آپ آف لائن ہیں
پیر4؍جمادی الثانی 1442ھ 18؍جنوری2021ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سبزی اور پھل کھانے سے شوگر سے کتنا بچ سکتے ہیں؟

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ اگر پھل اور سبزیوں کو بہت کم مقدار میں بھی کھایا جائے تو اس سے بھی شوگر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔ روزانہ صرف 66 گرام پھل اور سبزی کھانے سےشوگر کا خطرہ 25 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تحقیق کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی ہے جبکہ اس سے قبل ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ مکمل اناج کا استعمال شوگر سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔

ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ 66 گرام سبزی کا مطلب سبزیوں سے بھرے تین بڑے چمچے یا ایک سیب ہوتا ہے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے اس کی تفصیلات برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کی ہیں۔ اسی سے وابستہ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مکمل اناج بھی شوگر کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر مکمل اناج کا بسکٹ یا دلیہ ناشتے کے طور پر کھالیا جائے تو اس سے شوگر ہونے کا خطرہ 20 فیصد تک ٹل سکتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کے مطالعے میں سائنسدانوں نےشوگر کے 9,754 مریضوں کا موازنہ ایسے 13,662 افراد سے کیا جنہیں شوگر نہیں تھی۔

ان افراد کے خون میں وٹامن سی اور کیروٹینوئڈز کا جائزہ لیا گیا جو پودوں کی عام رنگت کی تشکیل کرتا ہے اور یہ پھلوں اور سبزیوں میں عام پایا جاتا ہے۔ خون میں ان کی موجودگی جسم میں پھلوں اور سبزیوں کو ثابت کرتی ہیں۔

یہ تحقیق یورپی تحقیق برائے کینسر اور غذائی پروگرام کے تحت کی گئی ہے جس میں آٹھ یورپی ممالک شامل تھے۔ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر سبزیوں اور پھلوں کی مقدار بڑھائی جائے (یعنی 500 گرام روزانہ) تو شوگر کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب اگر آپ مکمل اناج، دلیے، اوٹ میل اور سیریئل وغیرہ کی مقدار اپنی غذا میں بڑھاتے ہیں تو عین اسی تناسب سے شوگر آپ سے دور ہوتی جائے گی۔ اچھی بات یہ ہے مکمل اناج سے موٹاپا بھی دور رہتا ہے اور موٹاپا خود شوگر کا ہی دوسرا نام ہے۔ اس طرح شوگر کا شکار ہونے کی شرح 19 سے 21 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔

ماہرین اسی لیے براؤن بریڈ کھانے پر زور دیتے ہیں جبکہ اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ غذائیں شوگر کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کی معمولی مقدار پر بھی بڑے مثبت اثرات مرتب کرسکتی ہیں۔

صحت سے مزید