں یا پیغامات میں گاہے بہ گاہے وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہتی ہیں، گفتگو کا سلیقہ، مناسب میک اپ اور موزوں دیدہ زیب ملبوسات کا استعمال ریما کو اپنی ہم عصر تمام فنکارائوں سے منفرد اور ممتاز بناتا ہے۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید