آپ آف لائن ہیں
اتوار3؍جمادی الثانی 1442ھ 17؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

نوول کورونا وائرس کووڈ۔19 کی دریافت کا ایک سال ہونےکو ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں جب چینی حکام نے ایک نئی وبائی بیماری کا پتہ لگایا تو انھوں نے ملک میں قائم ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے دفتر کو اسکی اطلاع دیدی۔ کچھ دنوں کے بعد گزشتہ جنوری کے اوائل میں وباکو حتمی طور پرشناخت کرلیا گیا تھا جس کے ساتھ ہی لیبارٹری ٹیسٹنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا جو وباکے بےتحاشا پھیلنے کیساتھ ہی پوری دنیا میں پھیل گیا اور ہنوز جاری ہے۔ اس دوران امریکہ کی قیادت میں مغربی ممالک نے چین پر پہلے پہل بیماری کو چھپانے کا الزام لگایاکہ اس وجہ سے یہ پوری دنیا میں پھیلی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی حکام کی نااہلی کی وجہ سے یہ وبائی مرض شدت سے پھیلا مگر امریکی صدر حالات کو قابو میں کرنےکے بجائے چین پر کھلے عام الزامات کی بوچھاڑ کرتے رہے اور بار بار کورونا کو چائنیز وائرس کا نام دیتے رہے جسے بعد میں دیگر حلیف ممالک اور میڈیا نے بھی اپنے اپنے انداز میں اچھالا۔ چینی حکام کےمطابق وائرس کے بارے میں ایسی اطلاعات کی ترویج دراصل چین کیخلاف ایک نئی جنگ کا آغاز ہے جسکا بنیادی مقصد دنیا میں اسکے بڑھتے ہوئے اثر و نفوذ کو کم کرنا ہے۔ اسکے جواب میں اب چینی حکام نے بھی ایک زوردار مہم شروع کردی ہے جسکا مقصد انکے ملک کے حوالے سے ان الزامات کی تردید کیساتھ ساتھ ایک نئے بیانیے کی تشکیل ہے۔ سینئر چینی حکام اور سرکاری ذرائع ابلاغ اب سختی سے یہ دعوے کر رہے ہیں کہ اصل میں وائرس چین سے نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے کسی اور ملک سے پھیلا ہے۔ اس سے پہلے یہ بھی اطلاعات آئی تھیں کہ چین میں وائرس کی تشخیص سے کئی مہینے پہلے کورونا ایک یورپی ملک کے سیوریج سسٹم میں پایا گیا تھا۔ اسکے علاوہ چینی میڈیا میں یہ بھی دعویٰ کیا جارہا ہے کہ گزشتہ دسمبر سے بہت پہلے وائرس کے نمونے بیرونی ممالک سے درآمد شدہ یخ بستہ کھانوں کی پیکیجنگ پر پائے گئے تھے۔ بہرحال حقیقت کچھ بھی ہو چینی قیادت نے اس پر بہت جلد قابو پالیا اور وہ دنیا کے مقابلے میں اپنی معیشت کو دوبارہ بحال کرنے میں کامیاب بھی ہوگیا۔

اب وبا کی دوسری لہر نے آدھی سے زیادہ دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی شدت کا اندازہ رونما ہونے والی ہلاکتوں سے لگایا جاسکتا ہے۔ پاکستان میں اگرچہ پہلی لہر سے قدرے بہتری سے نپٹا گیا جسکی وجہ سے ہلاکتیں دیگر ممالک کی نسبت کافی کم رہیں۔ حکومت کے بروقت اقدامات کی عالمی سطح پر بھی پذیرائی ہوئی مگر اب دوسری لہر میں شاید اس تجربے کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہورہا کیونکہ مرنے والوں کی تعداد میں بدستور اضافہ ہورہا ہے۔ مزید برآں لوگ اب پہلے کے مقابلے میں حفاظتی احتیاطی تدابیر کو بھی صرف نظر کرتے آرہے ہیں۔ آئے روز عوامی اجتماعات جن میں بڑے سیاسی جلسے، تجہیز و تدفین کے جلوس اور سرکاری تقریبات معمول بلکہ معمول سے بڑھ کر جاری ہیں۔ سرکاری حکام ، مذہبی رہنماؤں اور سیاستدانوں کی جانب سے ذاتی یا تنظیمی طاقت کے مظاہرے یا تشہیر کیلئے عام افراد کی زندگیوں سے اسقدر بیزاری نہایت افسوسناک ہے جسکے مستقبل قریب میں خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں تبلیغی جماعت واقعی مبارکباد اور پذیرائی کی مستحق ہے جنھوں نے عوامی اجتماعات کے انعقاد میں تدبر اور دانشمندی کا مظاہرہ کرکے نومبر کے اوائل میں رائیونڈ میں اپنے سالانہ اجتماع کو نہ صرف انتہائی محدود کردیا بلکہ ملک بھر میں اپنے تمام مراکز میںبھی کورونا سے بچاؤ کے تمام اقدامات پر سختی سے عمل کرنے پر زور دیا۔ اسکے علاوہ جماعت سے تعلق رکھنے والے کئی علماء نے کورونا کے پھیلاؤ کیلئے حکومت کی طرف سے جاری حفاظتی اقدامات کو شرعی نقطہ نگاہ سے ہر مسلمان پر واجب قرار دیا کیونکہ بقول انکے انکا مقصد انسانی جانوں کی حفاظت ہے۔

وائرس کو قابو میں کرنے کیلئے کئی ممالک میں اسکی ویکسین دریافت کرنے کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے۔ مغربی ممالک کیساتھ ساتھ چین، روس، ترکی اور بھارت میں بھی اس پر شدومد سے کام ہورہا ہے۔ ایک یورپی کمپنی کی طرف سے کامیاب تجربوں کے دعوؤں کے بعد کئی امیر ممالک نے اربوں ڈالرمالیت کی ویکسین آرڈر کردی ہے مگر انکی کامیابی کے بارے میں ابھی تک کئی شکوک و شبہات ہیں۔ حال ہی میں بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کےمطابق ایک چالیس سالہ بھارتی شخص مذکورہ یورپی ویکسین کے رضاکارانہ تجربے کے دوران خطرناک ری ایکشن کا شکار ہوگیا اور اسکی صحت کافی متاثر ہوگئی مگر معاملے کو حکومت اور کمپنی کی جانب سے دبادیا گیا، اس سے نہ صرف کافی شکوک و شبہات پیدا ہوگئے ہیں بلکہ ویکسین کی مخالفت میں دنیا بھر میں فعال کئی سول سوسائٹی گروپوں کے بیانیے کو بھی تقویت ملی ہے۔

تازہ ترین